Blog

تفسیر ابن عباس

تفسیر ابن عباس (تنویر المقب اس من تفسیر ابن عباس)
تعارف کتاب و امتیازی خصوصیات :
یہ تفسیر در اصل ایک عربی تفسیر ” تنویر المقب اس من تفسیر ابن عباس ” کا اردو ترجمہ ہے :
اصل عربی تفسیر کے مصنف ابو الطاہر محمد بن یعقوب بن محمد بن بن ابراہیم نجد الدین الشیرازی الشافعی ہیں۔ اور یہ تفسیر تفسیر قرآن سے متعلق حضرت ابن عباس (رض) کی روایات کا مجموعہ ہے :
ہمارے سوفٹ ویئر ” ایزی قرآن و حدیث ” میں اس تفسیر کا اردو ترجمہ شامل کیا گیا ہے۔ اس تفسیر کے اردو ترجمہ کا کام پر وفسیر حافظ محمد سعید احمد عاطف نے سر انجام دیا ہے۔ اور ہمارے سوفٹ ویئر میں جو نسخہ شامل کیا گیا ہے وہ ” مکی دار الکتب ” 37 مزنگ روڈ بک سٹریٹ، لاہور، پاکستان سے طبع شدہ ہے۔
ذیل میں ، اس کتاب کا مختصر تعارف، پیش ہے :
عربی تفسیر ” تنویر المقب اس “
اس تفسیر ” تنویر المقب اس ” کے حوالے سے اسلاف کی آراء مختلف فیہ ہیں۔ اس کی اسناد کے متعلق بھی گفتگو کی خاصی گنجائش ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی متعدد روایات صحاح ستہ و دیگر کتب حدیث مثلا : مسند احمد بن حنبل، مسند ابی داود الطیالسی، مسند الشافعی، مسند الحمیدی، معجم طبرانی، المنتقی لابن جارود، سنن دارمی، سنن الدارقطنی میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کے اقوال و آثار بھی ہیں۔ لغتِ عرب، تاریخ عرب، ایام العرب سے استشہاد و استناد بھی ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) کی روایات سے مزین ہیں۔ ان تمام شواہد اور قرائن کی موجودگی میں اس مجموعہ روایات ابن عباس سے بےاعتنائی، قرینِ انصاف نہیں۔ پھر یہ تفسیر ایک طویل عرصے سے ہزاروں کی تعداد میں دنیا کے مختلف حصوں میں زیور طبع سے آراستہ ہورہی ہے اور اہل علم اس سے استفادہ بھی کرتے رہے ہیں۔ اور ہمارے پاس ابن عباس (رض) جیسے مفسر اعظم کی تفسیری آراء کا اس کے علاوہ کوئی اور مجموعہ نہیں ہے۔ اس تفسیر کا ایک قلمی نسخہ پنجاب پبلک لائبریری لاہور میں موجود ہے۔ یہ تفسیر 1314 ھ کو امام سیوطی کی تفسیر در منثور کے حواشی پر مصر سے شائع ہوئی اور مستقل طور پر 1316 ھ کو مصر سے چھپی اور برصغیر میں کئی مرتبہ شائع ہوئی، 1285 ھ کو شاہ ولی اللہ کے ترجمہ قرآن کے ساتھ اور پھر شاہ رفیع الدین کے اردو ترجمہ کے حاشیہ پر بھی شائع ہوئی ۔ اردو ترجمہ پہلی بار 1926 ء میں آگرہ سے شائع ہوا اور 1970 میں مولانا عابد الرحمن صدیقی کے ترجمہ کو کلام کمپنی کراچی نے شائع کیا۔
تعارف مفسر :
نام و نسب
آپ کا نام عبداللہ، ابوالعباس کنیت تھا۔ آپ کے والد کا نام حضرت عباس (رض) اور والدہ کا نام ام‏الفضل لبابہ (رض) عنہا تھا۔ آپ کا شجرہِ نسب یہ ہے۔
عبداللہ بن العباس بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف۔
آپ کے والد حضرت عباس (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سگے چچا تھے۔ اس طرح آپ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ابن عم تھے۔ آپ (رض) ام المومنین حضرت میمونہ (رض) کے خواہرزادہ تھے کیونکہ آپ (رض) کی والدہ ام الفضل (رض) اور حضرت میمونہ (رض) حقیقی بہنیں تھیں۔
پیدائش
حضرت عبداللہ ابن عباس کی پیدائش ہجرت سے 3 برس قبل شعب ابی طالب میں محصوریت کے دوران ہوئی تھی۔ آپ کی پیدائش کے بعد حضرت عباس (رض) آپ کے بارگاہِ رسالت میں لے کر آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈال کر آپ کے حق میں دعا فرمائی۔
قبولِ اسلام
آپ کے والد محترم حضرت عباس (رض) نے اگرچہ فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا، لیکن آپ کی والدہ حضرت ام الفضل (رض) نے ابتدا میں ہی داعی توحید کو لبیک کہا تھا۔ اس لئے آپ کی پرورش توحید کے سائے میں ہوئی۔
ہجرت
حضرت عباس (رض) 8 ہجری میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے۔ اس وقت آپ کی عمر تقریباً 11 سال تھی۔ آپ اپنے والد کے حکم سے بیشتر اوقات بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوتے تھے۔
عہد طفویلیت میں مصاحبتِ رسول
آپ کی مصاحبت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جو زمانہ پایا، دراصل وہ آپ کے لڑکپن کا زمانہ تھا۔ تاہم آپ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت میں اکثر رہتے۔ ام المومینین حضرت میمونہ (رض) آپ کی خالہ تھی اور آپ سے بہت شفقت رکھتیں تھیں اس لیے آپ اکثر انے خدمت میں حاضر رہتے تھے اور کئی دفع رات میں انکے گھر پر ہی سو جاتے تھے۔ اس طرح انکو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت سے مستفیض ہونے کا بہترین موقع میسر تھا۔ آپ ایسے ہی ایک رات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔
” ایک مرتبہ میں اپنی خالہ کے پاس سو رہا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور چار رکعت پڑھ کر استراحت فرما ہوئے، پھر کچھ رات باقی تھی کے آپ بیدار ہوئے اور مشکیزہ کے پانی سے وضو کر کے نماز پڑھنے لگے میں بھی اٹھ کر بائیں طرف کھڑا ہوگیا۔ آپ نے میرا سر پکڑ کر مجھے داہنی طوف کھڑا کرلیا۔ “
آپ کے حق میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا
اسی طرح ایک بار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لئے بیدار ہوئے تو آپ (رض) نے وضو کے لئے پنی لا کر رکھ دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو سے فراخت کے بعد پوچھا کے پانی کون لایا تھا۔ حضرت میمونہ (رض) نے حضرت عبداللہ بن عباس کا نام لیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خوش ہو کر یہ دعا دی۔
” اللهم فقهه في الدين وعلمه التأويل‎
یعنی اے اللہ اس کو مذہب کا فقیہ بنا اور تاویل کا طریقہ سکھا “
وفات : آپ (رض) کی وفات : 68 ہجری بمطابق 687 ء میں ہوئی۔
تعارف مصنف :
1. اس تفسیری مجموعہ کے مؤلف و مرتب کا مکمل نام ابو الطاہر محمد بن یعقوب بن محمد بن ابراہیم نجد الدین بن الشیرازی الشافعی ہے۔
پیدائش : آپ شیراز شہر کے قریب ایک گاؤں ” کا زشرون ” میں 749 ہجری بمطابق 1339 ء کو پیدا ہوئے۔
ابتدائی تعلیم :
آپ کی تعلیم کا علاقہ اور اساتذہ کا دائرہ خاصا وسیع ہے۔ ابتداء شیراز ہی سے تعلیم حاصل بعد ازیں بغداد کا رخ کیا جو اس وقت علم و فن کا مرکز تھا۔ ازاں بعد امام ابن قیم اور امام السبکی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ پھر بیت المقدس تشریف لے گئے اور تقریبا دس سال تک تعلیم و تعلم کا یہ سلسلہ بیت المقدس میں قریباً دس سال تک چلتا رہا۔ اس کے علاوہ آپ نے حرمین شریفین، ترکی، قاہری اور ہندوستان کے شیوخ و اکابر سے بھی علم حاصل کیا۔
مقام ومرتبہ : آپ اپنے وقت کے جلیل القدر، مفسر، محدث، ماہر لغت اور اعلی پائے کے ادیب تھے۔ شخصی اعتبار سے بڑے غیرت مند، خود دار اور متقی تھے۔ زندگی کا انداز سادہ و پروقار تھا۔ ۔
آپ کی تصانیف درج ذیل ہیں :
تنویر المقب اس من تفسیر ابن عباس
بصائر ذوالتمیز فی لطائف الکتاب العزیز کے نام سے آپ نے قرآن مجید کی چھ جلدوں پر مشتمل تفسیر لکھی۔ یہ تفسیر قاہرہ و بیرت سے بار ہا چھپ چکی ہے۔
علامہ زمخشری کی کشات کے خطبہ کی ایک مستقل شرح لکھی۔
سیرت النبی پر مختصر کتاب سفر السعادۃ یا الصراط المستقیم کے نام سے لکھی۔
بخاری شریف کی ایک شرح بھی لکھی۔
آپ کی اہم اور مشہور ترین تالیف، القاموس، ہے۔ یہ جامع ترین عربی لغات میں شمار ہوتی ہے۔
البلغہ فی تاریخ ائمۃ اللغۃ۔
کتاب تحبیر الموشین فیما نقال بالسین والشین۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

ترجمہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی

ترجمہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی
مترجمہ کا تعارف :
1 ۔ ڈاکٹر فرحت ہاشمی ایک مشہور مسلم سکالر ہیں جو سرگودھا کے ایک عالم عبدالرحمن ہاشمی کی بیٹی ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ 22 دسمبر 1957 میں سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔
ابتدائی تعلیم سرگودھا میں حاصل کی۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے عربی زبان میں ماسٹرز کیا ۔
ڈاکٹر صاحبہ نے یونیورسٹی آف گلاسکو ، سکاٹ لینڈ سے اسلامک سٹڈیز میں پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
خدمات :
ڈاکٹر صاحبہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد میں لیکچرر اور اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر شعبہ اصول الدین میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔
ڈاکٹر صاحبہ نے 1994 میں ” الہدی انٹرنیشنل ” کے نام سے ایک اسلامی سکول کی بنیاد رکھی ۔ جس کا مقصد خواتین میں قرآن وحدیث کا درس اور تعلیمات عام کرنا ہے۔ اس ادارہ کے دروس ، لٹریچر اور کتب تاحال علم کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

ترجمہ فتح محمد جالندھری

اصل نام : ترجمہ فتح الحمید
مصنف : مولوی فتح محمد خاں جالندھری
ناشر : تاج کمپنی لمیٹڈ
مختصر تعارف :
ترجمہ فتح الحمید سادہ، سلیس اور عام فہم ترجمہ فتح الحمید کے نام سے مولوی فتح محمد خاں جالندھری المتوفی نے کیا جو اپنی سادگی، سلاست اور عوامی مذاق کا ہونے کے باعث بہت مشہور ہوا۔ علماء و عوام نے اس کو بہت پسند کیا۔ اس کا پہلا ایڈیشن تقریباً ١٩٠٠؁ء میں رفاہ عام پریس امرتسر سے طبع ہوا اور برابر چھپ رہا ہے۔ پھر پاکستان میں تاج کمپنی نے شائع کیا۔ مذکورہ سوفٹ وئیر میں شامل نسخہ تاج کمپنی کا ہی ہے۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

ترجمہ عرفان القرآن

پچھلی صدیوں میں اردو زبان میں قرآن حکیم کا کوئی ایسا ترجمہ نہیں کیا گیا، جو سلیس، جامع اور مفصل ہونے کے ساتھ ساتھ زندگی کے جدید تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے عصر حاضر کی ارتقائی علمی سطحوں کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہو۔ ان پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے عرفان القرآن کے نام سے قرآن حکیم کا ایسا ترجمہ پیش کیا ہے، جو اردو بولنے والی دنیا میں ہر خاص و عام اور مکاتب فکر میں یکساں مقبول ہے۔ یہ نہ صرف ہر ذہنی سطح کیلئے یکساں طور پر قابل فہم ہے بلکہ موجودہ دور کی سائنسی تحقیق، قرآنی جغرافیہ اور قرآن پاک میں مذکور مختلف اقوام کے تاریخی پس منظر کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ سلیس، رواں، بامحاورہ یہ ترجمہ قارئین کی خدمت میں روحانی حلاوت، ادب الوہیت اور ادب و تعظیم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تحفہ ہائے گراں قدر بھی پیش کرتا ہے۔
عرفان القرآن اپنی نوعیت کا ایک منفرد ترجمہ ہے جو کئی جہات سے دیگر تراجم قرآن کے مقابلہ میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس کی درج ذیل خصوصیات اسے دیگر تراجم پر فوقیت دیتی ہیں :
* ہر ذہنی سطح کے لیے یکساں قابل فہم اور منفرد اسلوب بیان کا حامل ہے، جس میں بامحاورہ زبان کی سلاست اور روانی ہے۔
* ترجمہ ہونے کے باوجود تفسیری شان کا حامل ہے اور آیات کے مفاہیم کی وضاحت جاننے کے لیے قاری کو تفسیری حوالوں سے بےنیاز کردیتا ہے۔
* یہ نہ صرف فہم قرآن میں معاون بنتا ہے بلکہ قاری کے ایقان میں اضافہ کا سامان بھی ہے۔
* یہ تاثیر آمیز بھی ہے اور عمل انگیز بھی۔
* حبی کیفیت سے سرشار ادب الوہیت اور ادب بارگاہ نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایسا شاہکار ہے جس میں حفظ آداب و مراتب کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔
* یہ اعتقادی صحت و ایمانی معارف کا مرقع ہے۔
* تجدیدی اہمیت کا حامل دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدید ترین اردو ترجمہ ہے، جس میں جدید سائنسی تحقیقات کو مد نظر رکھا گیا ہے۔
* یہ علمی ثقاہت و فکری معنویت سے لبریز ایسا شاہکار ہے، جس میں عقلی تفکر و عملیت کا پہلو بھی پایا جاتا ہے۔
* روحانی حلاوت و قلبی تذکر کا مظہر ہے۔
* اس میں نہ صرف قرآنی جغرافیہ کا بیان ہے بلکہ سابقہ اقوام کا تاریخی پس منظر بھی مذکور ہیں۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

ترجمہ حافظ نذر احمد

ترجمہ حافظ نذر احمد
(نام : آسان ترجمہ قرآن، ترجمہ لفظی (3 جلد
(مترجم : حافظ نذر احمد صاحب (رح
ناشر : مسلم اکادمی
زیر نظر نسخہ : شائع شدہ 2013
ہمارے سوفٹ وئیر میں قرآن مجید کے متعدد تراجم شامل ہیں لیکن ان سب میں ترجمہ ھذا کئی اعتبار سے منفرد ہے :
1 ۔ ہر لفظ کا جدا جدا ترجمہ اور پوری سطر کا سلیس ترجمہ یکساں ہے۔
2 ۔ ہر سطر کا ترجمہ اسی سطر میں دیا گیا ہے تاکہ قاری کو اشتباہ نہ ہو۔
3 یہ ترجمہ تینوں مسلک کے علمائے کرام (اہل سنت والجماعت، دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کا نظر ثانی شدہ اور ان کا متفق علیہ ہے۔
4 ۔ اس کا آغاز مصنف نے حرم کعبہ میں بیٹھ کر کیا اور اختتامی سطور بھی حرم کعبہ میں بیٹھ کر لکھیں۔ یہ پہلا ترجمہ قرآن ہے، جس میں ترجمے کا اچھوتا اور منفرد انداز اختیار کیا گیا ہے۔
حافظ نذر احمد
آپ کی پیدائش 1919 ء میں ہوئی، جبکہ انتقال 2011 ء میں ہوا۔ آپ کے والد ماجد کا نام الحاج ضمیر احمد شیخ تھا، جو نگینہ کے رہنے والے تھے۔ نگینہ ہندوستان کے ضلع بجنور کا ایک قصبہ ہے، جو دینی مزاج کے حامل مسلمانوں کا علاقہ تھا۔ اس طرح آپ قرآن السعدین تھے۔ اسباب و وجوہات تو پر دئہ اخفا میں ہیں، تاہم جب حافظ صاحب کی عمر 16 برس کے قریب ہوئی تو آپ نگینہ چھوڑ کر لاہور چلے آئے۔ یہ واقعہ 1935 ء کا ہے، جبکہ پاکستان کی تشکیل 1947 ء یعنی آپ کی ہجرت لاہور سے بارہ برس بعد عمل میں آئی۔ لاہور میں آپ نے گڑھی شاہو کے قریب محلہ محمد نگر میں سکونت اختیار کرلی۔ آخری وقت تک اسی گھر میں رہے۔ یہ چھوٹا سا گھر تھا، جو، اَب بھی ہے۔ آپ کی سلبی اولاد نے اسی گھر میں جنم لیا۔
حافظ صاحب کے تعلقات ملک کے بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ تھے، جن میں حکومت کے چوٹی کے عہدیداران بھی شامل ہیں۔ ہم نے آئی جی سے لے کر وزیر اعلیٰ تک کو ان کے سامنے سراپا عجز دیکھا اور حافظ نذر احمد کو سراپا متوکل اور باوقار پایا۔ نہ لالچ، نہ خواہش، بس خلوص و محبت اور البغض للّٰہ والحب للّٰہ کا مجسم پیکر۔ شہر کے پوش علاقے سمن آباد سے لے کر ماڈل ٹاو¿ن، گلبرگ تک سب آپ کے سامنے آباد ہوئے۔ آپ چاہتے تو اپنے ایک اشارے پر پوش کالونیوں میں بڑے سے بڑا قطع زمین حاصل کرسکتے تھے، لیکن قلندر جز دوحرفے لاالہ کچھ بھی نہیں رکھتا۔ آپ پون صدی محمد نگر کے چھوٹے سے پرانے گھر میں مکین رہے، حتیٰ کہ 3 ستمبر 2011 ء آگیا اور آپ کا جنازہ بھی محمد نگر کی اسی تنگ و تاریک گلی سے اٹھا، جس میں صغیر و کبیر سب شامل تھے۔ کسی کے لئے کوئی امتیاز نہ تھا۔ جنازہ اٹھاتے ہی اللہ نے بارانِ رحمت نازل کردی۔ موسم خوشگوار ہوگیا، اللہ کی طرف سے یہ علامت، رحمت، بخشش و مغفرت اور توبہ کی تھی۔
برصغیر کے پرانے رواج اور طریقے کے مطابق تعلیم کا آغاز کلام الٰہی قرآن مجید سے ہوا۔ آپ کے ماموں حافظ نیاز احمد کا شمار علاقے کے جید اساتذئہ قرآن میں ہوتا تھا۔ آپ نے انہی سے قرآن مجید ناظرہ پڑھا، پھر حفظ کیا۔ ابتدائی کتب عربی، فارسی مدرسہ عربیہ قاسمیہ نگینہ میں پڑھیں۔ آپ کے استاد حافظ نیاز احمد نے کلام اللہ کے ساتھ محبت، عشق کی حد تک بھر دی تھی۔ یہ شوق اتنا بڑھا کہ علم تجوید و قرا¿ت کے حصول کی خاطر قاری محمد سلیمان دیوبندی کی خدمت میں لے گیا۔ قاری محمد سلیمان دیوبندی کا شمار برصغیر کے چوٹی کے اساتذہ قرا¿ت میں ہوتا ہے۔ حافظ صاحب کو علم تجوید و قرا¿ت کے ساتھ بڑا شغف تھا۔ اس حوالے سے ہر کوشش کو خوب پذیرائی بخشتے۔ راقم نے علم تجوید و قرا¿ت کے حوالے سے 1991 ء میں ماہنامہ التجوید جاری کیا تو بہت خوشی کا اظہار فرمایا۔ بہت زیادہ حوصلہ افزائی کی۔ اظہار کے لئے الفاظ قاصر ہیں۔
حافظ نیاز احمد کا دیا ہوا یہی شوق تھا جس کی وجہ سے حافظ نیاز احمد نے آغاز میں آپ کے دل میں قرآن کی جوت جگا دی تھی۔ حافظ صاحب لاہور منتقل ہوئے تو یہی جاگی جوت آپ کو حضرت مولانا احمد علی (رح) کی خدمت میں لے گئی۔ آپ مولانا کے حلقہ درس قرآن میں شریک ہوئے اور علوم قرآن کے مستور باطنی علوم سے آگاہی حاصل کی۔ اس سفر میں آپ کے استاد جناب علامہ علاو¿الدین صدیقی بھی تھے۔ اس طرح علامہ صاحب بیک وقت آپ کے ہم درس، ہم استاد بھی رہے۔ علامہ علاو¿الدین صدیقی صاحب خطبہ جمعہ مسجد شاہ چراغ میں ارشاد فرماتے تھے۔ حافظ صاحب چونکہ علامہ صاحب کے شاگرد بھی تھے، اس لئے جب کبھی کسی وجہ سے جمعہ میں تشریف نہ لاسکتے تو علامہ صاحب خطبہ جمعہ شاہ چراغ کی ذمہ داری حافظ نذر احمد کے سپرد کرکے جاتے تھے۔
حافظ صاحب نے کوچہ سیاست میں بھی قدم رکھا۔ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن جو قائد اعظم (رح) کے نظریات کی حامی تنظیم تھی، جس نے قائد اعظم (رح) کے پیغام کو ہندوستان کی بستی بستی اور قریہ قریہ پھیلایا اور پاکستان کی تشکیل کے لئے فضا ہموار کی۔ 1941 ء میں قائد اعظم (رح) اس تنظیم کی دعوت پر لاہور تشریف لائے اور اسلامیہ کالج میں خطاب بھی فرمایا۔ حافظ صاحب اس جلسے کے آفس سیکرٹری تھے۔ اسی طرح آپ نے مسلم لیگ میں بڑا مثبت کردار ادا کیا، لیکن جب مسلم لیگ میں لالچ کی سیاست در آئی، اقتدار کا حصول ہی مقصد ٹھہرا، سیاست کاروں نے بیسوا کا روپ دھارا تو آپ مسلم لیگ سے مایوس ہوگئے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) کی قائم کردہ جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت اختیار کرلی۔ مولانا عثمانی کے حکم پر صوبہ پنجاب کے نائب ناظم مقرر ہوئے …. علمی آبیاری اور دینی، ملی، قومی، اصلاحی خدمت کے حوالے سے آپ بہت سے اداروں سے وابستہ رہے
آپ نے قرآن کا ترجمہ لکھا۔ اس کا نام آسان ترجمہ قرآن ہے۔ اس کا آغاز آپ نے حرم کعبہ میں بیٹھ کر کیا اور اختتامی سطور بھی حرم کعبہ میں بیٹھ کر لکھیں۔ یہ پہلا ترجمہ قرآن ہے، جس میں ترجمے کا اچھوتا اور منفرد انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اس میں ہر لفظ کے نیچے اس کا لفظی ترجمہ اور پھر بامحاورہ ترجمہ لکھا گیا ہے۔ اس ترجمہ کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کو تمام مکاتب فکر کے اکابر کی تائید حاصل ہے اور سب اس پر متفق ہیں۔ علمی حلقوں میں یہ ترجمہ بہت مقبول ہوا
اس کے بعد آپ نے تعلیم القرآن خط و کتابت سکول کے نام سے ادارہ قائم کرکے اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کی داغ بیل ڈالی، پھر آپ نے اس کا دائرہ پاکستان کی جیلوں تک بڑھایا، تاکہ یہاں پر محبوس قیدی اسلام کی اصلاحی تعلیمات سے روشناس ہوں اور اپنی زندگیوں میں انقلاب برپا کرسکیں
ستمبر 2011 ء کو یہ عظیم شخصیت دنیا سے رخصت ہوگئی، لیکن علمی اور قرآنی خدمات ان کو ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →
Page 18 of 21 «...101617181920...»