Blog

امام بخاری

امام بخاری (رح) کے حالات زندگی

امام بخاری (رح) کا سلسلہ نسب یہ ہے ۔
ابو عبداللہ محمد (امام بخاری) بن اسما عیل بن ابراہیم بن مغیرہ بردزبہ البخاری الجعفی ۔

امام بخاری کے والد کا نام اسماعیل رح کو جلیل القدر علماء اور امام مالک کی شاگردی کا شرف بھی حاصل ہے امام بخاری 13 شوال 194 ھ کو بعد از نماز جمعہ بخارہ میں پیدا ہوئے امام بخاری ابھی کم سن ہی تھے کہ شفیق باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا تعلیم و تربیت کے لیے صرف والدہ ہی کا سہارا باقی رہ گیا۔ شفیق باپ کے اٹھ جانے کے بعد ماں نے امام بخاری رح کی پرورش شروع کی اور تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا امام بخا ری رح نے ابھی اچھی طرح آنکھیں کھولی بھی نہ تھیں کہ بینائی جاتی رہی اس المناک سانحہ سے والدہ کو شدید صدمہ ہوا ۔ انہوں نے بارگاہ الٰہی میں آزاری کی، عجز و نیاز کا دامن پھیلا کر اپنے لاثانی بیٹے کی بینائی کے لیے دعائیں مانگیں ایک مضطرب، بےقرار اور بےسہارا ماں کی دعائیں قبول ہوئیں، انہوں نے ایک رات حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلا م کو خواب میں دیکھا فرما رہے تھے، جا ایک نیک خو ! تیری دعائیں قبول ہوئیں۔ تمہارے نور نظر اور لخت جگر کو اللہ تعالیٰ نے پھر نور چشم سے نواز دیا ہے صبح اٹھ کر دیکھتی ہیں کہ بیٹے کی آنکھوں میں نور لوٹ آیا ہے۔

امام بخاری (رح) کو اپنے والد کی میراث سے کافی دولت ملی تھی ۔ آپ رح اس سے تجارت کیا کرتے تھے اس آسودہ حالی سے آپ نے کبھی اپنے عیش و عشرت کا اہتمام نہیں کیا جو کچھ آمدنی ہوتی طلب علم کے لیے صرف کرتے غریب اور نادار طلبا کی امداد کرتے غریبوں اور مسکینوں کی مشکلات میں ہاتھ بٹاتے۔ ہر قسم کے معاملات میں آپ (رح) بےحد احتیاط برتتے تھے۔

حضرت وارقہ رح فرماتے ہیں امام بخاری بہت کم خوراک لیتے تھے طا لب علموں کے ساتھ بہت احسان کرتے اور نہایت ہی سخی تھے۔ امام بخاری رح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی حافظہ اور ذہن عطا کیا تھا۔

آپ رح کی سب سے بلند پایہ تصنیف صحیح بخاری ہے آپ نے بخاری کی ترتیب و تالیف میں صرف علمیت زکاوت اور حفظ ہی کا زور خرچ نہیں کیا بلکہ خلوص، دیانت، تقویٰ اور طہارت کے بھی آخری مرحلے کرڈالے اور اس شان سے ترتیب و تدوین کا آغاز کیا کہ جب ایک حدیث لکھنے کا ارادہ کرتے تو پہلے غسل کرتے دو رکعت نماز استخارہ پڑ ھتے۔ سخت ترین محنت اور دیدہ ریزی کے بعد سولہ سال کی طویل مدت میں یہ کتاب زیور تکمیل سے آراستہ ہوئی اور ایک ایسی تصنیف عالم وجود میں آ گئی جس کا یہ لقب قرار پایا (اصح الکتب بعد کتاب اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ کی کتاب (قرآن مجید) کے بعد سب سے زیادہ صحیح کتاب ہے۔

امت کے ہزاروں محدثین نے سخت کسوٹی پر کسا، پرکھا اور جانچا مگر جو لقب اس مقدس تصنیف کے لیے من جانب اللہ مقدر ہوچکا تھا وہ پتھر کی کبھی نہ مٹنے والی لکیریں بن گیا۔

آپ رح وہی حدیث بیان کرتے تھے جس نے ثقہ سے مشہور صحابی تک روایت کی ہو اور معتبر ثقات اس حدیث میں اختلاف نہ کرتے ہوں اور سلسلہ اسناد متصل ہو اگر صحابی سے دو شخص راوی ہوں تو بہتر ورنہ ایک معتبر راوی بھی کافی ہے۔

بخاری شریف کے علا وہ بھی امام صاحب کی 22 اہم اور بلند پایہ تصانیف ہیں آپ کی مجالس درس زیادہ تر بصرہ ، بغداد اور بخارہ میں رہیں لیکن دنیا کا غالباً کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں امام بخاری کے شاگرد سلسلہ بسلسلہ نہ پہنچے ہوں۔

وفات۔ محمد بن ابی حغا تم وراق رح فرماتے ہیں میں نے غالب بن جبریل سے سنا کہ امام بخاری رح خرتنگ میں انہیں کے پاس تشریف فرما تھے۔ امام بخاری رح چند روز وہاں رہے پھر بیمار ہوگئے اس وقت ایک ایلچی آیا اور کہنے لگا کے سمرقند کے لوگوں نے آپ کو بلایا ہے امام بخاری نے قبول فرمایا موزے پہنے عمامہ باندھا بیس قدم گئے ہوں گے کہ انہوں نے کہاں مجھ کو چھوڑ دو مجھے ضعف ہوگیا ہے۔ ہم نے چھوڑ دیا امام بخاری نے کئی دعائیں پڑھیں پھر لیٹ گئے آپ رح کے بدن سے بہت پسینہ نکلا دس شوال ٢٥٦ ھ بعد نماز عشاء آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا اگلے روز جب آپ رح کے انتقال کی خبر سمرقند اور اطراف میں مشہور ہوئی تو کہرام مچ گیا جنازہ اٹھا تو شہر کا ہر شخص جنازہ کے ساتھ تھا نماز ظہر کے بعد اس علم و عمل اور زہد اور تقویٰ کے پیکر کو سپرد خاک کردیا گیا جب قبر میں رکھا تو آپ رح کی قبر میں مشک کی طرح خو شبو پھوٹی اور بہت دنوں تک یہ خو شبو با قی رہی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

(کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام)
(زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے ہیں صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت و عزت والی باقی رہ جائے گی)

Posted in: محدثین کرام

Leave a Comment (0) →

تفسیر و شواہد قرآنی (اہل تشیع)

نام : تفسیر و شواہد قرآنی اما م خمینی کے آثار میں
مترجم و مؤلف : شیخ محدا علی توحیدی
مطبوعہ : معراج کمپنی
ایڈیشن : 2015
زیر نظر کتاب امام خمینی کی گفتگو اور تحریروں میں مذکور تفسیری نکات و مباحث اور تطبیقات و استشہادات پر مشتمل ہے۔ اس میں تفسیری نکات قرآنی سورتوں کی ترتیب سے جمع کیے گئے ہیں۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

تفسیر نمونہ (اہل تشیع)

مصنف کا تعارف
علامہ سید صفدر حسین نجفی 1932 ء میں ضلع مظفرگڑھ پاکستان میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سید غلام سرور نقوی (رح) بھی ایک نیک انسان تھے۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اسی جگہ حاصل کی پھر اعلی تعلیم کے لیئے نجف اشرف چلے گئے ۔
1955 ء میں پاکستان آکر انہوں نے قومی امور میں اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ اس تاریخ سے اپنی وفات تک انہوں نے دینی مدارس کا ایک وسیع سلسلہ پاکستان بھر میں پھیلا دیا اور بیرون ممالک میں بھی دینی مدارس بنائے۔ علامہ عارف حسین الحسینی آپ کے شاگردوں میں سے ہیں۔
انہوں 100 سے زیادہ کتب اردو میں لکھیں۔ ایران کے اسلامی انقلاب کو پاکستان میں متعارف کروانے میں آپ نے اہم کردار ادا کیا۔ جب امام خمینی کو پاکستان میں کوئی نہ جانتا تھا تو آپ نے لوگوں کو ان کے نظریات اور انقلابی تحریک سے روشناس کروایا ۔ آپ نے دسمبر 1989 ء کو لاہور میں وفات پائی اور اس وقت تک پاکستان کے سب سے بڑے شیعہ دینی ادارے کے سربراہ رہے۔
کتاب کی خصوصیات
مصنف نے دیباچہ کتاب میں تفسیر ھذا کی مذکورہ خصوصیات لکھی ہیں
1 ۔ قرآن چونکہ کتاب زندگی ہے۔ اس لیے آیات کی ادبی و عرفانی وغیرہ تفسیر کے زندگی کے مادی، معنوی، تعمیر نو کرنے والے، اصلاح کنندہ، زندگی سنوارنے والے اور بالخصوص اجتماعی مسائل کی طرف توجہ دی گئی ہے۔ اور زیادہ تر انہی مسائل کا تذکرہ کیا گیا ہے جو فرد اور معاشرے کی زندگی سے نزدیک کا تعلق رکھتے ہیں۔
2 ۔ آیات میں بیان کیے گئے عنوانات کو ہر آیت کے ذیل میں جچی تلی اور مستقل بحث کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ مثلا سود، غلامی، عورتوں کے حقوق، حج کا فلسفہ، قمار بازی کی حرمت کے اسرار، شراب، سور کا گوشت، جہاد اسلامی کے ارکان و اہداف وغیرہ کے موضوعات پر بحث کی گئی ہے تاکہ قارئین ایک اجمالی مطالعے کے لیے دوسری کتب کی طرف رجوع کرنے سے بےنیاز ہوجائیں۔
3 ۔ کوشش کی گئی ہے کہ آیات ذیل میں ترجمہ رواں، سلیس منہ بولتا لیکن گہرا اور اپنی نوع کے لحاظ سے پرکشش اور قابل فہم ہو۔
4 ۔ لاحاصل ادبی بحثوں میں پڑنے کی بجائے خصوصی توجہ اصلی لغوی معانی اور آیات کے شان نزول کی طرف دی گئی ہے کیونکہ قرآن کے دقیق معانی سمجھنے کے لیے یہ دونوں چیزیں زیادہ موثر ہیں۔
5 ۔ مختلف اشکالات، اعتراضات اور سوالات جو بعض اوقات اسلام کے اصول و فروع کے بارے میں کیے جاتے ہیں ہر آیت کی مناسبت سے ان کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کا جچا تلا اور مختصر سا جواب دے دیا گیا ہے۔
6 ۔ ایسی پیچیدہ علمی اصطلاحات جن کے نتیجے میں کتاب ایک خاص صنف سے مخصوص ہوجائے ، سے دوری اختیار کی گئی ہے۔ البتہ ضرورت کے وقت علمی اصطلاح کا ذکر کرنے کے بعد اس کی واضح تفسیر و تشریح کردی گئی ہے۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

تفسیر فیضان الرحمن (اہل تشیع)

نام : فیضان الرحمن فی تفسیر القرآن
مصنف : شیخ محمد حسین النجفی
ناشر : مصباح القرآن ٹرسٹ :
ایڈیشن : 2015
یہ تفسیری مجموعہ شیح محمد حسین النجی کی مساعی جمیلہ اور شب و روز کی محنت کا ثمر نایاب ہے۔ اس کے بارے مصنف لکھتے ہیں :
قرآن مجید چونکہ علوم و فونون اور معارف و حقائق کا وہ سمند رہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ہے اس لیے اب تک ہر مفسر نے اپنے علم و ذوق و شوق کے مطابق اس بحر ناپید اکنار میں شن اوری کرکے اس سے آبدار موتی و مونگے برآمد کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مفسرین نے نحوی و ادبی نکات سے اپنی تفسیر کو بھر دیا ہے۔ جیسے علامہ طبرسی اور فاضل زمخشری، کسی کے ہاں علم کلام و جدال کی بھر مار ہے جیسے علام فخر الدین رازی اور فاضل ابو الفتوح ، کسی نے قصص و حکایات اور تاریخی واقعات پر زیادہ توجہ ہے اور اپنی تفسیر کو ان سے لبریز کردیا ہے جیسے علامہ طبری کی تفسیر ابن جریر و تفسیر ثعلبی اور سید ہاشم بحرانی کی البرہان، کسی نے اپنی توجہ کا مرکز طبعی علوم کو قرار دے کر اپنی تفسیر کو فلکیات و ارضیات اور دیگر طبیعات سے پر کردیا ہے جیسے فاضل طنطاوی اور ان کی تفسیر جواہر۔
ہم نے ہر قسم کے افراط و تفریط سے اپنے دامن کو بچاتے ہوئے سب سے پہلے تو تفسیر قرآن میں خود قرآن اور تمام اسلامی علوم کی سرسبز روشوں سے فیض حاصل کرتے ہوئے قرآنی مطالب و معانی کی تشریح اس کے اجمالی حقائق کی توضیح اور اس کے بیان کردہ عقائد و احکام اور اوامر و نواہی کی تفسیر پر اکتفا کیا ہے۔
۔۔۔
مصنف کا تعارف :
علامہ الشیخ محمد حسین النجفی مد ظلہ العالی کی ولادت تقریبا ” اپریل 1932 ء میں بمقام جہانیاں شاہ ضلع سرگودھا کے ایک جٹ زمیندار اور علمی خانوادہ ” ڈھکو ” میں ھوئ۔
شیخ محمد حسین نجفی پاکستان کے شیعہ مرجع مجتہد ہیں اور برصغیر کے شیعہ مراجع میں آیت اللہ سید علی نقی نقوی لکھنوی کے بعد مقام مرجعیت پر فائز ہوئے ہیں۔ جو سرگودھا اور پنجاب کے دیگر شہروں میں مدارس کی سرپرستی کر رہے ہیں۔
ابتدائی تعلیم مدرسہ محمدیہ جلالپور ننکیانہ ضلع سرگودھا حاصل کی ۔ پھر 1947 ء میں بدرھرجبانہ ضلع جھنگ میں استاد العلماء حضرت آیۃ اللہ علامہ محمد باقر صاحب قبلہ چکڑالوی کے زیر سایہ درس نظامی کا وسطائ حصہ پڑھا ۔ 1949 ء میں جلالپور آگئے اور مسلسل پانچ سال تک اس فاضل جلیل سے حضرت آيۃ اللہ علامہ سید محمد یار شاہ صاحب اپنی علمی پیاس بجھائ یعنی درس نظامی کی انتہائ کتابیں جس میں تمام علوم ادبیہ و منقولات کے علاوہ معقولات میں قطبی مسلم العلوم اور اس کے بعض شروع مبیذی و شمش بازغہ وغیرہ سرکار موصوف سے پڑھیں، علاوہ بریں شرائع الاسلام اور شرح لمعہ جلدین اور معالم الاصول وغیرہ بھی انہیں سے پڑھیں۔ اس دوران 1953 ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ اور اپنے علمی شوق و ذوق کی تکمیل اور اپنے استاد محترم کی تحریک و تشویق پر 1954 ء میں حوزہ علمیہ نجف اشرف (عراق) تشریف لے گئے اور وھاں سطحیات پڑھنے کے لیے خصوصی درسوں کا انتظام کیا یعنی کفایہ، رسائل اور مکاسب استاد العلماء سید ابوالقاسم بہشتی سے پڑھیں اور شرح منظومہ کی جلدین جناب آقائے فاضل سے پڑھیں، اور علم ہیئت کی شرح چغمینی آقائے سید مرعشی سے پڑھیں۔ اور اسفار اربعہ کے کچھ درس آقائے ملا صدرا نجفی سے لیے۔ الضرض اندرون ملک اور بیرون ملک ان فنون کے پڑھنے پر زیادہ توجہ دی جن کی اپنے ملک و ملت کو زیادہ ضرورت ہے اور سطحیات سے فراغت کے بعد درس خارج شروع کیا جو کہ اصول فقہ میں سید المجتہدین آقائے سید جواد تبریزی اور استاذ المجتہدین آقائ مرزا محمد باقر زنجانی کے علمی درس میں شرکت کی اور فقہ میں سرکار آیت اللہ محمود شاھرودی اور مرجع اکبر آیت اللہ آقائے سید محسن الحکیم کی خدمت میں زانوئے تلمز تہ کیا۔ الغرض اس دوران موصوف پڑھتے بھی رھے اور پاکستانی طلبہ کو پڑھاتے بھی رھے اور بالآخر شب و روز کی محنت شاقہ کے نتیجے میں بفضلہ تعالیٰ وھاں کے اعلام سے اجازہ ھائے اجتہاد لے کر مدرسہ محمدیہ سرگودھا کی دعوت پر 1960 ء میں پاکستان تشریف لائے اور قریبا ” بارہ سال تک وھاں پر نسپل کے فرائض انجام دیے اور اس طرح سیکڑوں طلبہ علوم دینیہ کی پیاس بجھائ۔ والحمد للہ۔
آپ ایک خاص طرز خطابت اور مخصوص طرز نگارش اور محققانہ طرز تدریس کے مالک ھیں، اندرون و بیرون ملک آپ کی ہزاروں تقریریں اور اسلامیات کے ھر مو‌ضوع پر بیسیوں کتب و رسائل اور بےانداز تحریریں موجود ہیں
آپ نے سرگودھا شہر میں ایک بڑا علمی مدرسہ بنام جامعۂ علمیہ سلطان المدارس الاسلامیہ ربع صدی سے جاری کر رکھا ہے۔ جسمیں پانچ مدرسینِ عظام فرائضِ تدریس انجام دے رہے ہیں اور بفضلہٖ تعالیٰ مدرسہ شاہراہِ ترقی پر گامزن ہے اور اپنی ایک انفرادی حیثیت رکھتا ہے

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

تفسیر فرات (اہل تشیع)

حالات مؤلف تفسیر ھذا
شیخ المحدثین علامہ فرات بن ابراہیم بن فرات کوفی کا شمار تیسری صدی ہجری کے علمائے محدثین میں ہوتا ہے، آقا صدر نے اپنی کتاب الشیعہ وفنون الاسلام میں فرمایا ہے کہ آپ امام محمد تقی (علیہ السلام) کے ہم زمانہ تھے۔ اس بات کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ آپ نے حسین بن سعید کوفی اہوازی نزیل مکہ مشرفہ سے بہت زیادہ احادیث روایت کی ہیں، حسین بن سعید کا انتقال مکہ میں ہوا، آپ نے تیس کتب تالیف فرمائیں، آپ امام رضا جواد اور ہادی (علیہ السلام) کے صحابی ہیں۔ فرات نے جعفر بن محمد بن مالک بزاز فرازی کوفی متوفی 300 ھ سے اور عبید بن کثیر عامری کوفی متوفی 394 ھ مؤلف کتاب التخریج سے کافی احادیث نقل کی ہیں۔
اس بات کا بھی امکان ہے کہ آپ چوتھی صدی ہجری کے شروع تک زندہ رہے ہوں، بحار الانوار میں علامہ مجلسی، ریاض العلماء میں میرزا عبد اللہ آفندی اصبھانی نے آپ کا ذکر محدث اور مفسر کی حیثیت سے کیا ہے، اس رائے کا مندرجہ ذیل علماء نے اظہار کیا ہے۔
کچھ کتاب کے بارے میں :
اس کتاب کی تالیف سے لے کر آج تک تمام علماء نے اس پر اعتماد کیا ہے، اس تفسیر کے معتبر ہونے میں اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ ابوالحسن علی بن حسین بن موسیٰ ابن بابویہ قمی والد شیخ صدوق علیہ الرحمہ جیسے جلیل القدر اور ثقہ عالم نے اس سے روایت نقل کی ہے، نیز آپ کے فرزند رئیس المحدثین شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب امالی اور کتاب اخبار الزہرا وغیرہ میں احادیث کو نقل فرمایا ہے، کبھی اپنے شیخ حسن بن سعید ہاشمی اور کبھی اپنے والد کے وسائط سے روایت کرتے ہیں۔
شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے ہے اپنے والد کے بعد اس تفسیر کو کس قدر معتبر گردانا اس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے بہت سی احادیث کو اس سے نقل فرمایا۔ یہ اس کتاب کے معتبر ہونے کی سب سے بڑی واضح اور معتبر دلیل ہے۔ شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اس کتاب کو ترجیح دی اور درست اور غلط کی تمیز کا معیار قرار دیا۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →
Page 3 of 21 12345...»