Blog

امام نسائی

تذکرہ امام نسائی
ولدیت اور نام ونسب : امام موصوف کا سلسلہ نسب اس طرح ہے : نام احمد بن شعیب بن علی بن سنان بن بحرین دینار نسائی خراسانی، ابو عبدالرحمن کنیت ہے، لقب حافظ الحدیث ہے۔ سن ولادت ٢١٤ ھ (اور کچھ کی رائے میں ٢١٥ ھ ) مذکور ہے۔ امام کی ولادت نساء شہر میں ہوئی، اسی وجہ سے نسائی مشہور ہیں۔
زبردست قوت حافظہ : امام نسائی کو اللہ عز وجل نے غیر معمولی قوت حافظہ سے مالا مال کیا تھا حضرت امام ذہبی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شیخ سے دریافت کیا کہ امام مسلم اور امام نسائی میں سے حدیث کا زیادہ حافظ کون ہے ؟ تو فرمایا : امام نسائی
اساتذہ اور اشتیاق طلب حدیث : امام نسائی نے طلب حدیث کے لیے حجاز، عراق، شام، مصر وغیرہ کا سفر کیا اور اپنے دور کے مشائخ عظام سے استفادہ فرمایا۔ آپ کے حالات زندگی میں لکھا ہے کہ آپ نے ١٥ برس کی عمر ہی سے تحصیل علم کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر کرنا شروع کردیا تھا۔ آپ کے نامور اساتذہ کرام میں سے امام بخاری، امام ابوداؤد، امام احمد، امام قتیبہ بن سعید، وغیرہ معروف ہیں۔
اس کے علاوہ امام بخاری کے توسط سے آپ کے اساتذہ کا سلسلہ سراج الائمہ، امام اعظم ، سرتاج الاولیاء ابوحنیفہ بن نعمان بن ثابت سے بھی جا ملتا ہے، جس کا تذکرہ یہاں باعث طوالت ہوگا۔

تصانیف
امام نسائی نے مجاہد و ریاضت اور زہد و ورع کے ساتھ ساتھ جہاد ایسی مصروفیات کے باوجود متعدد کتب تصنیف کیں، جن کا اجمالی ذکر یوں ہے : السنن الکبریٰ ، المجتبیٰ ، خصائص علی، مسند علی ، مسند مالک، کتاب التمیز، کتاب المدلسین، کتاب الضعفاء، کتاب الاخوۃ، مسند منصور، مسیخۃ النسائی، اسماء الرواۃ ، مناسک حج

اہمیت و خصوصیت ” سنن نسائی ”:
علامہ سیوطی فرماتے ہیں کہ ذخیرہ احادیث میں یہ بہترین تصنیف ہے۔ اس سے قبل ایسی کتاب موجود نہ تھی۔ علامہ سخاوی فرماتے ہیں : بعض علماء سنن نسائی کو روایت و درایت کے اعتبار سے صحیح بخاری سے افضل گردانتے ہیں۔ ابن رشید تحریر کرتے ہیں ۔ جس قدر کتب حدیث سنن کے انداز پر مرتب کی گئی ہیں ، ان میں سے سنن نسائی صفات کے اعتبار سے جامع تر تصنیف ہے کیونکہ امام نسائی نے امام بخاری اور امام مسلم کے انداز کو مجتمع کردیا ہے۔

وفات حسرت آیات :
امام نسائی کی وفات حسرت آیات کا واقعہ یہ ہے کہ جس وقت امام حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور دیگر حضرات اہل بیت کے فضائل و مناقب تحریر فرما کر فارغ ہوگئے تو امام نے چاہا کہ میں یہ فضائل و مناقب (دمشق کی جامع مسجد میں ) پڑھ کر سناؤں تاکہ لوگ فضائل اہل بیت سے واقف ہوں۔ چناچہ ابی اپنی تحریر کا کچھ حصہ ہی پڑھا تھا کہ مجمع میں سے ایک شخص نے دریافت کیا : آپ نے حضرت امیر معاویہ (رض) کے متعلق بھی کچھ تحریر فرمایا ہے ؟ امام نسائی نے جواباً فرمایا : وہ اگر برابر ہی چھوٹ جائیں جب بھی غنیمت ہے۔ (یعنی امیر معاویہ کے مناقب کی ضرورت نہیں ) یہ بات سنتے ہی لوگ ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کو شیعہ، شیعہ کہہ کر مارنا شروع کردیا اور اس قدر مارا کہ بےہوش ہوگئے، لوگ ان کو گھر لے آئے ۔ جب ہوش آیا تو فرمایا : مجھ کو لوگو مکہ مکرمہ پہنچا دو چناچہ مکہ معظمہ پہنچا دیا گیا اور وہیں امام موصوف کی وفات ہوئی اور صفا اور مروہ کے درمیان تدفین ہوئی۔ سنہ وفات ماہ صفر ٣٠٣ ھ ہے۔
بہر حال امام موصوف کی یہ عظیم تصنیف آج عالم اسلام کی ہر ایک دینی درسگاہ میں دورہ حدیث میں داخل شامل نصاب ہے اور اپنی انفرادی اور امتیازی خصوصیت اور طرز نگارش کے اعتبار سے بلاشبہ بخاری ومسلم کی طرح اہمیت سے پڑھائی جانے کے درجہ میں ہے۔
اگر قارئین امام موصوف کے مزید حالات جاننے کے مشتاق ہوں تو ” بستان المحدثین ، نزہۃ الخواطر، مبادیات حدیث، کشف الظنون ” وغیرہ کتب کا مطالعہ بےحد نافع رہے گا۔

Posted in: محدثین کرام

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.