Blog

صحیفہ ھمام ابن منبہ

ھمام بن منبہ (رح)
ھمام بن منبہ تابعین کی نسل میں سے تھے۔ آپ کے والد منبہ بن کامل کے چار فرزند جن کے نام ہمام بن منبہ، وہب بن منبہ، معقل بن منبہ اور غیلان بن منبہ تھے۔
ھمام بن منبہ جنوبی عرب کے باشندے تھے جبکہ آپ کی اصل ایرانی تھی۔ آپ کی ولادت ایک ایسے فارسی خاندان میں ہوئی جو طلوع اسلام سے پہلے نوشیروان کسریٰ کے عہد میں ایران سے آ کر جنوبی عرب میں رہائش پذیر ہوگیا تھا۔ یہ لوگ ابناء فارس کہلاتے تھے۔ ابناء دراصل ان ایرانیوں کی اولاد کو کہتے ہیں جو یمن کو فتح کرنے کے بعد وہیں بس گئے تھے۔ یہ فوج نوشیروان کسریٰ نے سیف بن ذی ایران کی درخواست پر حبشیوں سے جنگ کرنے کیلئے بھیجی تھی۔
ھمام بن منبہ 31 سے 33 ہجری کے درمیان صنعاء کے قریب ایک جگہ ذمار میں پیدا ہوئے جہاں آپ کے والد اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ الیمانی صنعانی الابناوی کہلاتے تھے جبکہ آپ کی کنیت ابو عقبہ تھی۔
ھمام بن منبہ کے چھوٹے بھائی وہب بن منبہ ایک عرصہ تک اپنے وطن میں قاضی رہے۔ ھمام بن منبہ کی طرح وہب بن منبہ بھی بہت زاہد و عابد تھے۔ انہوں نے 20 سال تک عشاء اور فجر کی نماز ایک ہی وضو کے ساتھ ادا کی۔ 100 ہجری میں وہ مکہ مکرمہ میں موجود تھے۔ یہاں انہوں نے متعدد نامور فقہاء سے فیض حاصل کیا۔ عمر کے بالکل آخری حصے میں انہیں یمن میں قید خانے میں ڈال دیا گیا جس کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوئی البتہ وہ دین کی خاطر اس قید پر راضی تھے اور کہتے تھے کہ ” رب تعالیٰ نے ہمارے لیے قید مقرر کی تو ہم نے اس کی عبادت اور زیادہ کردی “۔
وہب بن منبہ کو عام طور سے ثقہ راوی بیان کیا گیا ہے۔ انہوں نے حضرت ابن عباس (رض)، حضرت جابر (رض) اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت حدیث کی۔ حضرت امام بخاری (رح) نے ان سے ایک حدیث درج کی ہے جس کا سلسلہ اسناد وہب بن منبہ نے اپنے بھائی ہمام ابن منبہ کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ (رض) تک پہنچایا ہے۔
ہمام بن منبہ ایک ثقہ راوی ہیں۔ آپ حضرت ابوہریرہ (رض) کے خاص شاگردوں میں سے تھے۔ آپ اپنے استاد کی از حد قدر کیا کرتے تھے اور ان کی خدمت میں زیادہ وقت گزارتے تھے۔ آپ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے نہ صرف حدیث کی تعلیم حاصل کی بلکہ معلم کائنات حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت مطہرہ کے مختلف مظاہر و محاسن کی آگاہی بھی حاصل کی۔ ہمام بن منبہ اپنے استاد اور رہبر و رہنما حضرت ابوہریرہ (رض) سے مختلف نکات کے بارے میں سوالات کرتے رہتے تھے اور ان کے سیر حاصل جواب پاتے تھے۔ آپ اپنے استاد کے اس قدر مقرب ہوگئے کہ انہوں نے آپ کو ایک صحیفہ حدیث عنایت کیا جس کی آپ نے تاعمر انتانئی عقیدت و محبت کے ساتھ حفاظت بھی کی اور ان احادیث کو حتی الوسع دوسروں تک بھی پہنچایا۔
ہمام بن منبہ نے اپنے چھوٹے بھائی وہب بن منبہ کی تعلیم و تربیت میں خاص دلچسپی لی۔ آپ اپنے بھائی کو کتب خرید کردیا کرتے تھے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرسکیں اور اسی مطالعہ کا نتیجہ تھا کہ وہ قاضی کے عہدہ تک پہنچے۔
ہمام بن منبہ نے مختلف اسلامی جنگوں میں بھی بھرپور حصہ لیا اور مجاہد ہونے کے ساتھ ساتھ غازی کا مرتبہ بھی حاصل کیا۔ آپ نے تقریباً 70 سال کی عمر پائی اور 102 ہجری میں اپنے وطن صنعاء میں ہی وفات پائی۔
ہمام بن منبہ کا تذکرہ ” طبقات ابن سعد ” جلد پنجم، ” تہذیب التہذیب ” (ابن حجر) جلد یاز دہم۔ ” سیر اعلام النبلاء ” (امام ذہبی) جلد پنجم۔ ” کتاب الثقات (ابن حبان) اور ” کشف الظنون ” (حاجی خلیفہ) میں ملتا ہے۔

Posted in: محدثین کرام

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.