Blog

تفسیر فیضان الرحمن (اہل تشیع)

نام : فیضان الرحمن فی تفسیر القرآن
مصنف : شیخ محمد حسین النجفی
ناشر : مصباح القرآن ٹرسٹ :
ایڈیشن : 2015
یہ تفسیری مجموعہ شیح محمد حسین النجی کی مساعی جمیلہ اور شب و روز کی محنت کا ثمر نایاب ہے۔ اس کے بارے مصنف لکھتے ہیں :
قرآن مجید چونکہ علوم و فونون اور معارف و حقائق کا وہ سمند رہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ہے اس لیے اب تک ہر مفسر نے اپنے علم و ذوق و شوق کے مطابق اس بحر ناپید اکنار میں شن اوری کرکے اس سے آبدار موتی و مونگے برآمد کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مفسرین نے نحوی و ادبی نکات سے اپنی تفسیر کو بھر دیا ہے۔ جیسے علامہ طبرسی اور فاضل زمخشری، کسی کے ہاں علم کلام و جدال کی بھر مار ہے جیسے علام فخر الدین رازی اور فاضل ابو الفتوح ، کسی نے قصص و حکایات اور تاریخی واقعات پر زیادہ توجہ ہے اور اپنی تفسیر کو ان سے لبریز کردیا ہے جیسے علامہ طبری کی تفسیر ابن جریر و تفسیر ثعلبی اور سید ہاشم بحرانی کی البرہان، کسی نے اپنی توجہ کا مرکز طبعی علوم کو قرار دے کر اپنی تفسیر کو فلکیات و ارضیات اور دیگر طبیعات سے پر کردیا ہے جیسے فاضل طنطاوی اور ان کی تفسیر جواہر۔
ہم نے ہر قسم کے افراط و تفریط سے اپنے دامن کو بچاتے ہوئے سب سے پہلے تو تفسیر قرآن میں خود قرآن اور تمام اسلامی علوم کی سرسبز روشوں سے فیض حاصل کرتے ہوئے قرآنی مطالب و معانی کی تشریح اس کے اجمالی حقائق کی توضیح اور اس کے بیان کردہ عقائد و احکام اور اوامر و نواہی کی تفسیر پر اکتفا کیا ہے۔
۔۔۔
مصنف کا تعارف :
علامہ الشیخ محمد حسین النجفی مد ظلہ العالی کی ولادت تقریبا ” اپریل 1932 ء میں بمقام جہانیاں شاہ ضلع سرگودھا کے ایک جٹ زمیندار اور علمی خانوادہ ” ڈھکو ” میں ھوئ۔
شیخ محمد حسین نجفی پاکستان کے شیعہ مرجع مجتہد ہیں اور برصغیر کے شیعہ مراجع میں آیت اللہ سید علی نقی نقوی لکھنوی کے بعد مقام مرجعیت پر فائز ہوئے ہیں۔ جو سرگودھا اور پنجاب کے دیگر شہروں میں مدارس کی سرپرستی کر رہے ہیں۔
ابتدائی تعلیم مدرسہ محمدیہ جلالپور ننکیانہ ضلع سرگودھا حاصل کی ۔ پھر 1947 ء میں بدرھرجبانہ ضلع جھنگ میں استاد العلماء حضرت آیۃ اللہ علامہ محمد باقر صاحب قبلہ چکڑالوی کے زیر سایہ درس نظامی کا وسطائ حصہ پڑھا ۔ 1949 ء میں جلالپور آگئے اور مسلسل پانچ سال تک اس فاضل جلیل سے حضرت آيۃ اللہ علامہ سید محمد یار شاہ صاحب اپنی علمی پیاس بجھائ یعنی درس نظامی کی انتہائ کتابیں جس میں تمام علوم ادبیہ و منقولات کے علاوہ معقولات میں قطبی مسلم العلوم اور اس کے بعض شروع مبیذی و شمش بازغہ وغیرہ سرکار موصوف سے پڑھیں، علاوہ بریں شرائع الاسلام اور شرح لمعہ جلدین اور معالم الاصول وغیرہ بھی انہیں سے پڑھیں۔ اس دوران 1953 ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ اور اپنے علمی شوق و ذوق کی تکمیل اور اپنے استاد محترم کی تحریک و تشویق پر 1954 ء میں حوزہ علمیہ نجف اشرف (عراق) تشریف لے گئے اور وھاں سطحیات پڑھنے کے لیے خصوصی درسوں کا انتظام کیا یعنی کفایہ، رسائل اور مکاسب استاد العلماء سید ابوالقاسم بہشتی سے پڑھیں اور شرح منظومہ کی جلدین جناب آقائے فاضل سے پڑھیں، اور علم ہیئت کی شرح چغمینی آقائے سید مرعشی سے پڑھیں۔ اور اسفار اربعہ کے کچھ درس آقائے ملا صدرا نجفی سے لیے۔ الضرض اندرون ملک اور بیرون ملک ان فنون کے پڑھنے پر زیادہ توجہ دی جن کی اپنے ملک و ملت کو زیادہ ضرورت ہے اور سطحیات سے فراغت کے بعد درس خارج شروع کیا جو کہ اصول فقہ میں سید المجتہدین آقائے سید جواد تبریزی اور استاذ المجتہدین آقائ مرزا محمد باقر زنجانی کے علمی درس میں شرکت کی اور فقہ میں سرکار آیت اللہ محمود شاھرودی اور مرجع اکبر آیت اللہ آقائے سید محسن الحکیم کی خدمت میں زانوئے تلمز تہ کیا۔ الغرض اس دوران موصوف پڑھتے بھی رھے اور پاکستانی طلبہ کو پڑھاتے بھی رھے اور بالآخر شب و روز کی محنت شاقہ کے نتیجے میں بفضلہ تعالیٰ وھاں کے اعلام سے اجازہ ھائے اجتہاد لے کر مدرسہ محمدیہ سرگودھا کی دعوت پر 1960 ء میں پاکستان تشریف لائے اور قریبا ” بارہ سال تک وھاں پر نسپل کے فرائض انجام دیے اور اس طرح سیکڑوں طلبہ علوم دینیہ کی پیاس بجھائ۔ والحمد للہ۔
آپ ایک خاص طرز خطابت اور مخصوص طرز نگارش اور محققانہ طرز تدریس کے مالک ھیں، اندرون و بیرون ملک آپ کی ہزاروں تقریریں اور اسلامیات کے ھر مو‌ضوع پر بیسیوں کتب و رسائل اور بےانداز تحریریں موجود ہیں
آپ نے سرگودھا شہر میں ایک بڑا علمی مدرسہ بنام جامعۂ علمیہ سلطان المدارس الاسلامیہ ربع صدی سے جاری کر رکھا ہے۔ جسمیں پانچ مدرسینِ عظام فرائضِ تدریس انجام دے رہے ہیں اور بفضلہٖ تعالیٰ مدرسہ شاہراہِ ترقی پر گامزن ہے اور اپنی ایک انفرادی حیثیت رکھتا ہے

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.