Blog

امام مالک

ذکر امام مالک مصنف مؤطا
اس کتاب کے جمع کرنے اور بنانے والے امام مالک بن انس بن مالک بن ابی عامر اصبحی ہیں اور ابوعامر اصبحی دادا ان کے صحابی جلیل القدر ہیں سوائے جنگ بدر کے اور سب غزوات میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھے۔ ٩٣ ھ میں امام مالک کی ولادت ہوئ اور بعضوں نے کہا کہ ٩٠ ھ میں نو سو شیوخ سے استفادہ حدیث فرمایا اور فتوی نہ دیا۔ یہاں تک کہ ستر اماموں نے گواہی دی اس امر کی وہ قابل ہیں افتا کے اور اپنے ہاتھ سے ایک لاکھ حدیث لکھیں اور سترہ برس کے سن میں درس حدیث شروع کیا اور جب حدیث پڑھانے بیٹھتے غسل کرتے اور خوشبو لگاتے اور نئے کپڑے پہنتے اور بڑے خشوع خضوع اور وقار سے بیٹھتے سفیان بن عیینہ نے کہا کہ رحم کرے اللہ جل جلالہ مالک پر خوب جانچتے تھے راویوں کو اور نہیں روایت کرتے تھے مگر ثقہ سے اور عبدالرحمن بن مہدی نے کہا کہ امام مالک پر کسی کو مقدم نہیں کرتا ہوں میں صحت حدیث میں اور مالک امام ہیں حدیث اور سنت میں اور کافی ہے امام مالک کی فضیلیت کے واسطے یہ امر کہ امام شافعی ان کے شاگرد ہیں اور امام احمد ان کے شاگردوں کے شاگرد ہیں ۔ اور امام محمد جو شاگرد ہیں امام اعظم کے وہ بھی شاگرد ہیں امام مالک کے ، امام شافعی نے کہا جب ذکر آئے عالموں کا تو مالک مثل ستارہ کے ہیں اور کسی کا احسان میرے اوپر علم خدا میں مالک سے زیادہ نہیں ہے اور کہا سفیان بن عیینہ نے مراد اس حدیث سے کہ قریب ہی لوگ سفر کریں گے واسطے طلب علم کے پھر نہ پائیں گے زیادہ جاننے والا کسی کو مدینہ کے عالم سے امام مالک ہیں اور اوزاعی جب امام مالک کا ذکر فرماتے تو کہتے کہ وہ عالم ہیں علماء کے اور عالم ہیں اہل مدینہ کے اور مفتی ہیں حرمین شریفین کے اور ابن عیینہ کو جب امام مالک کی وفات کی خبر پہنچی تو کہا نہ چھوڑا انہوں نے اپنا مثل زمین پر اور کہا کہ مالک حجت ہیں اپنے زمانے کی اور مالک چراغ ہیں اس امت کے جب امام مالک نے اس کتاب کو مرتب کیا اس وقت لوگوں کے پاس کوئی کتاب نہ تھی بسوا کتاب اللہ کے اور موطا اس کا نام اس لیے ہوا کہ امام مالک نے اس کتاب کو ستر فقیہوں پر پیش کیا سب نے اس پر موافقت کی امام شافعی نے فرمایا کہ آسمان کے نیچے بعد کتاب اللہ کے کوئی کتاب امام مالک کے موطا سے زیادہ صحیح نہیں ہے اور ابن عربی نے کہا کہ موطا اصل اول ہے اور صحیح بخاری اصل ثانی اور ہزار آدمیوں نے اس کتاب کو امام مالک سے روایت کیا۔ اب یہ جو نسخہ رائج ہے یحییٰ بن یحییٰ مصمودی کی روایت سے ہے جس سال امام مالک کی وفات ہوئی اسی سال یحییٰ بن یحییٰ نے موطا کو امام مالک سے حاصل کیا سب احادیث اور آثار موطا کے ایک ہزار ستائیس ہیں ان میں سے چھ سو حدیثیں مسند اور دو سو بائیس مرسل اور چھ سو تیرہ موقوف اور دو پچاسی تابعین کے اقوال ہیں وفات امام مالک کی اتوار کے روز دسویں ربیع الاول ١٧٩ ھ میں ہوئی۔ عمر شریف ان کی ستاسی برس کی تھی اور بعضوں کے نزدیک نوے برس کی ۔

Posted in: محدثین کرام

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.