Blog

امام ترمذی

حالات زندگی امام ترمذی
نام ونسب، وطن :
امام ترمذی کا نسب مختلف کتب میں مختلف آیا ہے آپ بوغی میں پیدا ہوئے جو ترمذ کے قریب دریائے جیجول کے کنارے واقع ہے اور اس کے گرد فصیل ہے جیسے پرانے لاہور اور ملتان میں یہ حفاظت شہر کے لئے ہوتی ہے۔
(١) محمد بن عیسیٰ بن سورة بن موسیٰ بن ضحاک (مختلف کتب)
(٢) محمد بن عیسیٰ بن سورة بن شداد (سمعانی)
(٣) محمد بن عیسیٰ بن سورة بن شداد بن عیسیٰ ( ابن کثیر)
(٤) محمد بن عیسیٰ بن سورة بن موسیٰ بن ضحاک اور ایک روایت میں ابن سکن (ابن حضر)
(٥) محمد بن عیسیٰ بن سورة (المختصر فی اخبار البشبر) لیکن سودۃ بالدال غلط ہے

سن ولادت، کنیت :
٣٠٩ ھ بعض نے کچھ بعض نے کچھ کہا ہے معلوم ہوتا ہے ولادت کے سن میں اختلاف ہے آپ کے والد ماجد کا نام تمام روایات میں عیسیٰ ہے لہذا آپ کی کنیت ابن عیسیٰ رکھنی چاہیے تھی اس کے بر عکس آپ نے ابوعیسیٰ رکھ لی اور اس پر اعتراضات ہوئے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تو والدہ کے بطن سے پیدا ہوئے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ذٰلک عیسیٰ ابن مریم) (مریم : ٣٤) (قالت انی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر ولم اک بغیا قال کذالک اللہ یفعل مایشاء) (آل عمران ٤٧) اور یہ کنیت رکھنا صحیح نہیں لگتا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے یہ کنیت رکھی تو حضرت عمر نے ڈانٹا۔ حضرت مغیرہ نے کہا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کا علم تھا بلکہ ایک روایت ہے کہ خود آپ نے یہ کنیت حضرت مغیرہ کی رکھی اور مبارکپوری نے ” تحفۃ الاحوذی ” میں کہا ہے کہ کوئی مرفوع متصل صریح حدیث نہی کی نہیں ہے حضرت عمر کی زجر و تنبیہ اثر کا حکم رکھتی ہے اور ایسے بڑے جلیل القدر محدث کو نہی کا علم نہ ہونا بعید من الفہم ہے کہ انہوں نے باب کی حدیث بیان کر کے قال ابوعیسیٰ ہزاروں دفعہ کہا ہے

تعلیم :
آپ نے اپنی تعلیم کا آغاز ٢٢٠ ھ اور ٢٣٥ کے قریب کیا قطعیت کی کوئی روایت نہیں کی ہے ۔ آپ کے شیوخ کی تعداد جو کتب میں آئی ہے وہ ٢٢١ کے لگ بھگ ہے۔ آج کل کے لوگوں کو ایسی باتیں عجیب لگتی ہیں لیکن اس زمانے میں لوگوں کو حدیث حاصل کرنے کا اتنا شوق تھا کہ جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ہیچمدان عرض کرتا ہے کہ مجھے یہ بیان کرتے اور لکھتے ہوئے پہلی جماعت سے لیکر دورہ حدیث تک کے اساتذہ کے گننے کا خیال ہوا تو ان کی تعداد (٣٠) کے لگ بھگ ہے اور اگر ان افراد یا حضرات کو بھی شمار کیا جائے جن سے کچھ نہ کچھ سیکھا تو یہ تعداد چالیس تک جا پہنچتی ہے۔
امام مسلم سے آپ کی ملاقات ہوئی لیکن ان کے حوالے سے ایک روایت اپنی کتاب میں لائے اور ایسے ہی امام ابوداؤد سے ایک روایت لائے

امام بخاری سے استفادہ اور افادہ :
سب سے زیادہ آپ نے الامام المحدث حضرت محمد بن اسمعیل بخاری پر علم اور فن میں ایک طویل مدت ان کے ساتھ گزار کر تعلیم حاصل کی اور استفادہ کیا اور اس کے بعد امام عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی (٢٥٥ ھ ) اور ابوزرواعہ رازی سے اس کے بعد کتاب العلل، رجال اور تاریخ میں جو اسخراج کیا اس کا اکثر امام بخاری اور دوسرے حضرات نے مطالعہ کیا اور اس کی تحسین کی۔ امام بخاری سے تو اتنے قریب ہوئے اور رہے کہ ان سے بحث و مباحثہ اور مناظرہ کرتے اور اس میں دونوں کو فائدہ ہوا۔ امام بخاری نے اپنے استفادہ کا یوں ذکر کیا کہ امام ترمذی سے فرمایا ” ماانتفعت بک اکثر مماانتفعت بی ” کہ میں نے جناب سے اتنا نفع حاصل کیا کہ اتنا جناب نے مجھ سے نہیں کیا۔ کیسے اور کتنے عظیم لوگ تھے کہ اپنے شاگردوں کے سامنے ان سے نفع حاصل کرنے کا تذکرہ فرماتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ تقریر کے لفظ لفظ اور نکات کو سمجنے والے سامنے بیٹھے ہوں تو مقرر کو اتنا شرح صدر ہوتا ہے کہ نکات ایک دم اور اچانک منجانب اللہ ذہن میں آتے ہیں اور اگر غبی یا کند ذہن سامعین ہوں تو مقرر کو آمد نہیں ہوتی بلکہ بڑی مشکل سے آورد سے وقت پورا کرتا ہے۔ امام ترمذی نے جن احادیث کا سماع امام بخاری سے کر کے اپنی جامع ترمذی میں کیا یہاں ان کا ذکر طول کا باعث ہوگا ان کی تعداد ١١٤ ہے

غیر معمولی حافظہ :
اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی حافظہ عطاء فرمایا تھا احادیث کے دو جزو آپ کے پاس سفر میں تھے اثناء سفر میں آپ کو علم ہوا کہ قافلے میں وہ وہ شیخ بھی ہیں کہ جن سے وہ جزو پہنچے ہیں ۔ خیال کیا کہ ان کو سنا کر ان کی توثیق کراؤں مستفر پر آئے تو دیکھا تو لکھے ہوئے دونوں جزو غائب تھے ان کی جگہ سفید کاغذ لے کر حاضر ہوگئے اور سنانے لگے شیخ کی نظر پڑگئی کہ اوراق سادہ ہیں اور کہا کہ اما تستحی منی ؟ ” کیا تمہیں مجھ سے شرم نہیں آتی ۔ اس پر امام ترمذی نے پورا واقعہ سنایا اور عرض کیا کہ جناب مجھے کچھ اور احادیث سنائیں میں آپ کو مجرد ایک دفعہ سننے پر سنا دوں گا اس پر شیخ نے چالیس احادیث سنائیں سننے کے بعد امام ترمذی نے من وعن ان احادیث کو شیخ کو سنا دیا شیخ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے اور فرمایا کہ ” ما رایت مثلک ” میں نے آپ جیسا نہیں دیکھا۔ ایک واقعہ احقر نے اپنے استاد حضرت مفتی محمد عبداللہ ڈیروی سے ملتان خیرالمدارس ترمذی پڑھتے ہوئے سنا کہ آخر عمر میں آپ رقت قلبی اور خشیت الہی سے گریہ و زاری کرتے ہوئے نابینا ہوگئے ۔ ایک دفعہ سفر حج کو گئے تو ایک جگہ جا کر اونٹنی پر بیٹھے بیٹھے سر نیچا کرلیا۔ احباب کے سوال پر کہ ایسا کیوں کیا تو فرمایا کہ یہاں ایک درخت تھا جس کا ٹہنہ یا شاخیں سر کو لگتی تھیں انہوں نے فرمایا کہ یہاں تو کوئی درخت نہیں اس پر فرمایا کہ ارد گرد سے تحقیق کرو اگر یہاں درخت نہیں تھا تو میں سوء حفظ کا شکار ہوگیا ہوں اور اب مجھے روایت حدیث کو ترک کرنا پڑے گا۔ تحقیق کی تو لوگوں نے کہا کہ درخت تھا لیکن ہم نے اسے مسافروں کی راحت کے لئے اکھیڑ دیا اس پر آپ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا اس زمانے میں محدثین کے حافظے اور دماغ کمپیوٹر یا ریڈار یا آج کل کی زبان میں ” آٹومیٹک ” (خبر دار کرنے کا آلہ ) تھے کہ خطرے پر اس کی بتی از خود سرخ ہوجاتی تھی۔

جامع ترمذی کا مقام :
بلاشبہ جامع ترمذی ” صحاح ستہ ” میں شامل ہے لیکن اس پر بحث ہوتی ہے کہ اس کا درجہ کس نمبر پر ہے کئی حضرات کہتے ہیں کہ صحیحین (بخاری، مسلم) سنن ابی داؤد، سنن نسائی کے بعد ہے لیکن اکثر کا خیال ہے کہ صحیحین کے بعد اس کا مقام ہے تبھی تو اس کو جامع کہتے ہیں جو بیک وقت جامع اور سنن ہے ۔
جامع ایسی کتاب حدیث کو کہتے ہیں جس میں حدیث کے تمام موضوعات کا لحاظ رکھا گیا ہو اور سنن جو فقہی ترتیب پر ہو ترمذی میں دونوں باتوں کا لحاظ رکھا گیا ہے
اگر بعض چیزوں یا اعتراضات کو چھوڑ کر دیکھا جائے تو جامع ترمذی کے فوائد صحاح ستہ کتب سے زائد ہیں اسی لئے ہمارے مدارس عربیہ میں اکثر روایت یہ رہی کہ شیخ الحدیث بخاری اور ترمذی دونوں پڑھاتا ہے ۔ ایک بڑی بات جو امام ترمذی نے اہتمام سے کی ہے وہ یہ ہے کہ حدیث بیان کرنے کے بعد صحابہ اور ائمہ مجتہدین کا مسلک بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث پر کن کن حدیث بیان حضرات کا عمل رہا ہے۔
اور حدیث کا مقام صحیح ، حسن ، مشہور، غریب، اور ضعیف وغیرہ بھی بیان کرتے ہیں اور ایک مسئلہ پر باب میں جو حدیث بیان کرتے ہیں اس کا متعلقہ حصہ ہی بیان کرتے ہیں ساری حدیث نہیں بیان کرتے اور مخالف و موافق دونوں طرح کی احادیث بیان کرتے ہیں اور ایک سب سے بڑا اہتمام جس کو کسی محدث نے نہیں چھیڑا وہ یہ کہ ” فی الباب ” کہہ کر اس باب میں جتنے صحابہ سے روایت کا ذکر کرتے ہیں اور بعد میں آنے والوں نے ” فی الباب ” کی احادیث کو تلاش کر کے جمع کیا ہے۔

شروح ترمذی :
جامع ترمذی کی جتنی شرحیں لکھی گئی ہیں اتنی شاید کسی کتاب کی نہیں ۔ گزشتہ چالیس سال میں تو جس بڑے جامعہ یا دارالعلوم میں کسی شیخ نے ترمذی پڑھائی اس کی شرح اکثر و بیشتر نے لکھی اور شائع کی اسی بات سے اس کتاب کے مہتم بالشان ہونے کا پتہ چلتا ہے ۔

وفات :
امام ترمذی کی وفات میں بھی اختلاف ہے جیسا کہ ولادت میں لیکن مشہور ٢٧٩ ھ ہے اس کو مدنظر رکھ کر علامہ انور شاہ کا شمیری نے ایک شعر ان کی تعریف کے ساتھ ایک مصرع میں ان کی ولادت وفات کے مشہور قول کو لیا ہے۔
الترمذی محمد ذوزین عطر وفاۃ فی عین
امام ترمذی عمدہ خصلت کے عطر تھے ” عطر ” سے وفات (٢٧٩) ۔ اور ” عین ” سے عمر نکالی ہے ۔ ” ع ” کے عدد (٧٠) ہیں

Posted in: محدثین کرام

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.