Blog

امام مسلم

امام مسلم (رح) کے حالات زندگی

جن علماء اور محدثین عظام رح نے رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنا اور امت مسلمہ کا تعلق برقرار رکھنے کے لیے رات دن جدوجہد کی انہی میں ایک عظیم جلیل، صاحب مسلم ، امام مسلم ہیں۔

نام اور سلسلہ نسب :۔ امام مسلم رح کا اصل اور صحیح نام ” مسلم ” ہی ہے والد کا نام الحجاج تھا کنیت ابوالحسین اور لقب عسا کر الدین ہے سلسلہ نسب یہ ہے، مسلم بن حجاج بن ورد بن مسلم ورد بن کوشار۔

امام مسلم رح کی نسبت قبیلہ قشیر کی طرف کی جاتی ہے اور خراسان کے ایک مشہور نیشاپور کی طرف نسبت کرتے ہوئے نیشاپوری بھی کہا جاتا ہے ۔
سن ولادت : امام مسلم رح کے سن ولادت میں کچھ اختلاف ہے عام طور پر تین سن ولادت بیان کی جاتی ہیں ، ٢٠٢ ھ، ٢٠٤ ھ اور ٢٠٦ ھ
سن وفات : امام مسلم رح نے ٢٦١ ھ میں وفات پائی ۔ امام مسلم رح کی وفات بڑی عجیب انداز میں ہوئی وہ یہ کہ ایک مجلس مذاکرہ میں امام مسلم رح سے ایک حدیث کے بارے میں پوچھا گیا امام مسلم رح کو فوری طور پر پوچھی گئی حدیث یاد نہ آئی تو گھر آکر وہ حدیث تلاش کرنی شروع کرنے بیٹھ گئے کسی نے امام مسلم رح کی خد مت میں کھجوروں کا یک ٹوکرہ رکھ دیا ۔ امام مسلم رح حدیث تلاش کرنے کے لیے ایسے منہمک ہوئے ساتھ ساتھ ایک ایک کر کے کھجوریں بھی کھاتے رہے وہ حدیث بھی تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ ساری رات گزر گئی اور وہ حدیث بھی مل گئی اور وہ کھجوروں کا ٹوکرہ بھی کھاتے کھاتے ختم ہوگیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہی ( اس قدر کثیر تعداد میں کھجوروں کا کھانا ہی) امام مسلم رح کی وفات کا سبب بن گیا ، ٢٤ رجب ٢٦١ ھ بروز اتوار کے دن شام کے وقت وفات پائی اور نیشاپور میں دفن ہوئے ۔

ابتدائی حالات زندگی اور اساتذہ اکرام : امام مسلم رح نے ٢١٨ ھ میں احادیث کا سماع شروع فرمایا۔ ان کے اساتذہ میں امام احمد ، امام حنبل امام احمد بن یو نس، سعید بن منصور، ابو عبداللہ بن مسلمہ، حرملہ بن یحییرح وغیرہ شامل ہیں ۔ امام مسلم رح نے اپنے والدین کی سرپرستی میں بہترین تربیت حاصل کی اور اس پاکیزہ تربیت کا یہی اثر تھا کہ ابتدائی عمر سے زندگی کے آخری لمحات تک امام مسلم رح نے نہایت ہی پرہیزگاری اور دینداری کی زندگی گزاری اور کبھی کسی کو اپنی زبان سے برا نہ کہا حتی کہ نہ کسی کی غیبت کی اور نہ ہی کسی کو اپنے ہاتھ سے مارا پیٹا۔ نیشاپور میں آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی، آپ کا قوت حافظہ اس قدر تھا کہ آپ نے بہت ہی تھوڑے عرصہ میں رسمی علوم وفنون حاصل کر کے احادیث نبویہ کی طر ف توجہ مبذول کرلی امام مسلم رح نے احادیث نبویہ کے حصول کے لیے مختلف مقامات کی خاک چھانی عراق، حجاز، مصر، شام تو کئی مر تبہ تشریف لے گئے اور بغداد میں تو آخری عمر تک سلسلہ سفر جاری رہا۔

امام مسلم رح کے مشہور شاگرد : صاحب ترمذی ابو عیسیٰ ترمذی، امام ابوبکر ابن خزیمہ امام ابوعوانہ، ابو حاتم رازی یحییٰ بن ساعدہ امام مسلم رح کے ان کے علاوہ اور بھی بہت سے ائمہ حدیث شاگرد ہیں ،

امام مسلم رح کی تصانیف : امام مسلم کی سب سے مشہور و معروف اور مقبول عام تصنیف تو یہی صحیح مسلم ہی ہے لیکن اس کے علاوہ امام مسلم رح نے اور بھی کافی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں چند تصانیف یہ ہیں (١) المسند الکبیر علی الرجا ل (٢) الا سماء والکنی (٣) کتاب الجامع علی الابواب (٤) الجامع الکبیر (٥) کتاب السیر (٦) کتاب علل (٧) کتاب الوجدان (٨) کتاب الا قران (٩) کتاب المشائخ ثوری (١٠) کتاب سوالا ت امام احمد بن حبنل (١١) کتاب حدیث عمر وبن شعیب (١٢) کتاب مشائخ مالک (١٣) کتاب مشائخ ثوری (١٤) کتاب مشائخ شعبہ (١٥) کتاب اولادصحابہ (١٦) کتاب اوہام المحدثین (١٧) کتاب رواہ الشا مین (١٨) کتاب رواۃ الا عتبار (١٩) کتاب المخغرمین

امام مسلم رح نے یہ شرط لگائی ہے کہ وہ اپنی صحیح میں صرف وہ حدیث بیان کریں گے جس کو کم ازکم دوثقہ تابعین نے دوصحابیوں سے روایت کیا ہو اور یہی شرط تمام طبقات تابعین وتبع تابعین میں ملحوظ رکھی ہے یہاں تک کہ سلسلہ اسناد ان (مسلم ) تک ختم ہو۔ دوسرے یہ کہ راویوں کے اوصاف میں صرف عدالت پر ہی اکتفاء نہیں کرتے بلکہ شرائط شھادت کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں۔

امام مسلم رح کی خدادا د صلاحیتوں نے خود امام مسلم کے اساتذہ اکرام کو بھی ان کا اس قدر گرویدہ بنالیا تھا کہ اسحاق بن راہویہ جیسے امام فن بھی پکار اٹھے کہ کہ لن نعدم الخیر ماابقاک اللہ للمسلمین یعنی جب تک اللہ تعالیٰ آپ رح کو مسلمانوں کے لیے زندہ رکھے گا، بھلائی ہمارے ہاتھ سے نہیں جانے پائے گی (مقدمہ فتح الملہم)

امام مسلم رح فرماتے ہیں کہ میں نے تین لاکھ احادیث نبویہ میں منتحب کر کے یہ کتاب صحیح مسلم تیار کی ہے اللہ پاک ہمیں جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس کے ساتھ تعلق و محبت کے ساتھ ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرامین مبارکہ کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی تو فیق عطا فرمائے۔ ہر گمراہی سے ہماری حفاظت فرمائے آمین۔

Posted in: محدثین کرام

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.