Blog

Archive for قرآن مجید

تفسیر و شواہد قرآنی (اہل تشیع)

نام : تفسیر و شواہد قرآنی اما م خمینی کے آثار میں
مترجم و مؤلف : شیخ محدا علی توحیدی
مطبوعہ : معراج کمپنی
ایڈیشن : 2015
زیر نظر کتاب امام خمینی کی گفتگو اور تحریروں میں مذکور تفسیری نکات و مباحث اور تطبیقات و استشہادات پر مشتمل ہے۔ اس میں تفسیری نکات قرآنی سورتوں کی ترتیب سے جمع کیے گئے ہیں۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

تفسیر نمونہ (اہل تشیع)

مصنف کا تعارف
علامہ سید صفدر حسین نجفی 1932 ء میں ضلع مظفرگڑھ پاکستان میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سید غلام سرور نقوی (رح) بھی ایک نیک انسان تھے۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اسی جگہ حاصل کی پھر اعلی تعلیم کے لیئے نجف اشرف چلے گئے ۔
1955 ء میں پاکستان آکر انہوں نے قومی امور میں اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ اس تاریخ سے اپنی وفات تک انہوں نے دینی مدارس کا ایک وسیع سلسلہ پاکستان بھر میں پھیلا دیا اور بیرون ممالک میں بھی دینی مدارس بنائے۔ علامہ عارف حسین الحسینی آپ کے شاگردوں میں سے ہیں۔
انہوں 100 سے زیادہ کتب اردو میں لکھیں۔ ایران کے اسلامی انقلاب کو پاکستان میں متعارف کروانے میں آپ نے اہم کردار ادا کیا۔ جب امام خمینی کو پاکستان میں کوئی نہ جانتا تھا تو آپ نے لوگوں کو ان کے نظریات اور انقلابی تحریک سے روشناس کروایا ۔ آپ نے دسمبر 1989 ء کو لاہور میں وفات پائی اور اس وقت تک پاکستان کے سب سے بڑے شیعہ دینی ادارے کے سربراہ رہے۔
کتاب کی خصوصیات
مصنف نے دیباچہ کتاب میں تفسیر ھذا کی مذکورہ خصوصیات لکھی ہیں
1 ۔ قرآن چونکہ کتاب زندگی ہے۔ اس لیے آیات کی ادبی و عرفانی وغیرہ تفسیر کے زندگی کے مادی، معنوی، تعمیر نو کرنے والے، اصلاح کنندہ، زندگی سنوارنے والے اور بالخصوص اجتماعی مسائل کی طرف توجہ دی گئی ہے۔ اور زیادہ تر انہی مسائل کا تذکرہ کیا گیا ہے جو فرد اور معاشرے کی زندگی سے نزدیک کا تعلق رکھتے ہیں۔
2 ۔ آیات میں بیان کیے گئے عنوانات کو ہر آیت کے ذیل میں جچی تلی اور مستقل بحث کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ مثلا سود، غلامی، عورتوں کے حقوق، حج کا فلسفہ، قمار بازی کی حرمت کے اسرار، شراب، سور کا گوشت، جہاد اسلامی کے ارکان و اہداف وغیرہ کے موضوعات پر بحث کی گئی ہے تاکہ قارئین ایک اجمالی مطالعے کے لیے دوسری کتب کی طرف رجوع کرنے سے بےنیاز ہوجائیں۔
3 ۔ کوشش کی گئی ہے کہ آیات ذیل میں ترجمہ رواں، سلیس منہ بولتا لیکن گہرا اور اپنی نوع کے لحاظ سے پرکشش اور قابل فہم ہو۔
4 ۔ لاحاصل ادبی بحثوں میں پڑنے کی بجائے خصوصی توجہ اصلی لغوی معانی اور آیات کے شان نزول کی طرف دی گئی ہے کیونکہ قرآن کے دقیق معانی سمجھنے کے لیے یہ دونوں چیزیں زیادہ موثر ہیں۔
5 ۔ مختلف اشکالات، اعتراضات اور سوالات جو بعض اوقات اسلام کے اصول و فروع کے بارے میں کیے جاتے ہیں ہر آیت کی مناسبت سے ان کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کا جچا تلا اور مختصر سا جواب دے دیا گیا ہے۔
6 ۔ ایسی پیچیدہ علمی اصطلاحات جن کے نتیجے میں کتاب ایک خاص صنف سے مخصوص ہوجائے ، سے دوری اختیار کی گئی ہے۔ البتہ ضرورت کے وقت علمی اصطلاح کا ذکر کرنے کے بعد اس کی واضح تفسیر و تشریح کردی گئی ہے۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

تفسیر فیضان الرحمن (اہل تشیع)

نام : فیضان الرحمن فی تفسیر القرآن
مصنف : شیخ محمد حسین النجفی
ناشر : مصباح القرآن ٹرسٹ :
ایڈیشن : 2015
یہ تفسیری مجموعہ شیح محمد حسین النجی کی مساعی جمیلہ اور شب و روز کی محنت کا ثمر نایاب ہے۔ اس کے بارے مصنف لکھتے ہیں :
قرآن مجید چونکہ علوم و فونون اور معارف و حقائق کا وہ سمند رہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ہے اس لیے اب تک ہر مفسر نے اپنے علم و ذوق و شوق کے مطابق اس بحر ناپید اکنار میں شن اوری کرکے اس سے آبدار موتی و مونگے برآمد کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مفسرین نے نحوی و ادبی نکات سے اپنی تفسیر کو بھر دیا ہے۔ جیسے علامہ طبرسی اور فاضل زمخشری، کسی کے ہاں علم کلام و جدال کی بھر مار ہے جیسے علام فخر الدین رازی اور فاضل ابو الفتوح ، کسی نے قصص و حکایات اور تاریخی واقعات پر زیادہ توجہ ہے اور اپنی تفسیر کو ان سے لبریز کردیا ہے جیسے علامہ طبری کی تفسیر ابن جریر و تفسیر ثعلبی اور سید ہاشم بحرانی کی البرہان، کسی نے اپنی توجہ کا مرکز طبعی علوم کو قرار دے کر اپنی تفسیر کو فلکیات و ارضیات اور دیگر طبیعات سے پر کردیا ہے جیسے فاضل طنطاوی اور ان کی تفسیر جواہر۔
ہم نے ہر قسم کے افراط و تفریط سے اپنے دامن کو بچاتے ہوئے سب سے پہلے تو تفسیر قرآن میں خود قرآن اور تمام اسلامی علوم کی سرسبز روشوں سے فیض حاصل کرتے ہوئے قرآنی مطالب و معانی کی تشریح اس کے اجمالی حقائق کی توضیح اور اس کے بیان کردہ عقائد و احکام اور اوامر و نواہی کی تفسیر پر اکتفا کیا ہے۔
۔۔۔
مصنف کا تعارف :
علامہ الشیخ محمد حسین النجفی مد ظلہ العالی کی ولادت تقریبا ” اپریل 1932 ء میں بمقام جہانیاں شاہ ضلع سرگودھا کے ایک جٹ زمیندار اور علمی خانوادہ ” ڈھکو ” میں ھوئ۔
شیخ محمد حسین نجفی پاکستان کے شیعہ مرجع مجتہد ہیں اور برصغیر کے شیعہ مراجع میں آیت اللہ سید علی نقی نقوی لکھنوی کے بعد مقام مرجعیت پر فائز ہوئے ہیں۔ جو سرگودھا اور پنجاب کے دیگر شہروں میں مدارس کی سرپرستی کر رہے ہیں۔
ابتدائی تعلیم مدرسہ محمدیہ جلالپور ننکیانہ ضلع سرگودھا حاصل کی ۔ پھر 1947 ء میں بدرھرجبانہ ضلع جھنگ میں استاد العلماء حضرت آیۃ اللہ علامہ محمد باقر صاحب قبلہ چکڑالوی کے زیر سایہ درس نظامی کا وسطائ حصہ پڑھا ۔ 1949 ء میں جلالپور آگئے اور مسلسل پانچ سال تک اس فاضل جلیل سے حضرت آيۃ اللہ علامہ سید محمد یار شاہ صاحب اپنی علمی پیاس بجھائ یعنی درس نظامی کی انتہائ کتابیں جس میں تمام علوم ادبیہ و منقولات کے علاوہ معقولات میں قطبی مسلم العلوم اور اس کے بعض شروع مبیذی و شمش بازغہ وغیرہ سرکار موصوف سے پڑھیں، علاوہ بریں شرائع الاسلام اور شرح لمعہ جلدین اور معالم الاصول وغیرہ بھی انہیں سے پڑھیں۔ اس دوران 1953 ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ اور اپنے علمی شوق و ذوق کی تکمیل اور اپنے استاد محترم کی تحریک و تشویق پر 1954 ء میں حوزہ علمیہ نجف اشرف (عراق) تشریف لے گئے اور وھاں سطحیات پڑھنے کے لیے خصوصی درسوں کا انتظام کیا یعنی کفایہ، رسائل اور مکاسب استاد العلماء سید ابوالقاسم بہشتی سے پڑھیں اور شرح منظومہ کی جلدین جناب آقائے فاضل سے پڑھیں، اور علم ہیئت کی شرح چغمینی آقائے سید مرعشی سے پڑھیں۔ اور اسفار اربعہ کے کچھ درس آقائے ملا صدرا نجفی سے لیے۔ الضرض اندرون ملک اور بیرون ملک ان فنون کے پڑھنے پر زیادہ توجہ دی جن کی اپنے ملک و ملت کو زیادہ ضرورت ہے اور سطحیات سے فراغت کے بعد درس خارج شروع کیا جو کہ اصول فقہ میں سید المجتہدین آقائے سید جواد تبریزی اور استاذ المجتہدین آقائ مرزا محمد باقر زنجانی کے علمی درس میں شرکت کی اور فقہ میں سرکار آیت اللہ محمود شاھرودی اور مرجع اکبر آیت اللہ آقائے سید محسن الحکیم کی خدمت میں زانوئے تلمز تہ کیا۔ الغرض اس دوران موصوف پڑھتے بھی رھے اور پاکستانی طلبہ کو پڑھاتے بھی رھے اور بالآخر شب و روز کی محنت شاقہ کے نتیجے میں بفضلہ تعالیٰ وھاں کے اعلام سے اجازہ ھائے اجتہاد لے کر مدرسہ محمدیہ سرگودھا کی دعوت پر 1960 ء میں پاکستان تشریف لائے اور قریبا ” بارہ سال تک وھاں پر نسپل کے فرائض انجام دیے اور اس طرح سیکڑوں طلبہ علوم دینیہ کی پیاس بجھائ۔ والحمد للہ۔
آپ ایک خاص طرز خطابت اور مخصوص طرز نگارش اور محققانہ طرز تدریس کے مالک ھیں، اندرون و بیرون ملک آپ کی ہزاروں تقریریں اور اسلامیات کے ھر مو‌ضوع پر بیسیوں کتب و رسائل اور بےانداز تحریریں موجود ہیں
آپ نے سرگودھا شہر میں ایک بڑا علمی مدرسہ بنام جامعۂ علمیہ سلطان المدارس الاسلامیہ ربع صدی سے جاری کر رکھا ہے۔ جسمیں پانچ مدرسینِ عظام فرائضِ تدریس انجام دے رہے ہیں اور بفضلہٖ تعالیٰ مدرسہ شاہراہِ ترقی پر گامزن ہے اور اپنی ایک انفرادی حیثیت رکھتا ہے

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

تفسیر فرات (اہل تشیع)

حالات مؤلف تفسیر ھذا
شیخ المحدثین علامہ فرات بن ابراہیم بن فرات کوفی کا شمار تیسری صدی ہجری کے علمائے محدثین میں ہوتا ہے، آقا صدر نے اپنی کتاب الشیعہ وفنون الاسلام میں فرمایا ہے کہ آپ امام محمد تقی (علیہ السلام) کے ہم زمانہ تھے۔ اس بات کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ آپ نے حسین بن سعید کوفی اہوازی نزیل مکہ مشرفہ سے بہت زیادہ احادیث روایت کی ہیں، حسین بن سعید کا انتقال مکہ میں ہوا، آپ نے تیس کتب تالیف فرمائیں، آپ امام رضا جواد اور ہادی (علیہ السلام) کے صحابی ہیں۔ فرات نے جعفر بن محمد بن مالک بزاز فرازی کوفی متوفی 300 ھ سے اور عبید بن کثیر عامری کوفی متوفی 394 ھ مؤلف کتاب التخریج سے کافی احادیث نقل کی ہیں۔
اس بات کا بھی امکان ہے کہ آپ چوتھی صدی ہجری کے شروع تک زندہ رہے ہوں، بحار الانوار میں علامہ مجلسی، ریاض العلماء میں میرزا عبد اللہ آفندی اصبھانی نے آپ کا ذکر محدث اور مفسر کی حیثیت سے کیا ہے، اس رائے کا مندرجہ ذیل علماء نے اظہار کیا ہے۔
کچھ کتاب کے بارے میں :
اس کتاب کی تالیف سے لے کر آج تک تمام علماء نے اس پر اعتماد کیا ہے، اس تفسیر کے معتبر ہونے میں اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ ابوالحسن علی بن حسین بن موسیٰ ابن بابویہ قمی والد شیخ صدوق علیہ الرحمہ جیسے جلیل القدر اور ثقہ عالم نے اس سے روایت نقل کی ہے، نیز آپ کے فرزند رئیس المحدثین شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب امالی اور کتاب اخبار الزہرا وغیرہ میں احادیث کو نقل فرمایا ہے، کبھی اپنے شیخ حسن بن سعید ہاشمی اور کبھی اپنے والد کے وسائط سے روایت کرتے ہیں۔
شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے ہے اپنے والد کے بعد اس تفسیر کو کس قدر معتبر گردانا اس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے بہت سی احادیث کو اس سے نقل فرمایا۔ یہ اس کتاب کے معتبر ہونے کی سب سے بڑی واضح اور معتبر دلیل ہے۔ شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اس کتاب کو ترجیح دی اور درست اور غلط کی تمیز کا معیار قرار دیا۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

تفسیر فصل الخطاب (اہل تشیع)

نام : تفسیر فصل الخطاب
مصنف : مولانا سید علی نقی النقوی
ناشر : مصباح القرآن ٹرسٹ
ایڈیشن : 2015
تفسیر ہذا کی خاص بات اس کا تفسیری ترجمہ ہے۔
مصنف کسی بھی آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے صرف عربی زبان، نحو و بلاغت، معانی و بدائع کو مد نظر نہیں رکھتے بلکہ اہل بیت (علیہم السلام) کی احادیث اور ان کو مدنظر رکھ کر لکھی جانے والی تفاسیر مثلاً شیخ طوسی کی التبیان، محسن فیض الکاشانی کی الصافی، تفسیر قمی علامہ طبرسی کی تفسیر مجمع البیان وغیرہ میں پیش کیے گئے مطالب کو اردو ترجمے میں سمو دیتے ہیں اور تائیداً متعلقہ تفسیر کی متعلقہ عبارت کو مختصراً نقل کردیتے ہیں۔ تفسیری مواد اس ترجمے ہی کی وضاحت ہوتی ہے۔ اسی لیے ترجمے میں لفظ پر لفظ نہیں رکھا ہے بلکہ اسے اردو محاورے کے مطابق ادا کیا ہے۔
علاوہ ازیں تفسیر فصل الخطاب میں مندرجہ ذیل چند خصوصیات کو ملحوظ رکھا گیا ہے :
الفاظ قرآنی کی بالالتزام رعایت۔
لفظی ترجمے کے بجائے محاوراتی ترجمہ اور لکھنوی اردو محاورے کی مطابقت۔
ترجمے میں عقلی و منطقی اظہار اور ربط کا لحاظ
طوالت سے گریز
مستند تفاسیر کے طویل اقتباسات سے گریز
تفاسیر کے مختصر اقتباسات سے استشہاد
احادیث کے طویل مندرجات کی بجائے محض متلعقہ حصے کا اقتباس و اشارہ
تاریخی واقعات کی طرف اشارہ اور تفصیل سے اجتناب۔
تفسیر میں نہ اتنی طوالت کہ قاری پر بار ہوجائے اور نہ ایسا اطناب کہ وہ حاشیے میں شمار ہو۔
وہ مضامین جن کی ادائیگی عوام میں خلافِ ادب سمجھی جاتی ہے اس کے لیے ایسے الفاظ کا استعمال جن سے وہ دائرہ ادب و ستر سے باہر بھی نہ نکلیں اور مطلب بھی ادا ہوجائے۔ ۔
فقہی آیات احکام کی وضاحت میں فقہی مسائل کو اپنی پوری فقہی مہارت سے بیان فرمایا ہے مگر اس کو بہت قابل فہم انداز میں تحریر فرمایا تاکہ مسائل سمجھ میں آسکیں۔
مصنف کا تعارف
سید العلماء سید علی نقی نقوی نجفی معروف نقن صاحب برصغیر پاک و ہند کے ایک معروف عالم دین تھے جنہوں نے 26 رجب المرجب 1323 ھ کو ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی . ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار اور بڑے بھائی کے پاس حاصل کی اور پھر مزید علم حاصل کرنے کے لئے نجف اشرف تشریف لے گئے جہاں اپنی زندگی کا ایک نمایاں باب رقم کیا اور پانچ سال کی مدت میں اس دور کے بزرگ علماء سے کسب فیض کے بعد بھارت واپس آگئے . جہاں علوم اہل بیت اطہارعلیہم السلام کی تبلیغ و ترویج میں مشغول رہے . اس عرصے میں بہت سی کتابیں تصانیف کیں . آپ نے اپنی زندگی میں مختلف عناوین پر جو کتابیں یا رسالے تحریر کئے ان کی تعداد 411 عدد کے قریب ہے جن میں سے کچھ عناوین کئی جلدوں پر مشتمل ہیں۔
علمی صلاحیت
آپ بےپناہ علمی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ آپ ایک ہی وقت میں دو مدرسوں (مدرسہ ناظمیہ اور سلطان المدارس) میں پڑھتے تھے اور آپ نے مدرسہ ناظمیہ کے ” فاضل ” اور سلطان المدارس کے ” سند الافاضل ” کا ایک ہی ساتھ امتحان دیا۔ پھر دوسرے سال دونوں درجوں کے ضمیموں کا اور تیسرے سال ” ممتاز الافاضل ” اور ” صدر الافاضل ” کا ایک ساتھ ہی امتحان دیا۔
طالب علمی میں ہی سرفراز لکھنؤ، الواعظ لکھنؤ اور شیعہ لاہور میں آپ کے علمی مضامین شائع ہونے لگے تھے۔ 3 یا 4 کتابیں بھی عربی اور اردو میں اسی زمانے میں شائع ہوئیں۔ تدریس کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ کچھ عرصے تک بحثیت مدرس ناظمیہ میں بھی معقولات کی تدریس کی اس دور کے شاگردوں میں مولانا محمد بشیر (فاتح ٹیکسلا) ، علامہ سید مجتبی حسن کاموں پوری اور حیات اللہ انصاری شامل تھے۔
عربی ادب میں آپ کی مہارت اور فی البدیہ قصائد ومراثی لکھنے کے اسی دور میں بہت سے مظاہرے ہوئے اور عربی شعر وادب میں آپ کے اقتدار کو شام، مصر اور عراق کے علماء نے قبول کیا۔ اسی مہارت کو قبول کرتے ہوئے علامہ امینی نے آپ کے قصائد کے مجموعے میں سے حضرت ابو طالب کی شان میں آپ کے قصیدے کو اپنی عظیم شاہکار کتاب (الغدیر) میں شامل کیا اور آغا بزرگ تہرانی طاب ثراہ نے شیخ طوسی کے حالات کو آپ ہی کے لکھے ہوئے مرثیے پر ختم کیا ہے۔
اسی طرح آپ کی مزید علمی صلاحیتوں کا مشاہدہ عراق میں حصول علم کے ان ایام کی تالیفات سے کیا جاسکتا ہے جہاں آپ نے سب سے پہلے ” وہابیت ” کے خلاف ایک کتاب تصنیف کی جو بعد میں ” کشف النقاب عن عقائد ابن عبدالوهاب “[ 2] کے نام سے شائع ہوئی۔ عراق وایران کے مشہور اہل علم نے اس کتاب کو ایک شاہکار قرار دیا۔ دوسری کتاب ” اقالۃ العاثر فی اقامۃ الشعائر “[ 3] امام حسین کی عزاداری کے جواز میں اور تیسری کتاب ” السیف الماضی علی عقائد الاباضی “[ 4] کے نام سے چار سو صفحات پر مشتمل کتاب خوارج کے رد میں لکھی۔
وفات
آپ نے یکم شوال روزعید الفطر 1408 ھ بمطابق 18 مئی 1988 ء کو لکھنؤ میں رحلت فرمائی۔ اور وہیں سپرد خاک کئے گئے

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →
Page 1 of 17 12345...»