Blog

امام ابن ماجہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
سنن ابن ماجہ کے مصنف کے حالات زندگی
نام ونسب :
محمد نام، ابو عبداللہ کنیت، الربعی القزوینی نسبت اور ابن ماجہ عرف ہے۔
شجرہ نسب یہ ہے : ابو عبداللہ بن محمد یزید الربعی مولا ہم بالولاء القزوینی الشہیربابن ماجہ۔
” ماجہ ” کے بارے میں سخت اختلاف ہے، بعض اس کو دادا کا نام سمجھتے ہیں جو صحیح نہیں، بعض کا قول ہے کہ یہ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام ہے۔ واللہ اعلم۔

ولادت :
امام ابن ماجہ (رح) کی ولادت با سعادت جیسا کہ خود ان کی زبانی ان کے شاگرد جعفر بن ادریس نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے ٢٠٩ ھ میں واقع ہوئی جو ٨٢٤ عیسوی کے مطابق ہے۔

دور طالب علمی :
امام ابن ماجہ کے بچپن کا زمانہ علوم و فنون کے لیے باغ و بہار کا زمانہ تھا۔ اس وقت بنو عباس کا آفتاب نصف النہار پر تھا اور دو دمان عباسی کا گل سرسبد مامون عباسی سریر آرائے خلافت بغداد تھا۔ عہد مامونی خلافت عباسیہ کے اوج شباب کا زمانہ کہلاتا ہے اور حقیقت ہے کہ علوم و فنون کی جیسی آبیاری مامون نے اپنے دور میں کی مسلمان بادشاہوں میں سے کم ہی کسی نے کی ہوگی۔ مامون کی حکومت کا دائرہ حجاز و عراق سے لے کر شام، افریقہ، ایشیائے کوچک، ترکستان، خراسان، ایران، افغانستان اور سندھ تک پھیلا ہوا تھا اور ایک ایک شہر بلکہ ایک ایک قصبہ مختلف علوم و فنون کے لیے ” اتھارٹی ” کا درجہ رکھتا تھا۔ مامون خود بہت بڑا عالم اور علماء کا قدر شناس تھا۔ خاص طور پر شعر و ادب اور فقہ و حدیث میں اس کا بڑا نام تھا۔ علامہ تاج الدین سبکی نے طبقات الشافعیہ الکبری میں اس کے علم پر عبور کی بڑی تعریف کی ہے۔
امام ابن ماجہ (رح) کی زندگی کے عام حالات بالکل پردہ خفاء میں ہیں اور خاص طور پر بچپن کے متعلق کے تو کچھ نہ معلوم ہوسکا۔ تاہم قیاس چاہتا ہے کہ عام دستور کے مطابق آپ نے لڑکپن ہی میں تعلیم کی ابتدا کی ہوگی اور شروع میں قرآن پاک پڑھا ہوگا، بعد کو سن تمیز پر پہنچ جانے اور سمجھدار ہوجانے پر حدیث کے سماع پر متوجہ ہوئے ہوں گے۔ اس لیے ہم آپ کی ابتدائی تعلیم کا زمانہ عہد مامون اور عہد معتصم ہی کو قرار دیتے ہیں۔
قزوین جس کی نسبت سے قزوینی کہلائے ، ابن ماجہ کا مولد ومسکن تھا۔ جب امام موصوف نے آنکھ کھولی ہے تو علم حدیث کی درسگاہ بن چکا تھا اور بڑے بڑے علماء یہاں مسند درس وافتاء پر جلوہ گر تھے۔ ظاہر ہے کہ امام موصوف نے علم حدیث کی تحصیل کا آغاز وطن مالوف ہی سے کیا ہوگا۔ امام ابن ماجہ (رح) نے اپنی سنن میں قزوینی کے جن مشائخ سے احادیث روایت کی ہے وہ حسب ذیل ہیں :
علی بن محمد ابو الحسن طنافسی، عمرو بن رافع ابو حجر بجلی، اسماعیل بن توبہ ابو سہل قزوینی، ہارون بن موسیٰ بن حیان تمیمی، محمد بن ابی خالد ابوبکر قزوینی۔

طلب حدیث کے لیے رحلت :
رحلت سے مراد وہ ” مقدس سفر ” ہے جو علم دین کی تحصیل کے لیے کیا جائے۔ یہ وہ مبارک عہد تھا کہ اس میں علم نبوی کے لیے گھر چھوڑنا اور دور دراز علاقوں کا سفر اختیار کرنا مسلمانوں کا خصوصی شعار بن چکا تھا۔
امام ابن ماجہ نے بھی جب فن حدیث پر توجہ کی تو اسی قاعدہ کے بموجب سب سے پہلے اپنے شہر کے اساتذہ فن کے سامنے زانوئے شاگردی کیا اور اکیس بائیس سال کی عمر تک وطن عزیز ہی میں تحصیل علم میں مصروف رہے۔ پھر جب یہاں سے فارغ ہولئے تو دوسرے ممالک کا سفر اختیار کیا۔ آپ کی ” رحلت علمیہ ” کی صحیح تاریخ تو معلوم نہ ہوسکی مگر علام ہصفی الدین خزرجی نے خلاصہ تذہیب تہذیب الکمال میں اسماعیل بن عبداللہ بن زرارہ ابو الحسن الرقی کے ترجمہ میں تصریح کی ہے کہ ابن ماجہ نے ٢٣٠ ھ کے بعد سفر کیا ہے۔
طلب حدیث کے لیے مدینہ، مکہ اور کوفہ کے سفر اختیار کیے۔
اور کوفہ کے متعلق امام ابوحنیفہ (رح) نے ” معدن العلم والفقہ ” کا لقب دیا ہے اور سفیان بن عیینہ جو ائمہ حدیث میں شمار کیے جاتے ہیں کہا کرتے تھے :
” مغازی کے لیے مدینہ، مناسک کے لیے مکہ اور فقہ کے لیے کوفہ ہے ”
امام ابن ماجہ نے جس زمانہ میں کوفہ کا سفر کیا ہے اس کی علمی رونق بدستور قائم تھی اور یہ محدثین اور حفاظ حدیث سے بھرا ہوا تھا۔ چناچہ ان میں سے جن حضرات کے سامنے آپ نے زانوئے شاگردی تہ کی وہ حسب ذیل ہیں :
حافظ ابوبکر بن ابی شیبہ، شیخ الاسلام اشج، حافظ کبیر عثمان بن ابی شیبہ، درۃ العراق حافظ محمد بن عبداللہ بن نمیر، محدث کوفہ ابو کریب، شیخ الکوفہ ہناد، حافظ ولید بن شجاع، حافظ ہارون۔

مؤلفات :
تحصیل علم اور رحلات کے بعد ابن ماجہ نے تالیفات میں بےحد کام کیا اور انہوں نے الباقیات کے طور پر تین بڑی کتابیں چھوڑی ہیں :
(١) التفسیر۔ (٢) التاریخ۔ (٣) السنن (اس کا شمار صحاح ستہ میں ہوتا ہے اور علماء کرام نے درجہ کے لحاظ سے چھٹا نمبر رکھا ہے)

سنن ابن ماجہ کی امتیازی خصوصیات :
سنن ابن ماجہ کا سب سے بڑا امتیاز دیگر پر یہ ہے کہ مؤلف نے متعدد ابواب میں وہ احادیث درج کی ہیں جو کتب خمسہ مشہورہ میں ناپید ہیں اور ” الزوائد ” کے نام سے مدون بھی ہیں۔
سنن ابن ماجہ کے ابواب پر غور کیا جائے تو کمال حسن دکھتا ہے جو انفرادیت کا بھی مظہر ہے۔ مثلاً امام ابن ماجہ (رح) نے اتباع سنت کو مقدم رکھا ہے جو ان کی کمال ذہانت و بلاغت کو آشکارا کرتا ہے۔

وفات :
امام ابن ماجہ (رح) کی وفات خلیفہ المعتمد علی اللہ عباسی کے عہد میں ہوئی۔ بقیہ مصنفین رحمہم اللہ صحاح ستہ نے بھی بجز امام نسائی کے اسی کے دور خلافت میں وفات پائی ہے۔ حافظ ابوالفضل محمد بن طاہر مقدسی، شروط الائمۃ الستہ میں لکھتے ہیں کہ :
میں نے قزوین میں امام ابن ماجہ (رح) کی تاریخ کا نسخہ دیکھا تھا۔ یہ عہد صحابہ (رضی اللہ عنہم) سے لے کر ان کے زمانے تک کے رجال اور امصار کے حالات پر مشتمل ہے۔ اس تاریخ کے آخر میں امام ممدوح کے شاگرد جعفر بن ادریس کے قلم سے حسب ذیل ثبت تھی :
ابو عبداللہ بن یزید بن ماجہ نے دو شنبہ کے دن انتقال فرمایا اور سہ شنبہ ٢٢/رمضان المبارک ٢٧٣ ھ کو دفن کیے گئے اور میں نے خود ان سے سنا فرماتے تھے میں ٢٠٩ ھ میں پیدا ہوا۔ وفات کے وقت آپ بھائی ابوبکر نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ آپ کے ہر دو برادران ابوبکر اور ابو عبداللہ اور آپ کے صاحبزادے عبداللہ نے آپ کو قبر میں اتارا اور دفن کیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

Posted in: محدثین کرام

Leave a Comment (0) →

امام ترمذی

حالات زندگی امام ترمذی
نام ونسب، وطن :
امام ترمذی کا نسب مختلف کتب میں مختلف آیا ہے آپ بوغی میں پیدا ہوئے جو ترمذ کے قریب دریائے جیجول کے کنارے واقع ہے اور اس کے گرد فصیل ہے جیسے پرانے لاہور اور ملتان میں یہ حفاظت شہر کے لئے ہوتی ہے۔
(١) محمد بن عیسیٰ بن سورة بن موسیٰ بن ضحاک (مختلف کتب)
(٢) محمد بن عیسیٰ بن سورة بن شداد (سمعانی)
(٣) محمد بن عیسیٰ بن سورة بن شداد بن عیسیٰ ( ابن کثیر)
(٤) محمد بن عیسیٰ بن سورة بن موسیٰ بن ضحاک اور ایک روایت میں ابن سکن (ابن حضر)
(٥) محمد بن عیسیٰ بن سورة (المختصر فی اخبار البشبر) لیکن سودۃ بالدال غلط ہے

سن ولادت، کنیت :
٣٠٩ ھ بعض نے کچھ بعض نے کچھ کہا ہے معلوم ہوتا ہے ولادت کے سن میں اختلاف ہے آپ کے والد ماجد کا نام تمام روایات میں عیسیٰ ہے لہذا آپ کی کنیت ابن عیسیٰ رکھنی چاہیے تھی اس کے بر عکس آپ نے ابوعیسیٰ رکھ لی اور اس پر اعتراضات ہوئے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تو والدہ کے بطن سے پیدا ہوئے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ذٰلک عیسیٰ ابن مریم) (مریم : ٣٤) (قالت انی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر ولم اک بغیا قال کذالک اللہ یفعل مایشاء) (آل عمران ٤٧) اور یہ کنیت رکھنا صحیح نہیں لگتا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے یہ کنیت رکھی تو حضرت عمر نے ڈانٹا۔ حضرت مغیرہ نے کہا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کا علم تھا بلکہ ایک روایت ہے کہ خود آپ نے یہ کنیت حضرت مغیرہ کی رکھی اور مبارکپوری نے ” تحفۃ الاحوذی ” میں کہا ہے کہ کوئی مرفوع متصل صریح حدیث نہی کی نہیں ہے حضرت عمر کی زجر و تنبیہ اثر کا حکم رکھتی ہے اور ایسے بڑے جلیل القدر محدث کو نہی کا علم نہ ہونا بعید من الفہم ہے کہ انہوں نے باب کی حدیث بیان کر کے قال ابوعیسیٰ ہزاروں دفعہ کہا ہے

تعلیم :
آپ نے اپنی تعلیم کا آغاز ٢٢٠ ھ اور ٢٣٥ کے قریب کیا قطعیت کی کوئی روایت نہیں کی ہے ۔ آپ کے شیوخ کی تعداد جو کتب میں آئی ہے وہ ٢٢١ کے لگ بھگ ہے۔ آج کل کے لوگوں کو ایسی باتیں عجیب لگتی ہیں لیکن اس زمانے میں لوگوں کو حدیث حاصل کرنے کا اتنا شوق تھا کہ جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ہیچمدان عرض کرتا ہے کہ مجھے یہ بیان کرتے اور لکھتے ہوئے پہلی جماعت سے لیکر دورہ حدیث تک کے اساتذہ کے گننے کا خیال ہوا تو ان کی تعداد (٣٠) کے لگ بھگ ہے اور اگر ان افراد یا حضرات کو بھی شمار کیا جائے جن سے کچھ نہ کچھ سیکھا تو یہ تعداد چالیس تک جا پہنچتی ہے۔
امام مسلم سے آپ کی ملاقات ہوئی لیکن ان کے حوالے سے ایک روایت اپنی کتاب میں لائے اور ایسے ہی امام ابوداؤد سے ایک روایت لائے

امام بخاری سے استفادہ اور افادہ :
سب سے زیادہ آپ نے الامام المحدث حضرت محمد بن اسمعیل بخاری پر علم اور فن میں ایک طویل مدت ان کے ساتھ گزار کر تعلیم حاصل کی اور استفادہ کیا اور اس کے بعد امام عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی (٢٥٥ ھ ) اور ابوزرواعہ رازی سے اس کے بعد کتاب العلل، رجال اور تاریخ میں جو اسخراج کیا اس کا اکثر امام بخاری اور دوسرے حضرات نے مطالعہ کیا اور اس کی تحسین کی۔ امام بخاری سے تو اتنے قریب ہوئے اور رہے کہ ان سے بحث و مباحثہ اور مناظرہ کرتے اور اس میں دونوں کو فائدہ ہوا۔ امام بخاری نے اپنے استفادہ کا یوں ذکر کیا کہ امام ترمذی سے فرمایا ” ماانتفعت بک اکثر مماانتفعت بی ” کہ میں نے جناب سے اتنا نفع حاصل کیا کہ اتنا جناب نے مجھ سے نہیں کیا۔ کیسے اور کتنے عظیم لوگ تھے کہ اپنے شاگردوں کے سامنے ان سے نفع حاصل کرنے کا تذکرہ فرماتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ تقریر کے لفظ لفظ اور نکات کو سمجنے والے سامنے بیٹھے ہوں تو مقرر کو اتنا شرح صدر ہوتا ہے کہ نکات ایک دم اور اچانک منجانب اللہ ذہن میں آتے ہیں اور اگر غبی یا کند ذہن سامعین ہوں تو مقرر کو آمد نہیں ہوتی بلکہ بڑی مشکل سے آورد سے وقت پورا کرتا ہے۔ امام ترمذی نے جن احادیث کا سماع امام بخاری سے کر کے اپنی جامع ترمذی میں کیا یہاں ان کا ذکر طول کا باعث ہوگا ان کی تعداد ١١٤ ہے

غیر معمولی حافظہ :
اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی حافظہ عطاء فرمایا تھا احادیث کے دو جزو آپ کے پاس سفر میں تھے اثناء سفر میں آپ کو علم ہوا کہ قافلے میں وہ وہ شیخ بھی ہیں کہ جن سے وہ جزو پہنچے ہیں ۔ خیال کیا کہ ان کو سنا کر ان کی توثیق کراؤں مستفر پر آئے تو دیکھا تو لکھے ہوئے دونوں جزو غائب تھے ان کی جگہ سفید کاغذ لے کر حاضر ہوگئے اور سنانے لگے شیخ کی نظر پڑگئی کہ اوراق سادہ ہیں اور کہا کہ اما تستحی منی ؟ ” کیا تمہیں مجھ سے شرم نہیں آتی ۔ اس پر امام ترمذی نے پورا واقعہ سنایا اور عرض کیا کہ جناب مجھے کچھ اور احادیث سنائیں میں آپ کو مجرد ایک دفعہ سننے پر سنا دوں گا اس پر شیخ نے چالیس احادیث سنائیں سننے کے بعد امام ترمذی نے من وعن ان احادیث کو شیخ کو سنا دیا شیخ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے اور فرمایا کہ ” ما رایت مثلک ” میں نے آپ جیسا نہیں دیکھا۔ ایک واقعہ احقر نے اپنے استاد حضرت مفتی محمد عبداللہ ڈیروی سے ملتان خیرالمدارس ترمذی پڑھتے ہوئے سنا کہ آخر عمر میں آپ رقت قلبی اور خشیت الہی سے گریہ و زاری کرتے ہوئے نابینا ہوگئے ۔ ایک دفعہ سفر حج کو گئے تو ایک جگہ جا کر اونٹنی پر بیٹھے بیٹھے سر نیچا کرلیا۔ احباب کے سوال پر کہ ایسا کیوں کیا تو فرمایا کہ یہاں ایک درخت تھا جس کا ٹہنہ یا شاخیں سر کو لگتی تھیں انہوں نے فرمایا کہ یہاں تو کوئی درخت نہیں اس پر فرمایا کہ ارد گرد سے تحقیق کرو اگر یہاں درخت نہیں تھا تو میں سوء حفظ کا شکار ہوگیا ہوں اور اب مجھے روایت حدیث کو ترک کرنا پڑے گا۔ تحقیق کی تو لوگوں نے کہا کہ درخت تھا لیکن ہم نے اسے مسافروں کی راحت کے لئے اکھیڑ دیا اس پر آپ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا اس زمانے میں محدثین کے حافظے اور دماغ کمپیوٹر یا ریڈار یا آج کل کی زبان میں ” آٹومیٹک ” (خبر دار کرنے کا آلہ ) تھے کہ خطرے پر اس کی بتی از خود سرخ ہوجاتی تھی۔

جامع ترمذی کا مقام :
بلاشبہ جامع ترمذی ” صحاح ستہ ” میں شامل ہے لیکن اس پر بحث ہوتی ہے کہ اس کا درجہ کس نمبر پر ہے کئی حضرات کہتے ہیں کہ صحیحین (بخاری، مسلم) سنن ابی داؤد، سنن نسائی کے بعد ہے لیکن اکثر کا خیال ہے کہ صحیحین کے بعد اس کا مقام ہے تبھی تو اس کو جامع کہتے ہیں جو بیک وقت جامع اور سنن ہے ۔
جامع ایسی کتاب حدیث کو کہتے ہیں جس میں حدیث کے تمام موضوعات کا لحاظ رکھا گیا ہو اور سنن جو فقہی ترتیب پر ہو ترمذی میں دونوں باتوں کا لحاظ رکھا گیا ہے
اگر بعض چیزوں یا اعتراضات کو چھوڑ کر دیکھا جائے تو جامع ترمذی کے فوائد صحاح ستہ کتب سے زائد ہیں اسی لئے ہمارے مدارس عربیہ میں اکثر روایت یہ رہی کہ شیخ الحدیث بخاری اور ترمذی دونوں پڑھاتا ہے ۔ ایک بڑی بات جو امام ترمذی نے اہتمام سے کی ہے وہ یہ ہے کہ حدیث بیان کرنے کے بعد صحابہ اور ائمہ مجتہدین کا مسلک بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث پر کن کن حدیث بیان حضرات کا عمل رہا ہے۔
اور حدیث کا مقام صحیح ، حسن ، مشہور، غریب، اور ضعیف وغیرہ بھی بیان کرتے ہیں اور ایک مسئلہ پر باب میں جو حدیث بیان کرتے ہیں اس کا متعلقہ حصہ ہی بیان کرتے ہیں ساری حدیث نہیں بیان کرتے اور مخالف و موافق دونوں طرح کی احادیث بیان کرتے ہیں اور ایک سب سے بڑا اہتمام جس کو کسی محدث نے نہیں چھیڑا وہ یہ کہ ” فی الباب ” کہہ کر اس باب میں جتنے صحابہ سے روایت کا ذکر کرتے ہیں اور بعد میں آنے والوں نے ” فی الباب ” کی احادیث کو تلاش کر کے جمع کیا ہے۔

شروح ترمذی :
جامع ترمذی کی جتنی شرحیں لکھی گئی ہیں اتنی شاید کسی کتاب کی نہیں ۔ گزشتہ چالیس سال میں تو جس بڑے جامعہ یا دارالعلوم میں کسی شیخ نے ترمذی پڑھائی اس کی شرح اکثر و بیشتر نے لکھی اور شائع کی اسی بات سے اس کتاب کے مہتم بالشان ہونے کا پتہ چلتا ہے ۔

وفات :
امام ترمذی کی وفات میں بھی اختلاف ہے جیسا کہ ولادت میں لیکن مشہور ٢٧٩ ھ ہے اس کو مدنظر رکھ کر علامہ انور شاہ کا شمیری نے ایک شعر ان کی تعریف کے ساتھ ایک مصرع میں ان کی ولادت وفات کے مشہور قول کو لیا ہے۔
الترمذی محمد ذوزین عطر وفاۃ فی عین
امام ترمذی عمدہ خصلت کے عطر تھے ” عطر ” سے وفات (٢٧٩) ۔ اور ” عین ” سے عمر نکالی ہے ۔ ” ع ” کے عدد (٧٠) ہیں

Posted in: محدثین کرام

Leave a Comment (0) →

امام نسائی

تذکرہ امام نسائی
ولدیت اور نام ونسب : امام موصوف کا سلسلہ نسب اس طرح ہے : نام احمد بن شعیب بن علی بن سنان بن بحرین دینار نسائی خراسانی، ابو عبدالرحمن کنیت ہے، لقب حافظ الحدیث ہے۔ سن ولادت ٢١٤ ھ (اور کچھ کی رائے میں ٢١٥ ھ ) مذکور ہے۔ امام کی ولادت نساء شہر میں ہوئی، اسی وجہ سے نسائی مشہور ہیں۔
زبردست قوت حافظہ : امام نسائی کو اللہ عز وجل نے غیر معمولی قوت حافظہ سے مالا مال کیا تھا حضرت امام ذہبی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شیخ سے دریافت کیا کہ امام مسلم اور امام نسائی میں سے حدیث کا زیادہ حافظ کون ہے ؟ تو فرمایا : امام نسائی
اساتذہ اور اشتیاق طلب حدیث : امام نسائی نے طلب حدیث کے لیے حجاز، عراق، شام، مصر وغیرہ کا سفر کیا اور اپنے دور کے مشائخ عظام سے استفادہ فرمایا۔ آپ کے حالات زندگی میں لکھا ہے کہ آپ نے ١٥ برس کی عمر ہی سے تحصیل علم کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر کرنا شروع کردیا تھا۔ آپ کے نامور اساتذہ کرام میں سے امام بخاری، امام ابوداؤد، امام احمد، امام قتیبہ بن سعید، وغیرہ معروف ہیں۔
اس کے علاوہ امام بخاری کے توسط سے آپ کے اساتذہ کا سلسلہ سراج الائمہ، امام اعظم ، سرتاج الاولیاء ابوحنیفہ بن نعمان بن ثابت سے بھی جا ملتا ہے، جس کا تذکرہ یہاں باعث طوالت ہوگا۔

تصانیف
امام نسائی نے مجاہد و ریاضت اور زہد و ورع کے ساتھ ساتھ جہاد ایسی مصروفیات کے باوجود متعدد کتب تصنیف کیں، جن کا اجمالی ذکر یوں ہے : السنن الکبریٰ ، المجتبیٰ ، خصائص علی، مسند علی ، مسند مالک، کتاب التمیز، کتاب المدلسین، کتاب الضعفاء، کتاب الاخوۃ، مسند منصور، مسیخۃ النسائی، اسماء الرواۃ ، مناسک حج

اہمیت و خصوصیت ” سنن نسائی ”:
علامہ سیوطی فرماتے ہیں کہ ذخیرہ احادیث میں یہ بہترین تصنیف ہے۔ اس سے قبل ایسی کتاب موجود نہ تھی۔ علامہ سخاوی فرماتے ہیں : بعض علماء سنن نسائی کو روایت و درایت کے اعتبار سے صحیح بخاری سے افضل گردانتے ہیں۔ ابن رشید تحریر کرتے ہیں ۔ جس قدر کتب حدیث سنن کے انداز پر مرتب کی گئی ہیں ، ان میں سے سنن نسائی صفات کے اعتبار سے جامع تر تصنیف ہے کیونکہ امام نسائی نے امام بخاری اور امام مسلم کے انداز کو مجتمع کردیا ہے۔

وفات حسرت آیات :
امام نسائی کی وفات حسرت آیات کا واقعہ یہ ہے کہ جس وقت امام حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور دیگر حضرات اہل بیت کے فضائل و مناقب تحریر فرما کر فارغ ہوگئے تو امام نے چاہا کہ میں یہ فضائل و مناقب (دمشق کی جامع مسجد میں ) پڑھ کر سناؤں تاکہ لوگ فضائل اہل بیت سے واقف ہوں۔ چناچہ ابی اپنی تحریر کا کچھ حصہ ہی پڑھا تھا کہ مجمع میں سے ایک شخص نے دریافت کیا : آپ نے حضرت امیر معاویہ (رض) کے متعلق بھی کچھ تحریر فرمایا ہے ؟ امام نسائی نے جواباً فرمایا : وہ اگر برابر ہی چھوٹ جائیں جب بھی غنیمت ہے۔ (یعنی امیر معاویہ کے مناقب کی ضرورت نہیں ) یہ بات سنتے ہی لوگ ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کو شیعہ، شیعہ کہہ کر مارنا شروع کردیا اور اس قدر مارا کہ بےہوش ہوگئے، لوگ ان کو گھر لے آئے ۔ جب ہوش آیا تو فرمایا : مجھ کو لوگو مکہ مکرمہ پہنچا دو چناچہ مکہ معظمہ پہنچا دیا گیا اور وہیں امام موصوف کی وفات ہوئی اور صفا اور مروہ کے درمیان تدفین ہوئی۔ سنہ وفات ماہ صفر ٣٠٣ ھ ہے۔
بہر حال امام موصوف کی یہ عظیم تصنیف آج عالم اسلام کی ہر ایک دینی درسگاہ میں دورہ حدیث میں داخل شامل نصاب ہے اور اپنی انفرادی اور امتیازی خصوصیت اور طرز نگارش کے اعتبار سے بلاشبہ بخاری ومسلم کی طرح اہمیت سے پڑھائی جانے کے درجہ میں ہے۔
اگر قارئین امام موصوف کے مزید حالات جاننے کے مشتاق ہوں تو ” بستان المحدثین ، نزہۃ الخواطر، مبادیات حدیث، کشف الظنون ” وغیرہ کتب کا مطالعہ بےحد نافع رہے گا۔

Posted in: محدثین کرام

Leave a Comment (0) →

امام ابوداؤد

نام ونسب :

ابوداؤد کنیت، سلیمان نام اور والد کا اسم گرامی اشعث ہے سلسلہ نسب یہ ہے ۔ ابوداؤد سلیمان بن اشعث بن اسحق بن بشیر بن شداد بن عمرو بن عمران الازدی سبحستانی۔

سن پیدائش :
امام ابوداؤد سیستان میں ٢٠٢ ھ میں پیدا ہوئے لیکن آپ نے زندگی کا بڑا حصہ بغداد میں گزارا اور وہیں اپنی سنن کی تالیف کی اسی لیے ان سے روایت کرنے والوں کی اس اطراف میں کثرت ہے پھر بعض وجوہ کی بنا پر ٢٧١ ھ میں بغداد کو خیر باد کہا اور زندگی کے آخری چار سال بصرے میں گزارے جو اس وقت علم وفن کے لحاظ سے مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔

تحصیل علم :
آپ نے جس زمانہ میں آنکھیں کھولیں اس وقت علم حدیث کا حلقہ بہت وسیع ہوچکا تھا۔ آپ نے بلاد اسلامیہ میں عموماً اور مصر، شام، حجاز، عراق، خراسان اور جزیرہ وغیرہا میں خصوصیت کے ساتھ کثرت سے گشت کر کے اس زمانہ کے تمام مشاہیر اساتذہ و شیوخ سے علم حدیث حاصل کیا صاحب کمال نے لکھا ہے کہ بغداد متعدد بار تشریف لائے۔

اساتذہ و شیوخ :
امام ابوداؤد تحصیل علم کے لیے جن اکابر و شیوخ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کا استقصاء شوار ہے خطیب تبریزی فرماتے ہیں کہ انہوں نے بیشمار لوگوں سے حدیثیں حاصل کیں ، ان کی سنن اور دیگر کتابوں کو دیکھ کر حافظ ابن حجر کے اندازے کے مطابق ان کے شیوخ کی تعداد تین سو سے زائد ہے۔ آپ کے اساتذہ میں مشائخ بخاری ومسلم جیسے امام احمد بن حنبل، عثمان بن ابی شیبہ، قتیبہ بن سعید اور قعنبی ابوالولید طیاسی، مسلم بن ابراہیم اور یحییٰ بن معین جیسے ائمہ فن داخل ہیں۔

فن حدیث میں کمال :
ابراہیم حربی نے جو اس زمانہ کے عمدہ محدثین میں سے ہیں جب سنن ابوداؤد کو دیکھا تو فرمایا کہ ” ابوداؤد کے لیے حق تعالیٰ نے علم حدیث ایسا نرم کردیا ہے جیسے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لیے لوہا ہوا تھا ” حافظ ابوطاہر سلفی نے اس مضمون کو پسند کر کے اس قطعہ میں نظم کیا
لان الحدیث و علمہ بکمالہ لامام اہلیہ ابو داؤد
مثل الذی لان الحدید وسب کہ لبنی اہل زمانہ داؤد

فقہی ذوق :
اصحاب صحاح ستہ کی نسبت امام ابوداؤد پر فقہی ذوق زیادہ غالب تھا، چناچہ تمام ارباب صحاح ستہ میں صرف یہی ایک بزرگ ہیں جن کو علامہ شیخ ابواسحق شیرازی نے طبقات الفقہاء میں جگہ دی ہے امام ممدوح کے اسی فقہی ذوق کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب کو صرف احادیث احکام کے لیے مختص فرمایا، فقہی احادیث کا جتنا بڑا ذخیرہ اس کتاب (سنن ) میں موجود ہے صحاح ستہ میں سے کسی کتاب میں آپ کو نہیں ملے گا، چناچہ حافظ ابو جعفر بن زبیر غرناطی متوفی ٧٠٨ ھ صحاح ستہ کی خصوصیات پر تبصرہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں اور احادیث فقہیہ کے حصرو استیعاب کے سلسلے میں ابوداؤد کو جو بابت حاصل ہے وہ دوسرے مصنفین صحاح ستہ کو نہیں علامہ یافعی فرماتے ہیں کہ آپ حدیث وفقہہ دونوں کے سرخیل تھے۔

زہد و تقویٰ :
ابوحاتم فرماتے ہیں کہ امام موصوف حفظ حدیث، اتقان روایت، زہد و عبادت اور یقین و توکل میں یکتائے روزگار تھے۔ ملاعلی قاری فرماتے ہیں کہ ورع وتقویٰ ، عفت و عبادت کے بہت اونچے مقام پر فائز تھے۔ ان کی زندگی کا مشہور واقعہ ہے کہ ان کے کرتے کی ایک آستین تنگ تھی اور ایک کشادہ جب اس کا راز دریافت کیا گیا تو بتایا کہ ایک آستین میں اپنے نوشتے رکھ لیتا ہوں اس لیے اس کو کشادہ بنا لیا ہے اور دوسری کو کشادہ کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی اس میں کوئی فائدہ نہ تھا اس لیے اس کو تنگ ہی رکھا۔
جو گنج قناعت میں ہیں تقدیر پر شاکر ہے ذوق برابر انہیں کم اور زیادہ

آپ کے فضل و کمال کا اعتراف :
ابوداؤد کو علم و عمل میں جو امتیازی مقام حاصل تھا اس زمانہ کے علماء مشائخ کو بھی اس کا پورا پورا اعتراف تھا چناچہ حافظ موسیٰ بن ہارون جو ان کے معاصر تھے فرماتے ہیں کہ ابوداؤد دنیا میں حدیث کے لیے اور آخرت میں جنت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں میں نے ان سے افضل کسی کو نہیں دیکھا امام حاکم فرماتے ہیں کہ امام ابوداؤد بلا شک و ریب اپنے زمانہ میں محدثین کے امام تھے۔

اہل اللہ کی سچی عقیدت :
احد بن محمد بن لیث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سہل بن عبداللہ تستری جو اس زمانہ کے اہل اللہ میں سے تھے آپ کی خدمت میں تشریف لائے اور عرض کیا : امام صاحب میں ایک ضرورت سے آیا ہوں اگر حسب امکان پوری کرنے کا وعدہ فرمائیں تو عرض کروں ۔ آپ نے وعدہ کرلیا انہوں نے کہا کہ جس مقدس زبان سے آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث روایت کرتے ہیں اس کو بوسہ دینے کی آرزو رکھتا ہوں ذرا آپ اسے باہر نکالیں چناچہ آپ نے اپنی زبان مبارک باہر نکالی اور حضرت سہل نے اس کو بوسہ دیا۔

وفات :
امام ابوداؤد نے تہتر سال کی عمر پا کر سولہ شوال ٢٧٥ ھ میں انتقال فرمایا اور بصرہ میں امام سفیان ثوری کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ یوم وفات روز جمعہ ہے۔
مثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو تیرا نور سے معموریہ خاکی شبستان ہو تیرا (اقبال)

تصنیفات :
امام ابوداؤد نے بہت سا علمی ذخیرہ اپنی یادگار چھوڑا ہے جس کی مجمل فہرست درج ذیل ہے۔ مراسیل ۔ الردعلی القدریہ۔ الناسخ والمنسوخ۔ ماتضروبہ اہل الامصار۔ فضائل الانصار۔ مسند مالک بن انس۔ المسائل معرفۃ الاوقات۔ کتاب بدء الوحی سنن ۔ ان میں سب سے زیادہ اہم آپ کی سنن ہے۔

Posted in: محدثین کرام

Leave a Comment (0) →

امام مسلم

امام مسلم (رح) کے حالات زندگی

جن علماء اور محدثین عظام رح نے رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنا اور امت مسلمہ کا تعلق برقرار رکھنے کے لیے رات دن جدوجہد کی انہی میں ایک عظیم جلیل، صاحب مسلم ، امام مسلم ہیں۔

نام اور سلسلہ نسب :۔ امام مسلم رح کا اصل اور صحیح نام ” مسلم ” ہی ہے والد کا نام الحجاج تھا کنیت ابوالحسین اور لقب عسا کر الدین ہے سلسلہ نسب یہ ہے، مسلم بن حجاج بن ورد بن مسلم ورد بن کوشار۔

امام مسلم رح کی نسبت قبیلہ قشیر کی طرف کی جاتی ہے اور خراسان کے ایک مشہور نیشاپور کی طرف نسبت کرتے ہوئے نیشاپوری بھی کہا جاتا ہے ۔
سن ولادت : امام مسلم رح کے سن ولادت میں کچھ اختلاف ہے عام طور پر تین سن ولادت بیان کی جاتی ہیں ، ٢٠٢ ھ، ٢٠٤ ھ اور ٢٠٦ ھ
سن وفات : امام مسلم رح نے ٢٦١ ھ میں وفات پائی ۔ امام مسلم رح کی وفات بڑی عجیب انداز میں ہوئی وہ یہ کہ ایک مجلس مذاکرہ میں امام مسلم رح سے ایک حدیث کے بارے میں پوچھا گیا امام مسلم رح کو فوری طور پر پوچھی گئی حدیث یاد نہ آئی تو گھر آکر وہ حدیث تلاش کرنی شروع کرنے بیٹھ گئے کسی نے امام مسلم رح کی خد مت میں کھجوروں کا یک ٹوکرہ رکھ دیا ۔ امام مسلم رح حدیث تلاش کرنے کے لیے ایسے منہمک ہوئے ساتھ ساتھ ایک ایک کر کے کھجوریں بھی کھاتے رہے وہ حدیث بھی تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ ساری رات گزر گئی اور وہ حدیث بھی مل گئی اور وہ کھجوروں کا ٹوکرہ بھی کھاتے کھاتے ختم ہوگیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہی ( اس قدر کثیر تعداد میں کھجوروں کا کھانا ہی) امام مسلم رح کی وفات کا سبب بن گیا ، ٢٤ رجب ٢٦١ ھ بروز اتوار کے دن شام کے وقت وفات پائی اور نیشاپور میں دفن ہوئے ۔

ابتدائی حالات زندگی اور اساتذہ اکرام : امام مسلم رح نے ٢١٨ ھ میں احادیث کا سماع شروع فرمایا۔ ان کے اساتذہ میں امام احمد ، امام حنبل امام احمد بن یو نس، سعید بن منصور، ابو عبداللہ بن مسلمہ، حرملہ بن یحییرح وغیرہ شامل ہیں ۔ امام مسلم رح نے اپنے والدین کی سرپرستی میں بہترین تربیت حاصل کی اور اس پاکیزہ تربیت کا یہی اثر تھا کہ ابتدائی عمر سے زندگی کے آخری لمحات تک امام مسلم رح نے نہایت ہی پرہیزگاری اور دینداری کی زندگی گزاری اور کبھی کسی کو اپنی زبان سے برا نہ کہا حتی کہ نہ کسی کی غیبت کی اور نہ ہی کسی کو اپنے ہاتھ سے مارا پیٹا۔ نیشاپور میں آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی، آپ کا قوت حافظہ اس قدر تھا کہ آپ نے بہت ہی تھوڑے عرصہ میں رسمی علوم وفنون حاصل کر کے احادیث نبویہ کی طر ف توجہ مبذول کرلی امام مسلم رح نے احادیث نبویہ کے حصول کے لیے مختلف مقامات کی خاک چھانی عراق، حجاز، مصر، شام تو کئی مر تبہ تشریف لے گئے اور بغداد میں تو آخری عمر تک سلسلہ سفر جاری رہا۔

امام مسلم رح کے مشہور شاگرد : صاحب ترمذی ابو عیسیٰ ترمذی، امام ابوبکر ابن خزیمہ امام ابوعوانہ، ابو حاتم رازی یحییٰ بن ساعدہ امام مسلم رح کے ان کے علاوہ اور بھی بہت سے ائمہ حدیث شاگرد ہیں ،

امام مسلم رح کی تصانیف : امام مسلم کی سب سے مشہور و معروف اور مقبول عام تصنیف تو یہی صحیح مسلم ہی ہے لیکن اس کے علاوہ امام مسلم رح نے اور بھی کافی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں چند تصانیف یہ ہیں (١) المسند الکبیر علی الرجا ل (٢) الا سماء والکنی (٣) کتاب الجامع علی الابواب (٤) الجامع الکبیر (٥) کتاب السیر (٦) کتاب علل (٧) کتاب الوجدان (٨) کتاب الا قران (٩) کتاب المشائخ ثوری (١٠) کتاب سوالا ت امام احمد بن حبنل (١١) کتاب حدیث عمر وبن شعیب (١٢) کتاب مشائخ مالک (١٣) کتاب مشائخ ثوری (١٤) کتاب مشائخ شعبہ (١٥) کتاب اولادصحابہ (١٦) کتاب اوہام المحدثین (١٧) کتاب رواہ الشا مین (١٨) کتاب رواۃ الا عتبار (١٩) کتاب المخغرمین

امام مسلم رح نے یہ شرط لگائی ہے کہ وہ اپنی صحیح میں صرف وہ حدیث بیان کریں گے جس کو کم ازکم دوثقہ تابعین نے دوصحابیوں سے روایت کیا ہو اور یہی شرط تمام طبقات تابعین وتبع تابعین میں ملحوظ رکھی ہے یہاں تک کہ سلسلہ اسناد ان (مسلم ) تک ختم ہو۔ دوسرے یہ کہ راویوں کے اوصاف میں صرف عدالت پر ہی اکتفاء نہیں کرتے بلکہ شرائط شھادت کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں۔

امام مسلم رح کی خدادا د صلاحیتوں نے خود امام مسلم کے اساتذہ اکرام کو بھی ان کا اس قدر گرویدہ بنالیا تھا کہ اسحاق بن راہویہ جیسے امام فن بھی پکار اٹھے کہ کہ لن نعدم الخیر ماابقاک اللہ للمسلمین یعنی جب تک اللہ تعالیٰ آپ رح کو مسلمانوں کے لیے زندہ رکھے گا، بھلائی ہمارے ہاتھ سے نہیں جانے پائے گی (مقدمہ فتح الملہم)

امام مسلم رح فرماتے ہیں کہ میں نے تین لاکھ احادیث نبویہ میں منتحب کر کے یہ کتاب صحیح مسلم تیار کی ہے اللہ پاک ہمیں جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس کے ساتھ تعلق و محبت کے ساتھ ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرامین مبارکہ کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی تو فیق عطا فرمائے۔ ہر گمراہی سے ہماری حفاظت فرمائے آمین۔

Posted in: محدثین کرام

Leave a Comment (0) →
Page 2 of 21 12345...»