Blog

تفسیر فصل الخطاب (اہل تشیع)

نام : تفسیر فصل الخطاب
مصنف : مولانا سید علی نقی النقوی
ناشر : مصباح القرآن ٹرسٹ
ایڈیشن : 2015
تفسیر ہذا کی خاص بات اس کا تفسیری ترجمہ ہے۔
مصنف کسی بھی آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے صرف عربی زبان، نحو و بلاغت، معانی و بدائع کو مد نظر نہیں رکھتے بلکہ اہل بیت (علیہم السلام) کی احادیث اور ان کو مدنظر رکھ کر لکھی جانے والی تفاسیر مثلاً شیخ طوسی کی التبیان، محسن فیض الکاشانی کی الصافی، تفسیر قمی علامہ طبرسی کی تفسیر مجمع البیان وغیرہ میں پیش کیے گئے مطالب کو اردو ترجمے میں سمو دیتے ہیں اور تائیداً متعلقہ تفسیر کی متعلقہ عبارت کو مختصراً نقل کردیتے ہیں۔ تفسیری مواد اس ترجمے ہی کی وضاحت ہوتی ہے۔ اسی لیے ترجمے میں لفظ پر لفظ نہیں رکھا ہے بلکہ اسے اردو محاورے کے مطابق ادا کیا ہے۔
علاوہ ازیں تفسیر فصل الخطاب میں مندرجہ ذیل چند خصوصیات کو ملحوظ رکھا گیا ہے :
الفاظ قرآنی کی بالالتزام رعایت۔
لفظی ترجمے کے بجائے محاوراتی ترجمہ اور لکھنوی اردو محاورے کی مطابقت۔
ترجمے میں عقلی و منطقی اظہار اور ربط کا لحاظ
طوالت سے گریز
مستند تفاسیر کے طویل اقتباسات سے گریز
تفاسیر کے مختصر اقتباسات سے استشہاد
احادیث کے طویل مندرجات کی بجائے محض متلعقہ حصے کا اقتباس و اشارہ
تاریخی واقعات کی طرف اشارہ اور تفصیل سے اجتناب۔
تفسیر میں نہ اتنی طوالت کہ قاری پر بار ہوجائے اور نہ ایسا اطناب کہ وہ حاشیے میں شمار ہو۔
وہ مضامین جن کی ادائیگی عوام میں خلافِ ادب سمجھی جاتی ہے اس کے لیے ایسے الفاظ کا استعمال جن سے وہ دائرہ ادب و ستر سے باہر بھی نہ نکلیں اور مطلب بھی ادا ہوجائے۔ ۔
فقہی آیات احکام کی وضاحت میں فقہی مسائل کو اپنی پوری فقہی مہارت سے بیان فرمایا ہے مگر اس کو بہت قابل فہم انداز میں تحریر فرمایا تاکہ مسائل سمجھ میں آسکیں۔
مصنف کا تعارف
سید العلماء سید علی نقی نقوی نجفی معروف نقن صاحب برصغیر پاک و ہند کے ایک معروف عالم دین تھے جنہوں نے 26 رجب المرجب 1323 ھ کو ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی . ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار اور بڑے بھائی کے پاس حاصل کی اور پھر مزید علم حاصل کرنے کے لئے نجف اشرف تشریف لے گئے جہاں اپنی زندگی کا ایک نمایاں باب رقم کیا اور پانچ سال کی مدت میں اس دور کے بزرگ علماء سے کسب فیض کے بعد بھارت واپس آگئے . جہاں علوم اہل بیت اطہارعلیہم السلام کی تبلیغ و ترویج میں مشغول رہے . اس عرصے میں بہت سی کتابیں تصانیف کیں . آپ نے اپنی زندگی میں مختلف عناوین پر جو کتابیں یا رسالے تحریر کئے ان کی تعداد 411 عدد کے قریب ہے جن میں سے کچھ عناوین کئی جلدوں پر مشتمل ہیں۔
علمی صلاحیت
آپ بےپناہ علمی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ آپ ایک ہی وقت میں دو مدرسوں (مدرسہ ناظمیہ اور سلطان المدارس) میں پڑھتے تھے اور آپ نے مدرسہ ناظمیہ کے ” فاضل ” اور سلطان المدارس کے ” سند الافاضل ” کا ایک ہی ساتھ امتحان دیا۔ پھر دوسرے سال دونوں درجوں کے ضمیموں کا اور تیسرے سال ” ممتاز الافاضل ” اور ” صدر الافاضل ” کا ایک ساتھ ہی امتحان دیا۔
طالب علمی میں ہی سرفراز لکھنؤ، الواعظ لکھنؤ اور شیعہ لاہور میں آپ کے علمی مضامین شائع ہونے لگے تھے۔ 3 یا 4 کتابیں بھی عربی اور اردو میں اسی زمانے میں شائع ہوئیں۔ تدریس کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ کچھ عرصے تک بحثیت مدرس ناظمیہ میں بھی معقولات کی تدریس کی اس دور کے شاگردوں میں مولانا محمد بشیر (فاتح ٹیکسلا) ، علامہ سید مجتبی حسن کاموں پوری اور حیات اللہ انصاری شامل تھے۔
عربی ادب میں آپ کی مہارت اور فی البدیہ قصائد ومراثی لکھنے کے اسی دور میں بہت سے مظاہرے ہوئے اور عربی شعر وادب میں آپ کے اقتدار کو شام، مصر اور عراق کے علماء نے قبول کیا۔ اسی مہارت کو قبول کرتے ہوئے علامہ امینی نے آپ کے قصائد کے مجموعے میں سے حضرت ابو طالب کی شان میں آپ کے قصیدے کو اپنی عظیم شاہکار کتاب (الغدیر) میں شامل کیا اور آغا بزرگ تہرانی طاب ثراہ نے شیخ طوسی کے حالات کو آپ ہی کے لکھے ہوئے مرثیے پر ختم کیا ہے۔
اسی طرح آپ کی مزید علمی صلاحیتوں کا مشاہدہ عراق میں حصول علم کے ان ایام کی تالیفات سے کیا جاسکتا ہے جہاں آپ نے سب سے پہلے ” وہابیت ” کے خلاف ایک کتاب تصنیف کی جو بعد میں ” کشف النقاب عن عقائد ابن عبدالوهاب “[ 2] کے نام سے شائع ہوئی۔ عراق وایران کے مشہور اہل علم نے اس کتاب کو ایک شاہکار قرار دیا۔ دوسری کتاب ” اقالۃ العاثر فی اقامۃ الشعائر “[ 3] امام حسین کی عزاداری کے جواز میں اور تیسری کتاب ” السیف الماضی علی عقائد الاباضی “[ 4] کے نام سے چار سو صفحات پر مشتمل کتاب خوارج کے رد میں لکھی۔
وفات
آپ نے یکم شوال روزعید الفطر 1408 ھ بمطابق 18 مئی 1988 ء کو لکھنؤ میں رحلت فرمائی۔ اور وہیں سپرد خاک کئے گئے

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

مفردات القرآن فی غریب القرآن

نام : مفردات القرآن فی غریب القرآن
مصنف : امام راغب اصفہانی
اردو مترجم : مولانا محمد عبدہ فیروز پوری
مطبوعہ : اسلامی اکیڈیمی، الفضل مارکیٹ اردو بازار لاہور
کتاب اور مصنف کا تعارف :
مفردات القرآن ابوالقاسم حسن بن محمد المعروف علامہ راغب اصفہانی (متوفی 502 ھ – 1108 ء) کی تصنیف ہے اس کا پورا نام ” المفردات فی تحقیق مواد لغات العرب المتعلقہ بالقرآن ” ہے جبکہ مطبوعہ نسخوں پر ” المفردات فی غریب القرآن ” کا عنوان مرقوم ہے اردو میں اسے ” مفردات القرآن ” سے شہرت ہے۔
 مفردات القرآن کے نام سے بہت سی کتابیں شائع ہوئیں لیکن جو شہرت و دوام اس کتاب کو حاصل ہے اور کسی کو نہیں۔
 یہ کتاب حروف تہجی کی ترتیب کے مطابق ہے اس میں ہر کلمہ کے حروف اصلیہ میں اول حرف کی رعایت کی گئی ہے اور قرآن میں استعمال ہونے والے تمام الفاظ کی لغوی تشریح کی گئی ہے ۔
 طریق بیان بڑا فلسفیانہ ہے جس میں پہلے ہر مادہ کے جوہری معنی متعین کئے جاتے ہیں پھر انہیں قرآنی آیات پر منطبق کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ شرح الفاظ کیلئے یہ طریقہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے اس سے صحیح معنی تک رسائی ممکن ہوتی ہے اور تمام اشتباہ دور ہوجاتے ہیں۔
 بہت سے مصنفین اور آئمہ لغت نے اس کتاب سے استفادہ کیا ہے۔
مصنف کا تعارف :
یہ کتاب امام راغب اصفہانی (رح) کی تصنیف ہے، امام راغب پانچویں اور چھٹی صدی کے علماء میں شمار ہوتے ہیں۔۔
ان کا پورا نام ابو القاسم حسین بن محمد بن مفضل بن محمد ہے اور راغب اصفہانی کے نام سے مشہور ہیں،
امام راغب علم و فضل میں یگانۂ روزگار تھے، مؤلفِ جامع علوم و فنون ہونے کے ساتھ بلند پایہ صوفی بھی تھے، اور ادب و فلسفہ ، جملہ علوم میں ان کا پایہ بہت بلند تھا اور انہوں نے قرآن پاک کی ایک بہت بڑی تفسیر بھی لکھی ہے۔
علامہ ذہبی (رح) نے ان کا تذکرہ “ طبقات المفسرین ” میں کیا ہے اور امام سیوطی (رح) ان کو لغت و نحو کے ائمہ میں شمار کرتے ہیں، مختلف تذکروں میں حکیم، ادیب ، مفسر، کی حیثیت سے ان کا تعارف کروایا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف ہمہ فنی امام تھے اور بیک تفسیر و لغت کے امام ہونے کے ساتھ بہت بڑے حکیم اور صوفی تھے۔
امام راغب کی وفات 502 ہجری میں ہوئی۔
تالیفات :
امام راغب کی تالیفات مندرجہ ذیل ہیں :
1 ۔ محاضرات الادباء :
2 ۔ حل متشابہات القرآن
3 ۔ حل متشابہات القرآن
4 ۔ الذریعہ الی مکارم الشریعہ
5 ۔ درۃ التاویل فی غرۃ التنزیل
6 ۔ تحقیق البیان فی تاویل القرآن
7 ۔ افانین البلاغۃ۔
8 ۔ کتاب الایمان والکفر
9 ۔ تفصیل النشاتین :
10 ۔ المفردات فی غریب القرآن
11 ۔ کتاب المعانی الاکبر
12 ۔ کتاب احتجاج القراء۔
مترجم کا تعارف۔
امام راغب افہانی کی مفردات القرآن اصل کتاب عربی میں ہے ۔ جبکہ ایزی قرآن و حدیث میں اس کا اردو ترجمہ شامل کیا گیا ہے۔
مترجم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبدہٗ فیروز پوری ہیں۔ جو عبدہ الفلاح کے نام سے بھی مشہور ہیں آپ جولائی 1917 کو موضع وٹواں ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئے۔ وٹو برادری سے تعلق تھا۔ ابتدائی تعلیم جس میں سکول اور دینیات اپنے گاؤں میں حاصل کی۔ پھر بڈھیمال میں پڑھتے رہے۔ اس کے بعد دہلی تشریف لے گئے۔ دہلی کی معروف مسجد فتح پوری میں تحصیل علم کیا۔ اور آخر میں حضرت حافظ محمد گوندلوی مرحوم سے گوجرانوالہ میں بخاری شریف پڑھی۔ فراغت کے بعد تدریس کے میدان میں آگے۔ آپ نے گوجرانوالہ ، اوڈانوالہ ، اوکاڑہ ، فیصل آباد میں تدریسی فرائض سر انجام دیئے۔ خصوصاًجامعہ سلفہ میں بڑی کتب کے علاوہ بخاری شریف پڑھاتے تھے۔ آپ کو تفہیم کا ملکہ حاصل تھا۔ مختصر مگر جامع گفتگو کرتے۔ اور تدریس کا حق ادا کردیتے۔ مشکل سے مشکل بحث کو آسانی کے ساتھ سمجھا دیتے۔ تصنیف و تالیف اور ترجمہ کا عمدہ ذوق پایا تھا۔ آپ نے کئی یادگار تصا نیف چھوڑی ہیں۔ جن میں معروف ترین اشرف الحواشی ہے۔ جو کہ قرآن حکیم پر مختصر تفسیر ہے۔ آپ دو مرتبہ جامعہ سلفیہ میں بطور شیخ الحدیث رہے ہیں۔ دوسری مرتبہ جب آپ اس منصب پر فائز ہوئے۔ تو آپ گلے کے مریض بن گئے۔ زیادہ بلند آواز میں بات نہ کرسکتے تھے۔ جس سے طلبہ آپ کی گفتگو نہ سن سکتے تھے۔ مائیک کا ا نتظام کرنے کے باوجود بات نہ بنی۔ تو پھر خود ہی مستعفی ہوگئے۔ لیکن جامعہ کی انتظامیہ نے آپ کا وظیفہ برابر جاری رکھا ۔ حاجی آباد فیصل آباد میں رحلت فرمائی۔ جامعہ سلفیہ میں نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ اور گاؤں نز د تاندلیانوالہ میں سپرد خاک کئے گئے۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

مطالعہ قرآن حکیم

اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اور اسی کی تائید و نصرت کے بھروسے پر مطالعہ قرآن حکیم خط و کتابت کورس کو مرتب کرنے کے کام کا آج آغاز کر رہے ہیں۔ یہ کورس اصلاح ان طلبا کے لیے مرتب کیا جارہا ہے جنہوں نے ” آسان عربی گرامر ” کتاب کے تینوں حصے پڑھ لیے ہیں۔ لیکن اس سے وہ طلباء بھی استفادہ کرسکیں گے جنہیں عربی گرامر کا ابتدائی علم حاصل ہے ، مقصد یہ ہے کہ عربی پڑھنے والے طلبا کو یہ استعداد حاصل ہوجائے کہ وہ ترجمہ کے بغٰیر قرآن کو سمجھ سکیں۔
الفاظ کے معانی دیتے ہوئے یہ کوشش کی جائے گی کہ مختلف ابواب سے قرآن مجید میں ایک مادہ سے جتنے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، ان سب کے معانی ایک جگہ دے دیے جائیں۔ البتہ ثلاثی مجرد میں ہر مادے کے معنی دے دیے جائیں گے خواہ قرآن میں وہ مادہ ثلاثی مجرد سے استعمال ہوا ہے یا نہیں۔ اس طرح ہر مادہ سے استعمال ہونے والے مختلف الفاظ کے معانی میں ہونے والی تبدیلی کا ربط بہتر انداز میں واضح ہوجائے گا اور انہیں یاد کرنے میں آسانی ہوگی۔
ترکیب یعنی جملہ کے اجزاء کی وضاحت کے ضمن میں علمی مباحث سے گریز کرتے ہوئے صرف اس قدر وضاحت کی جائے گی جو آیت کا مفہوم سمجھنے کے لیے ضروری اور مفید ہے ۔ بعض آیات کی ایک سے زیادہ تراکیب ممکن ہیں اور کی بھی گئی ہیں۔ ہم ان سے کسی ایک ترکیب کو اختیار کریں گے جو نسبتاً سادہ اور عام فہم ہے ۔
آج کل قرآنی آیات کے بامحاورہ ترجمہ کا مطالبہ عام ہے اور یہ مطالبہ درست بھی ہے ۔ جن لوگوں کو عربی نہیں آتی اور وہ جاننا چاہتے ہیں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے ، ان کے لیے بامحاورہ ترجمہ ہی مفید ہے ۔ لیکن یہ کورس عربی جاننے والوں کے لیے مرتب کیا جارہا ہے اور ان کے لیے بامحاورہ ترجمہ غیر مفید ہوگا۔ اس لیے ہم تحت اللفظ اور بامحاورہ ترجمہ کی درمیانی راہ اختیار کریں گے ۔ خصوصا مرکبات ناقصہ کا ترجمہ اردو محاورہ کے مطابق ہی کیا جائے گا۔ ترجمہ میں کوشش کی جائے گی کہ الفاظ کے اصل مفہوم تک طلباء کے ذہن کی رسائی ہوجائے۔ آیات کی تفاسیر بیان کرنے سے اجتناب کیا جائے گا البتہ ذہن میں الجھن پیدا کرنے کے والے مقامات کی تشریح نوٹس میں کردی جائے گی۔
اس کورس کو مرتب کرنے میں جن چند کتب سے مدد لی جائے گی وہ یہ ہیں : (١) مفردات القرآن مرتبہ امام راغب اصفہانی (٢) المنجد (ڈکشنری) (٣) المعجم المفھرس مرتبہ محمد فواد عبدالباقی صاحب (٤) تفسیر ابن کثیر (٥) تفسیر حقانی (٦) ترجمہ شیخ الہند (٧) ترجمہ احمد رضا خان صاحب (٨) تفہیم القرآن (٩) معارف القرآن (١٠) تدبر قرآن۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

مصباح القرآن

مصباح القرآن سے استفادہ کرنے کا طریقہ
قارئین کی سہولت کے پیش نظر ” مصباح القرآن ” میں ترجمہ قرآن سکھانے کے دو مختلف اسلوب اختیار کیے گئے ہیں۔
ایک صفحے پر قرآنی الفاظ کو تین مختلف رنگوں میں پیش کیا گیا ہے۔
پہلی قسم ان الفاظ کی ہے جنہیں ہم روز مرہ زندگی میں بالکل اسی طرح یا معمولی فرق کے ساتھ اردو بول چال میں استعمال کرتے ہیں اور ایسے الفاظ کم و بیش 65 فیصد ہیں۔ ان الفاظ کو سیاہ رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے اور ان کے اردو میں استعمال کی وضاحت اسی صفحہ کے حاشیے پر کردی گئی ہے۔
دوسری قسم کے الفاظ وہ ہیں جو خالصتاً عربی زبان کے ہیں اور اردو میں استعمال نہیں ہوتے البتہ کثرت استعمال کے باعث بار بار سن کر یاد ہوجاتے ہیں ان کے متعلق بہت فکر مندی کی ضرورت نہیں ، یہ الفاظ اندازاً 20 فیصد ہیں اور انہیں نیلے رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے ۔ ان مٰں سے اکثر الفاظ بنیادی طور پر علامتیں ہیں جو کہ آپ ” مفتاح القرآن ” میں پڑھ چکے ہیں۔
تیسری قسم کے الفاظ وہ ہیں جو ہمارے لئے بالکل نئے ہیں، انہیں خوب یاد کرنے کی ضرورت ہے، ایسے الفاظ تقریباً 15 فیصد ہیں اور ان کو سرخ رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے ۔ اس صفحہ کے قرآنی الفاظ کا ترجمہ لفظی اور بامحاورہ ملا جلا کیا گیا ہے ، ترجمہ میں رنگ قرآنی الفاظ کے رنگوں کے مطابق دیئے گئے ہیں البتہ جو الفاظ ترجمہ کی وضاحت کے لیے استعمال ہوئے ہیں انہیں بریکٹ میں دیا گیا ہے ۔
اگر صرف سرخ الفاظ یاد کرلئے جائیں، سیاہ الفاظ کے اردو میں استعمال پر غور کرلیا جائے اور نیلے الفاظ جو کہ بار بار استعمال ہونے سے خودبخود یاد ہوجاتے ہیں ، تو قرآن فہمی میں نہایت آسانی ہوجاتی ہے اور اس طریقہ سے ذخیرہ الفاظ (vocabulary) کی کمی کا مسئلہ بھی تقریبا حل ہوجاتا ہے ۔
سامنے صفحے پر قرآنی الفاظ کو دوبارہ الگ الگ (Braek up) کر کے خانوں میں درج کیا گیا ہے ، ہر لفظ کے اجزاء کو الگ الگ رنگ دے کر ترجمہ واضح کیا گیا ہے ، اگر کسی لفظ میں ایک علامت استمعال ہوئی ہے تو اسے سرخ رنگ اور دو علامتوں کی صورت میں دوسری علامت کو نیلے رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے اور ترجمہ میں رنگوں کا استعمال قرآنی الفاظ کے رنگوں کے مطابق کیا گیا ہے، بعض الفاظ کی ضروری وضاحت بھی حاشیہ میں کردی گئی ہے، اس صفحہ پر استعمال ہونے والی علامات کی تفصیلات ” معلم القرآن ” اور ” مفتاح القرآن ” میں بیان کی جاچکی ہے، اگر ” مصباح القرآن ” کے مطالعہ سے قبل ان علامت کو سمجھ لیا جائے تو قرآن فہمی میں بہتر نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

شان نزول

شان نزول قرآن :
مولف ۔ الشیخ خالد عبدالرحمن العک
مترجم : مولانا ریاض احمد :
شان نزول کا جاننا علم تفسیر کے لیے نہایت ضروری ہے اور علم تفسیر میں اس کی اہمیت کا انکار سوائے غیر محقق کے کوئی نہیں کرتا ۔
اسی اہمیت کے پیش نظر بہت سے علماء نے شان نزول کے لیے مستقل کتب تصنیف کیں اور انہیں علیحدہ سے کتابوں جمع کردیا۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →
Page 4 of 21 «...23456...»