Blog

تفسیر ظفر

مصنف : مولانا سید ظفر حسن امروہوی
کتاب کا تعارف
مصنف نے دیباچہ کتاب میں ” عرض حال ” کے عنوان کے تحت تفسیر کی مندرجہ ذیل خصوصیات لکھی ہیں :
1 ۔ تفسیر ھذا نہ زیادہ مختصر ہے نہ زیادہ طولانی۔
2 ۔ کلھا فی التفسیر الا تفسیر کا مصداق نہیں ہے ۔ ضروری چیزیں اختصار کے ساتھ بیان کردی گئی ہیں۔
3 ۔ ایسی روایتیں درج نہیں کی گئی جو روایتا و درایتاً صحیح نہیں ہیں۔
4 ۔ سلیس اردو کا استعمال کیا گیا ہے۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

تفسیر ضیاء القرآن

ترجمہ و تفسیر ضیاء القرآن
یہ پیرمحمد کرم علی شاہ ازہری کی لکھی ہوئی تفسیر ہے ، یہ تفسیر قدرے مفصل اور معانی قرآن کے بیان میں بہت ہی واضح ہے، مصنف موصوف کی تفہیم کا انداز بڑا اچھوتا ہے، ہر سورت سے پہلے اس کا اجمالی تعارف ہے خصوصاً سورة کا زمانہ نزول، اس کا ماحول، اس کے اہم اغراض ومقاصد، اس کے مضامین کا خلاصہ اور اگر اس میں کسی سیاسی یاتاریخی واقعہ کا ذکر ہے تو اس کا پس منظر، ترجمہ میں پیراگراف کے ذریعہ لکیریں کھینچ کر اس کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے، نحوی وصرفی اور لغوی مشکلات کو مستند لغات اور تفسیروں سے حل کیا گیا ہے۔
مصنف کا تعارف :
ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری (رح) ایک عظیم صوفی و روحانی بزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مایہ ناز مفسر، سیرت نگار، ماہر تعلیم، صحافی، صاحب طرز ادیب اور دیگر بیشمار خوبیوں کے مالک تھے۔ تفسیر ضیاء القرآن، سیرت طیبہ کے موضوع پر ضیاء النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، 1971 سے مسلسل اشاعت پذیر ماہنامہ ضیائے حرم لاہور، منکرین حدیث کے جملہ اعتراضات کے مدلل علمی جوابات پر مبنی حدیث شریف کی اہمیت نیز اس کی فنی، آئینی اور تشریعی حیثیت کے موضوع پر شاہکار کتاب سنت خیر الانام، فقہی، تاریخی، سیاسی، معاشی، معاشرتی اور دیگر اہم موضوعات پر متعدد مقالات و شذرات آپ کی علمی، روحانی اور ملی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف اور ملک بھر میں پھیلی ہوئی اس کی شاخوں کی صورت میں بر صغیر کی بےنظیر علمی تحریک اور معیاری دینی کتب کی اشاعت و ترویج کا عظیم اشاعتی ادارہ ضیاء القرآن پبلیکیشنز ان کے علاوہ ہیں۔

آپ کا نام پیر ابو الحسنات پیر محمد کرم شاہ الازہری ہے۔
آپکی پیدائش 21 رمضان المبارک 1336 ھ بمطابق یکم جولائی 1918 ء سوموار کی شب بعد نماز تراویح بھیرہ شریف ضلع سرگودھا میں ہوئی۔
آپ نے 1936 ء میں گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا
میں جامعہ پنجاب سے بی۔اے کا امتحان اچھی پوزیشن سے پاس کیا۔
دورہ حدیث
علوم عقلیہ و نقلیہ سے فراغت کے بعد دورہ حدیث شیخ الاسلام حضرت خواجہ قمر الدین سیالوی، سیال شرف کے حکم پر حضرت صدرالافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی سے 1942 ء سے 1943 ء تک مکمل کیا اور بعض دیگر کتب بھی پڑھیں۔
جامعہ الازہر مصر
ستمبر 1951 ء میں جامعہ الازہر مصر میں داخلہ لیا اور ساتھ ہی ساتھ جامعہ قاہرہ سے ایم۔اے کیا۔ جامعہ الازہر سے ایم۔فِل نمایاں پوزیشن سے کیا۔ یہاں آپ نے تقریباً ساڑھے تین سال کا عرصہ گزارا۔
عدالتی امور کی انجام دہی
1981 ء میں 63 سال کی عمر میں آپ وفاقی شرعی عدالت کے جج مقرر ہوئے اور 16 سال تک اس فرض کی پاسداری کرتے رہے۔ آپ نے متعدد تاریخی فیصلے کیے جو عدالتی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔
تصانیف
• ضیاء القرآن
3500 صفحات اور 5 جلدوں پر مشتمل یہ تفسیر آپ نے 19 سال کے طویل عرصہ میں مکمل کی۔
• جمال القرآن
قرآن کریم کا خوبصورت محاوراتی اردو ترجمہ جسے انگریزی میں بھی ترجمہ کیا گیا۔
• ضیاء النبی
7 جلدوں پر مشتمل عشق و محبتِ رسول سے بھرپور سیرت کی یہ کتاب عوام و خواص میں انتہائی مقبول ہے۔ اس کا انگریزی ترجمہ بھی تکمیل پذیر ہے۔
• سنت خیر الانام
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے نصاب میں شامل یہ کتاب سنت اور حدیث کی اہمیت اور حجیت کی موضوع پر لکھی گئی ہے۔ یہ آپ کی پہلی کاوش ہے جو آپ نے جامعہ الازہر میں دورانِ تعلیم تالیف کی۔
ذوالحجۃ 1418 ھ بمطابق 7 اپریل 1998 ء بروز منگل رات طویل علالت کے بعد آپ کا وصال ہوا۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

تفسیر سراج البیان

ترجمہ و تفسیر سراج البیان
تفسیر سراج البیان علامہ محمد حنیف ندوی صاحب کی تالیف ہے۔ آپ کی شخصیت اہل علم کے نزدیک محتاج تعارف نہیں، ایک دو نہیں درجن بھر سے زیادہ ضخیم، معتبر، معیاری اور تخلیقی کتابوں کے مصنف ہیں اور ہر کتاب پر اہل علم سے دادوتحسین حاصل کرچکے ہیں۔ یہ تفسیر، مختصر اور جامع ترین تفسیر ہے۔ ترجمہ میں اصل بنیاد ان ہی دونوں ترجموں کو بنایا ہے جو اکثر تراجم کی بنیاد ہیں لیکن اور لوگوں نے باقاعدہ اس کا اظہار نہیں کیا جیسا کہ مصنف سراج البیان نے اس کو باقاعدہ ذکر کیا ہے۔ علامہ صاحب نے صرف اتنا کیا ہے کہ اگر کوئی لفظ متروک ہوگیا ہے تو اس کو چھوڑ دیا اور نامانوس ہوا تو ترک کردیا اور قاری کے لیے تفہیم و تقریب ذہنی کے لیے پورا پورا انتظام فرمایا۔ ہر صفحہ کے اہم مضامین کی تبویب فرمائی اور اہم مضامین کو مختصر الفاظ میں اجاگر فرما دیا۔ اکثر وہ مضامین نمایاں فرماتے ہیں جو اکثر تفاسیر میں نظر نہیں آتے، اس کے باوجود قبوری تصوف سے کلیتاً اجتناب برتا۔ ٢۔ انداز محققانہ ہے۔ نہ کسی کی تقلید ناکسی سے مرعوبیت۔ ٣۔ تفسیر کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ مفسر اپنی وسعت معلومات، علوم نقلیہ و عقلیہ پر اپنی دست رسی کا پورا پورا استعمال کرتا ہے، افکار قدیمہ و جدیدہ کا جامع ہے اور علوم شرعیہ کی پوری معلومات رکھتا ہے اور تمام طرح کی کتب تفسیر سے واقف ہے۔ ٤۔ علم کلام و تصوف کے معارف تفسیری کا استیعاب بہتر انداز میں فرمایا ہے۔ ٥۔ ادبی و لغوی نکات کو حسب موقع اجاگر فرمایا ہے اور اس کے ذریعہ آیت کریمہ کے معنی کی وضاحت فرمائی ہے۔ ٦۔ دور جدید کے مسائل کی وضاحت بحسن و خوبی فرمائی ہے۔ ٧۔ مذہب سلف کا دلیل و برہان سے برتر و اعلیٰ ہونا ثابت کیا ہے۔ ٨۔ حل لغات کا التزام فرمایا ہے۔ ٩۔ انداز بیاں دل نشیں اور وجد آفریں ہے۔ ١٠۔ تفسیر کا مطالعہ بیدار مغز قاری کو عجیب احساسِ سرور عطا کرتا ہے، قرآن کے ندرت خیال اور حسن بیان کا گرویدہ کرلیتا ہے اور اس پر قرآن کی عظمت کا پورا پورا اثر ہوتا ہے۔ اس طرح تفسیر سراج البیان، مختصر ترین ہوتے ہوئے معارف قرآن کا جامع ترین مجموعہ ہے۔

یہ تفسیر علامہ محمد حنیف صاحب ندوی کی تالیف ہے۔ جس کے ناشر ملک سراج الدین اینڈ سنز، پبلشرز لاہور، ہیں۔ اس میں شاہ عبدالقادر دہلوی ، اور حضرت شاہ رفیع الدین دہلوی (رح) کا ترجمہ ملحوظ رکھا گیا ہے اور تفسیر کا تعارف اور خصوصیات کتاب ہی میں ان الفاظ میں لکھا گیا ہے :
یوں تو قرآن پاک کی ہزاروں تفاسیر ہر زبان میں لکھی گئی ہیں۔ مگر اردو زبان میں تفسیر سراج البیان۔ اپنے رنگ میں انوکھی، بےنظیر اور بےمثل ہے۔ یہ تفسیر تمام مستند عربی، فارسی اور اردو تفاسیر اور دیگر کتب احادیث کی مدد سے لکھی گئی ہے اور جن کتب سے مدد لی گئی ہے، ان میں سے کچھ نام یہ ہیں۔ خازن، روح المعانی، تفسیر کبیر امام رازی، تفسیری ابن جریر، در منثور، تفسیر ابن کثیر، مدارک، مسند حاکم، مسند بزار، اسباب النزول از علامہ جلال الدین سیوطی، تفسیر حقانی، خلاصۃ التفاسیر، موضح القرآن، تفسیر حسینی، تفسیر بیان القرآن اور کتب صحاح ستہ، بخاری، مسلم، ترمذی، ابن ماجہ، ابوداود، نسائی، طحاوی، موطا امام مالک وغیرہ۔
دیگر خصوصیات درج ذیل ہیں۔
1 ۔ ہر صفحہ کے مضامین کی تبویب۔ 2 ۔ انداز محققانہ۔ 3 ۔ عصری علوم و معارف سے موقع بموقع استفادہ۔ 4 ۔ تصوف و کلام کے معارف تفسیری کا استعیاب۔ 5 ۔ ادبی و لغوی نکات و حکم کا تذکرہ۔ 6 ۔ جدید زندگی کے مسائل کی وضاحت۔ 7 ۔ مذہب سلف کی برتری اور تفوق کا اظہار۔ 8 ۔ حل لغات۔ 9 ۔ زبان اعلی درجہ کی اور انداز بیان وجد آفریں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ آپ اس کا مطالعہ کرکے محسوس کریں گے کہ قرآن دنیا کے ادب میں سب سے عمدہ اضافہ ہے۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

تفسیر روح القرآن

تفسیر روح القرآن
یہ تفسیر در اصل پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی صاحب کے دروس قرآن کا مجموعہ ہے :
ان دروس کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کا اسلوب عام تفاسیر سے مختلف ہے۔ عام تفاسیر مفسر کی تحریر کا نتیجہ ہوتی ہیں اور یہ دروس در اصل ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی صاحب کی املا اور Dictation کا نتیجہ ہیں۔ یہ محترم ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی صاحب کے دروس ہیں جو انہوں نے ہفتہ وار محافل میں پڑے لکھے شائقین علوم قرآنیہ کے سامنے پیش کیے۔ ان میں علماء، پروفیسرز، دانشور، صحافی تاجر، وکلاء، کالجز، یونیورسٹیز اور مدارس کے طلبہ، کارکنان تحریک اسلامی اور عامۃ المسلمین ان کے مخاطب ہیں اور بڑی تعداد میں ذوق و شوق کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔ ۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

تفسیر دعوۃ القرآن

تفسیر دعوۃ القرآن
زیر نظر سوفٹ وئیر میں ایک تفسیر، تفسیر دعوۃ القرآن، بھی شامل ہے۔ جو مکتبہ ” دار الاندلس ” غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور والوں نے، خوبصورت پر نٹنگ اور دیدہ زیب طباعت کے ساتھ شائع کی ہے۔ یہ تفسیر دو علماء کی مشترکہ کاوش ہے۔ اس میں ترجمہ حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ کا شامل کیا گیا ہے اور تفسیری کام جناب ابو نعمان سیف اللہ خالد صاحب کا ہے۔ مذکورہ ترجمہ و تفسیر کا مختصر تعارف اسی تفسیر کے دیباچہ سے پیش ہے :
بنیادی طور پر یہ تفسیر درج ذیل خصوصیات پر مشتمل ہے۔
اس تفسیر میں قرآن مجید جو ترجمہ دیا گیا ہے وہ فضیلۃ الشیخ محترم حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ کا ہے۔ تفسیر کے ضمن میں موجود آیات میں بھی اسی ترجمے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ ترجمہ علماء وطلباء اور عوام الناس کے ہر طبقہ کے لیے یقینا مفید ہے۔ اس میں قدیم الفاظ و محاورات اور اصطلاحات سے گریز کرتے ہوئے ہر لفظ کے ترجمے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ بعض اردو تراجم میں کئی ایک قرآنی الفاظ و حروف کے معانی نہیں ملتے، جبکہ اس ترجمہ کی شان یہ ہے کہ اس میں ہر لفظ، حتی کہ تنوین تک معنی بھی عیاں ملتا ہے، پھر ترجمہ پڑھتے وقت قاری ثقل محسوس نہیں کرتا، بلکہ تسلسل کے ساتھ پڑھتا اور سمجھتا چلا جاتا ہے۔
اس تفسیر میں ممکن حد تک تفسیر کی یہ ترتیب رکھی گئی ہے۔
قرآن کی تفسیر قرآن کے ساتھ : پھر صحیح احادیث سے تفسیر، پھر اقوال صحابہ سے تفسیر۔
اس کے ساتھ درج ذیل خصوصیات کا خاص طور پر التزام کیا گیا ہے :
ضعیف اور موضوع روایات سے اعراض۔
اسرائیلی روایات کے سلسلہ میں احتیاط
تفسیر بالرائے کی بجائے تفسیر بالماثور
مختصر حواشی کا اہتمام اور بنیادی ماخذ۔
شان نزول کا ذکر
آیات کی ذیلی عنوان بندی۔
موضوعات سے متعلق مستند مواد کی فراہمی۔
مسنون دعاؤں کا عربی متن۔
تحقیقی و تخریج کا مکمل اہتمام۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →
Page 10 of 21 «...89101112...»