Blog

امام ابوداؤد

نام ونسب :

ابوداؤد کنیت، سلیمان نام اور والد کا اسم گرامی اشعث ہے سلسلہ نسب یہ ہے ۔ ابوداؤد سلیمان بن اشعث بن اسحق بن بشیر بن شداد بن عمرو بن عمران الازدی سبحستانی۔

سن پیدائش :
امام ابوداؤد سیستان میں ٢٠٢ ھ میں پیدا ہوئے لیکن آپ نے زندگی کا بڑا حصہ بغداد میں گزارا اور وہیں اپنی سنن کی تالیف کی اسی لیے ان سے روایت کرنے والوں کی اس اطراف میں کثرت ہے پھر بعض وجوہ کی بنا پر ٢٧١ ھ میں بغداد کو خیر باد کہا اور زندگی کے آخری چار سال بصرے میں گزارے جو اس وقت علم وفن کے لحاظ سے مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔

تحصیل علم :
آپ نے جس زمانہ میں آنکھیں کھولیں اس وقت علم حدیث کا حلقہ بہت وسیع ہوچکا تھا۔ آپ نے بلاد اسلامیہ میں عموماً اور مصر، شام، حجاز، عراق، خراسان اور جزیرہ وغیرہا میں خصوصیت کے ساتھ کثرت سے گشت کر کے اس زمانہ کے تمام مشاہیر اساتذہ و شیوخ سے علم حدیث حاصل کیا صاحب کمال نے لکھا ہے کہ بغداد متعدد بار تشریف لائے۔

اساتذہ و شیوخ :
امام ابوداؤد تحصیل علم کے لیے جن اکابر و شیوخ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کا استقصاء شوار ہے خطیب تبریزی فرماتے ہیں کہ انہوں نے بیشمار لوگوں سے حدیثیں حاصل کیں ، ان کی سنن اور دیگر کتابوں کو دیکھ کر حافظ ابن حجر کے اندازے کے مطابق ان کے شیوخ کی تعداد تین سو سے زائد ہے۔ آپ کے اساتذہ میں مشائخ بخاری ومسلم جیسے امام احمد بن حنبل، عثمان بن ابی شیبہ، قتیبہ بن سعید اور قعنبی ابوالولید طیاسی، مسلم بن ابراہیم اور یحییٰ بن معین جیسے ائمہ فن داخل ہیں۔

فن حدیث میں کمال :
ابراہیم حربی نے جو اس زمانہ کے عمدہ محدثین میں سے ہیں جب سنن ابوداؤد کو دیکھا تو فرمایا کہ ” ابوداؤد کے لیے حق تعالیٰ نے علم حدیث ایسا نرم کردیا ہے جیسے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لیے لوہا ہوا تھا ” حافظ ابوطاہر سلفی نے اس مضمون کو پسند کر کے اس قطعہ میں نظم کیا
لان الحدیث و علمہ بکمالہ لامام اہلیہ ابو داؤد
مثل الذی لان الحدید وسب کہ لبنی اہل زمانہ داؤد

فقہی ذوق :
اصحاب صحاح ستہ کی نسبت امام ابوداؤد پر فقہی ذوق زیادہ غالب تھا، چناچہ تمام ارباب صحاح ستہ میں صرف یہی ایک بزرگ ہیں جن کو علامہ شیخ ابواسحق شیرازی نے طبقات الفقہاء میں جگہ دی ہے امام ممدوح کے اسی فقہی ذوق کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب کو صرف احادیث احکام کے لیے مختص فرمایا، فقہی احادیث کا جتنا بڑا ذخیرہ اس کتاب (سنن ) میں موجود ہے صحاح ستہ میں سے کسی کتاب میں آپ کو نہیں ملے گا، چناچہ حافظ ابو جعفر بن زبیر غرناطی متوفی ٧٠٨ ھ صحاح ستہ کی خصوصیات پر تبصرہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں اور احادیث فقہیہ کے حصرو استیعاب کے سلسلے میں ابوداؤد کو جو بابت حاصل ہے وہ دوسرے مصنفین صحاح ستہ کو نہیں علامہ یافعی فرماتے ہیں کہ آپ حدیث وفقہہ دونوں کے سرخیل تھے۔

زہد و تقویٰ :
ابوحاتم فرماتے ہیں کہ امام موصوف حفظ حدیث، اتقان روایت، زہد و عبادت اور یقین و توکل میں یکتائے روزگار تھے۔ ملاعلی قاری فرماتے ہیں کہ ورع وتقویٰ ، عفت و عبادت کے بہت اونچے مقام پر فائز تھے۔ ان کی زندگی کا مشہور واقعہ ہے کہ ان کے کرتے کی ایک آستین تنگ تھی اور ایک کشادہ جب اس کا راز دریافت کیا گیا تو بتایا کہ ایک آستین میں اپنے نوشتے رکھ لیتا ہوں اس لیے اس کو کشادہ بنا لیا ہے اور دوسری کو کشادہ کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی اس میں کوئی فائدہ نہ تھا اس لیے اس کو تنگ ہی رکھا۔
جو گنج قناعت میں ہیں تقدیر پر شاکر ہے ذوق برابر انہیں کم اور زیادہ

آپ کے فضل و کمال کا اعتراف :
ابوداؤد کو علم و عمل میں جو امتیازی مقام حاصل تھا اس زمانہ کے علماء مشائخ کو بھی اس کا پورا پورا اعتراف تھا چناچہ حافظ موسیٰ بن ہارون جو ان کے معاصر تھے فرماتے ہیں کہ ابوداؤد دنیا میں حدیث کے لیے اور آخرت میں جنت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں میں نے ان سے افضل کسی کو نہیں دیکھا امام حاکم فرماتے ہیں کہ امام ابوداؤد بلا شک و ریب اپنے زمانہ میں محدثین کے امام تھے۔

اہل اللہ کی سچی عقیدت :
احد بن محمد بن لیث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سہل بن عبداللہ تستری جو اس زمانہ کے اہل اللہ میں سے تھے آپ کی خدمت میں تشریف لائے اور عرض کیا : امام صاحب میں ایک ضرورت سے آیا ہوں اگر حسب امکان پوری کرنے کا وعدہ فرمائیں تو عرض کروں ۔ آپ نے وعدہ کرلیا انہوں نے کہا کہ جس مقدس زبان سے آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث روایت کرتے ہیں اس کو بوسہ دینے کی آرزو رکھتا ہوں ذرا آپ اسے باہر نکالیں چناچہ آپ نے اپنی زبان مبارک باہر نکالی اور حضرت سہل نے اس کو بوسہ دیا۔

وفات :
امام ابوداؤد نے تہتر سال کی عمر پا کر سولہ شوال ٢٧٥ ھ میں انتقال فرمایا اور بصرہ میں امام سفیان ثوری کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ یوم وفات روز جمعہ ہے۔
مثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو تیرا نور سے معموریہ خاکی شبستان ہو تیرا (اقبال)

تصنیفات :
امام ابوداؤد نے بہت سا علمی ذخیرہ اپنی یادگار چھوڑا ہے جس کی مجمل فہرست درج ذیل ہے۔ مراسیل ۔ الردعلی القدریہ۔ الناسخ والمنسوخ۔ ماتضروبہ اہل الامصار۔ فضائل الانصار۔ مسند مالک بن انس۔ المسائل معرفۃ الاوقات۔ کتاب بدء الوحی سنن ۔ ان میں سب سے زیادہ اہم آپ کی سنن ہے۔

Posted in: محدثین کرام

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.