Blog

حضرت علامہ نواب قطب الدین خاں دہلوی

مظاہر حق کے مولف حضرت علامہ نواب قطب الدین خاں دہلوی (رح)

آپ دہلی کے ایک صاحب حیثیت اور باوجاہت خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کے اجداد ہمیشہ سے بارگاہ سلطان کے مقرب رہے اور اپنی خدمات جلیلہ کے صلہ میں بڑے بڑے مناصب اور عہدے حاصل کئے۔ مولانا بھی دربار دہلی میں بڑی عزت و عظمت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور بادشاہ وقت کی نظروں میں آپ کی بڑی وقعت تھی۔

پیدائش :
آپ کی پیدائش ١٢١٩ ھ کی ہے ابتدائی تربیت کے حصول علم کے لئے حضرت مولانا شاہ محمداسحاق محدث دہلوی کی خدمت میں دئیے گئے اور ان سے اکتساب فیض کیا اور علم حدیث میں کمال حاصل کیا۔ ان کے علاوہ حرمین شریفین کے علماء کے چشمہ علوم سے بھی مستفیض ہوئے۔
شریعت کا اتباع آپ کی زندگی کا امتیازی مقام تھا وضع قطع میں اپنے استاد کے سچے پیرو تھے اور ان سے اتنے مشابہ کہ جس نے حضرت مولانا اسحاق (رح) کو نہیں دیکھا تھا آپ کو دیکھ کر سکون حاصل کرتا تھا۔ علم و فضل کے اعلیٰ مرتبہ پر ہونے کے علاوہ تواضع وانکسار، زہد و تقوی ، عبادت و ریاضت اور اخلاق و علم کے اعلیٰ اوصاف کے حامل تھے۔

آپ کی علمی زندگی کا سب سے شاندار کارنامہ مشکوۃ شریف کا اردو ترجمہ اور شرح مظاہر حق ہے اس کے علاوہ آپ کی تصانیف کی تعداد بہت زیادہ ہے جو آپ کے علم و فضل کی شاہکار ہیں

وفات
آخر میں آپ مکہ معظمہ تشریف لے گئے اور وہیں ١٢٨٩ ھ میں وفات پائی۔

Posted in: محدثین کرام

Leave a Comment (0) →

مصنف ابن ابی شیبہ

مصنف ابن ابی شیبہ
زیر نظر کتاب امام حافظ ابوبکر ابن ابی شیبہ العبسی (رح) کی “ المصنف ” ہے۔ یہ تدوین حدیث کے ابتدائی دور کی کتاب ہے۔ ابتدائی دور میں لفظ مُصَنَّف عموماً اس مفہوم میں استعمال ہوتا تھا جس کے لیے بعد میں “ سنن ” کی اصطلاح معروف ہوئی۔ چناچہ یہ کتاب فقہی ابواب کی ترتیب پر مرتب ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس کے بارے میں احادیث و آثار اس میں موجود نہ ہوں۔ امام ابن ابی شیبہ کا اسم گرامی اسلامیات کے کسی طالب علم کے لیے محتاج تعارف نہیں، وہ امام بخاری، امام مسلم اور دیگر ائمہ ستہ میں سے بعض کے استاد ہیں اور ان کی یہ کتاب “ مصنف ابن ابی شیبہ ” حدیث کے جلیل القدر مآخذ میں شمار ہوتی ہے۔ علم حدیث کی شاید ہی کوئی کتاب اس کے حوالے سے خالی ہو۔ امام ابن ابی شیبہ چونکہ صحاح ستہ کے مؤلفین سے مقدم ہیں، اور دوسری صدی ہجری کے آخر اور تیسری صدی کے آغاز میں ہوتے ہیں اس لیے قدامت کے لحاظ سے بھی اس کتاب کو فوقیت حاصل ہے۔
مرفوع احادیث کے علاوہ صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے آثار، اقوال فتاوی اور واقعات بھی اس کتاب میں اتنی کثرت کے ساتھ ہیں کہ یہ حدیث شریف کی عظیم الشان کتاب ہونے کے ساتھ ساتھ قرون اولیٰ کے ائمہ کے فقہی افکار اور اجتہادات کا بھی انتہائی گراں قدر ذخیرہ ہے۔
امام ابن ابی شیبہ دوسری اور تیسری صدی ہجری کی مشہور علمی شخصیت ہیں ۔ آپ کی ولادت 159 ہجری میں ہوئی۔
آپ کا شمار ثقہ حفاظ حدیث میں ہوتا ہے۔
آپ کے معاصرین نے آپ کی تحسین و توصیف ان الفاظ میں کی ہے۔
صالح بن محمد کہتے ہیں۔ علل حدیث کے سب سے بڑے ماہر “ ابن المدینی ” ہیں۔ راویوں کے اسماء میں غلطیوں کو پہچاننے والے “ یحییٰ بن معین ” اور سب سے بڑھ کر حافظ حدیث ابوبکر بن ابی شیبہ ہیں۔
ابو زرعہ رازی فرماتے ہیں : میں نے ابوبکر بن ابی شیبہ سے بڑھ کر کوئی حافظ حدیث نہیں دیکھا۔ محدث ابن حبان فرماتے ہیں : ابوبکر عظیم حافظ حدیث تھے۔ آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے حدیثیں لکھیں، ان کی جمع و تدوین میں حصہ لیا اور حدیث کے بارے میں کتب تصنیف کیں۔ آپ اقوال تابعین کے سب سے بڑے حافظ تھے۔
آپ کی وفات 235 ہجری میں ہوئی۔
مُصَنَّف ابن ابی شیبہ ، عربی زبان میں حدیث کے ایک بڑے ذخیرہ کا مجموعہ ہے۔ ایزی قرآن و حدیث میں ، اس کا اردو ترجمہ شامل کیا گیا ہے۔ اردو زبان میں مذکورہ کتاب کا پہلا ترجمہ یہی ہے۔ مترجم مولانا اویس سرور صاحب ہیں۔
اس اردو ترجمہ کے بارے میں مترجم رقمطراز ہیں :
مصنف ابن ابی شیبہ کے ترجمہ سے استفادہ کرنے سے پہلے درج ذیل امور کو پیش نظر رکھنا نہایت ضروری ہے :
1 ۔ علم اصول حدیث کی اصطلاح میں مُصَنَّف ایسی کتاب کو کہتے ہیں جس میں مرفوع، موقوف اور مقطوع سب روایات کو جمع کیا گیا ہو۔
2 ۔ امام ابن شیبہ کا تعلق محدثین کے اس طبقے سے ہے جنہوں نے روایات کی جمع و تدوین پر زور دیا ہے۔ ان کا مقصد ہر اس روایت کو محفوظ کرنا تھا جو ان تک پہنچی، لہذا انہوں نے احادیث و آثار کی صحت کا التزام نہیں کیا۔ مصنف ابن ابی شیبہ سے استفادہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں موجود روایات کے درجہ صحت کو جاننے کا اہتمام کرلیا جائے۔

Posted in: محدثین کرام

Leave a Comment (0) →

صحیفہ ھمام ابن منبہ

ھمام بن منبہ (رح)
ھمام بن منبہ تابعین کی نسل میں سے تھے۔ آپ کے والد منبہ بن کامل کے چار فرزند جن کے نام ہمام بن منبہ، وہب بن منبہ، معقل بن منبہ اور غیلان بن منبہ تھے۔
ھمام بن منبہ جنوبی عرب کے باشندے تھے جبکہ آپ کی اصل ایرانی تھی۔ آپ کی ولادت ایک ایسے فارسی خاندان میں ہوئی جو طلوع اسلام سے پہلے نوشیروان کسریٰ کے عہد میں ایران سے آ کر جنوبی عرب میں رہائش پذیر ہوگیا تھا۔ یہ لوگ ابناء فارس کہلاتے تھے۔ ابناء دراصل ان ایرانیوں کی اولاد کو کہتے ہیں جو یمن کو فتح کرنے کے بعد وہیں بس گئے تھے۔ یہ فوج نوشیروان کسریٰ نے سیف بن ذی ایران کی درخواست پر حبشیوں سے جنگ کرنے کیلئے بھیجی تھی۔
ھمام بن منبہ 31 سے 33 ہجری کے درمیان صنعاء کے قریب ایک جگہ ذمار میں پیدا ہوئے جہاں آپ کے والد اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ الیمانی صنعانی الابناوی کہلاتے تھے جبکہ آپ کی کنیت ابو عقبہ تھی۔
ھمام بن منبہ کے چھوٹے بھائی وہب بن منبہ ایک عرصہ تک اپنے وطن میں قاضی رہے۔ ھمام بن منبہ کی طرح وہب بن منبہ بھی بہت زاہد و عابد تھے۔ انہوں نے 20 سال تک عشاء اور فجر کی نماز ایک ہی وضو کے ساتھ ادا کی۔ 100 ہجری میں وہ مکہ مکرمہ میں موجود تھے۔ یہاں انہوں نے متعدد نامور فقہاء سے فیض حاصل کیا۔ عمر کے بالکل آخری حصے میں انہیں یمن میں قید خانے میں ڈال دیا گیا جس کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوئی البتہ وہ دین کی خاطر اس قید پر راضی تھے اور کہتے تھے کہ ” رب تعالیٰ نے ہمارے لیے قید مقرر کی تو ہم نے اس کی عبادت اور زیادہ کردی “۔
وہب بن منبہ کو عام طور سے ثقہ راوی بیان کیا گیا ہے۔ انہوں نے حضرت ابن عباس (رض)، حضرت جابر (رض) اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت حدیث کی۔ حضرت امام بخاری (رح) نے ان سے ایک حدیث درج کی ہے جس کا سلسلہ اسناد وہب بن منبہ نے اپنے بھائی ہمام ابن منبہ کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ (رض) تک پہنچایا ہے۔
ہمام بن منبہ ایک ثقہ راوی ہیں۔ آپ حضرت ابوہریرہ (رض) کے خاص شاگردوں میں سے تھے۔ آپ اپنے استاد کی از حد قدر کیا کرتے تھے اور ان کی خدمت میں زیادہ وقت گزارتے تھے۔ آپ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے نہ صرف حدیث کی تعلیم حاصل کی بلکہ معلم کائنات حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت مطہرہ کے مختلف مظاہر و محاسن کی آگاہی بھی حاصل کی۔ ہمام بن منبہ اپنے استاد اور رہبر و رہنما حضرت ابوہریرہ (رض) سے مختلف نکات کے بارے میں سوالات کرتے رہتے تھے اور ان کے سیر حاصل جواب پاتے تھے۔ آپ اپنے استاد کے اس قدر مقرب ہوگئے کہ انہوں نے آپ کو ایک صحیفہ حدیث عنایت کیا جس کی آپ نے تاعمر انتانئی عقیدت و محبت کے ساتھ حفاظت بھی کی اور ان احادیث کو حتی الوسع دوسروں تک بھی پہنچایا۔
ہمام بن منبہ نے اپنے چھوٹے بھائی وہب بن منبہ کی تعلیم و تربیت میں خاص دلچسپی لی۔ آپ اپنے بھائی کو کتب خرید کردیا کرتے تھے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرسکیں اور اسی مطالعہ کا نتیجہ تھا کہ وہ قاضی کے عہدہ تک پہنچے۔
ہمام بن منبہ نے مختلف اسلامی جنگوں میں بھی بھرپور حصہ لیا اور مجاہد ہونے کے ساتھ ساتھ غازی کا مرتبہ بھی حاصل کیا۔ آپ نے تقریباً 70 سال کی عمر پائی اور 102 ہجری میں اپنے وطن صنعاء میں ہی وفات پائی۔
ہمام بن منبہ کا تذکرہ ” طبقات ابن سعد ” جلد پنجم، ” تہذیب التہذیب ” (ابن حجر) جلد یاز دہم۔ ” سیر اعلام النبلاء ” (امام ذہبی) جلد پنجم۔ ” کتاب الثقات (ابن حبان) اور ” کشف الظنون ” (حاجی خلیفہ) میں ملتا ہے۔

Posted in: محدثین کرام

Leave a Comment (0) →

سنن دارمی

تعارف
امام الدارمی کی مستند کتب احادیث میں سنن الدارمی کو بہت شہرت حاصل ہے۔
ولادت
امام عبدالرحمٰن الدارمی کا مکمل نام ہے : الامام الحافظ ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن الفضل بن بہرام بن عبدالصمد الدارمی الترمذی السمرقندی۔
آپ کا لقب ہے : شیخ المسلمین فی الحدیث
آپ کی ولادت 181 ھ بمطابق 797 ء میں ہوئی۔ آپ کا اپنا بیان ہے کہ : میں اس سال پیدا ہوا جِس سال عبداللہ ابن مبارک کا انتقال ہوا (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے تہذیب الکمال جلد 15، صفحہ 216) ۔ محدث عبداللہ ابن مبارک کا انتقال 181 ھ میں ہوا تھا اس حساب سے امام عبدالرحمٰن الدارمی کا سنِ ولادت 181 ھ یعنی 797 ء ہے۔

آپ نے 74 سال کی عمر میں جمعرات 8 ذوالحجہ 255 ھ بمطابق 17 نومبر 869 ء کو بعد نماز عصر انتقال کیا۔ جمعہ 9 ذوالحجہ 255 ھ بمطابق 18 نومبر 869 ء کو دفن کیے گئے۔
تصانیف
سنن الدارمی
تفسیر الدارمی
الجامع

Posted in: محدثین کرام

Leave a Comment (0) →

امام مالک

ذکر امام مالک مصنف مؤطا
اس کتاب کے جمع کرنے اور بنانے والے امام مالک بن انس بن مالک بن ابی عامر اصبحی ہیں اور ابوعامر اصبحی دادا ان کے صحابی جلیل القدر ہیں سوائے جنگ بدر کے اور سب غزوات میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھے۔ ٩٣ ھ میں امام مالک کی ولادت ہوئ اور بعضوں نے کہا کہ ٩٠ ھ میں نو سو شیوخ سے استفادہ حدیث فرمایا اور فتوی نہ دیا۔ یہاں تک کہ ستر اماموں نے گواہی دی اس امر کی وہ قابل ہیں افتا کے اور اپنے ہاتھ سے ایک لاکھ حدیث لکھیں اور سترہ برس کے سن میں درس حدیث شروع کیا اور جب حدیث پڑھانے بیٹھتے غسل کرتے اور خوشبو لگاتے اور نئے کپڑے پہنتے اور بڑے خشوع خضوع اور وقار سے بیٹھتے سفیان بن عیینہ نے کہا کہ رحم کرے اللہ جل جلالہ مالک پر خوب جانچتے تھے راویوں کو اور نہیں روایت کرتے تھے مگر ثقہ سے اور عبدالرحمن بن مہدی نے کہا کہ امام مالک پر کسی کو مقدم نہیں کرتا ہوں میں صحت حدیث میں اور مالک امام ہیں حدیث اور سنت میں اور کافی ہے امام مالک کی فضیلیت کے واسطے یہ امر کہ امام شافعی ان کے شاگرد ہیں اور امام احمد ان کے شاگردوں کے شاگرد ہیں ۔ اور امام محمد جو شاگرد ہیں امام اعظم کے وہ بھی شاگرد ہیں امام مالک کے ، امام شافعی نے کہا جب ذکر آئے عالموں کا تو مالک مثل ستارہ کے ہیں اور کسی کا احسان میرے اوپر علم خدا میں مالک سے زیادہ نہیں ہے اور کہا سفیان بن عیینہ نے مراد اس حدیث سے کہ قریب ہی لوگ سفر کریں گے واسطے طلب علم کے پھر نہ پائیں گے زیادہ جاننے والا کسی کو مدینہ کے عالم سے امام مالک ہیں اور اوزاعی جب امام مالک کا ذکر فرماتے تو کہتے کہ وہ عالم ہیں علماء کے اور عالم ہیں اہل مدینہ کے اور مفتی ہیں حرمین شریفین کے اور ابن عیینہ کو جب امام مالک کی وفات کی خبر پہنچی تو کہا نہ چھوڑا انہوں نے اپنا مثل زمین پر اور کہا کہ مالک حجت ہیں اپنے زمانے کی اور مالک چراغ ہیں اس امت کے جب امام مالک نے اس کتاب کو مرتب کیا اس وقت لوگوں کے پاس کوئی کتاب نہ تھی بسوا کتاب اللہ کے اور موطا اس کا نام اس لیے ہوا کہ امام مالک نے اس کتاب کو ستر فقیہوں پر پیش کیا سب نے اس پر موافقت کی امام شافعی نے فرمایا کہ آسمان کے نیچے بعد کتاب اللہ کے کوئی کتاب امام مالک کے موطا سے زیادہ صحیح نہیں ہے اور ابن عربی نے کہا کہ موطا اصل اول ہے اور صحیح بخاری اصل ثانی اور ہزار آدمیوں نے اس کتاب کو امام مالک سے روایت کیا۔ اب یہ جو نسخہ رائج ہے یحییٰ بن یحییٰ مصمودی کی روایت سے ہے جس سال امام مالک کی وفات ہوئی اسی سال یحییٰ بن یحییٰ نے موطا کو امام مالک سے حاصل کیا سب احادیث اور آثار موطا کے ایک ہزار ستائیس ہیں ان میں سے چھ سو حدیثیں مسند اور دو سو بائیس مرسل اور چھ سو تیرہ موقوف اور دو پچاسی تابعین کے اقوال ہیں وفات امام مالک کی اتوار کے روز دسویں ربیع الاول ١٧٩ ھ میں ہوئی۔ عمر شریف ان کی ستاسی برس کی تھی اور بعضوں کے نزدیک نوے برس کی ۔

Posted in: محدثین کرام

Leave a Comment (0) →
Page 1 of 21 12345...»