Blog

تفسیر فرات (اہل تشیع)

حالات مؤلف تفسیر ھذا
شیخ المحدثین علامہ فرات بن ابراہیم بن فرات کوفی کا شمار تیسری صدی ہجری کے علمائے محدثین میں ہوتا ہے، آقا صدر نے اپنی کتاب الشیعہ وفنون الاسلام میں فرمایا ہے کہ آپ امام محمد تقی (علیہ السلام) کے ہم زمانہ تھے۔ اس بات کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ آپ نے حسین بن سعید کوفی اہوازی نزیل مکہ مشرفہ سے بہت زیادہ احادیث روایت کی ہیں، حسین بن سعید کا انتقال مکہ میں ہوا، آپ نے تیس کتب تالیف فرمائیں، آپ امام رضا جواد اور ہادی (علیہ السلام) کے صحابی ہیں۔ فرات نے جعفر بن محمد بن مالک بزاز فرازی کوفی متوفی 300 ھ سے اور عبید بن کثیر عامری کوفی متوفی 394 ھ مؤلف کتاب التخریج سے کافی احادیث نقل کی ہیں۔
اس بات کا بھی امکان ہے کہ آپ چوتھی صدی ہجری کے شروع تک زندہ رہے ہوں، بحار الانوار میں علامہ مجلسی، ریاض العلماء میں میرزا عبد اللہ آفندی اصبھانی نے آپ کا ذکر محدث اور مفسر کی حیثیت سے کیا ہے، اس رائے کا مندرجہ ذیل علماء نے اظہار کیا ہے۔
کچھ کتاب کے بارے میں :
اس کتاب کی تالیف سے لے کر آج تک تمام علماء نے اس پر اعتماد کیا ہے، اس تفسیر کے معتبر ہونے میں اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ ابوالحسن علی بن حسین بن موسیٰ ابن بابویہ قمی والد شیخ صدوق علیہ الرحمہ جیسے جلیل القدر اور ثقہ عالم نے اس سے روایت نقل کی ہے، نیز آپ کے فرزند رئیس المحدثین شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب امالی اور کتاب اخبار الزہرا وغیرہ میں احادیث کو نقل فرمایا ہے، کبھی اپنے شیخ حسن بن سعید ہاشمی اور کبھی اپنے والد کے وسائط سے روایت کرتے ہیں۔
شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے ہے اپنے والد کے بعد اس تفسیر کو کس قدر معتبر گردانا اس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے بہت سی احادیث کو اس سے نقل فرمایا۔ یہ اس کتاب کے معتبر ہونے کی سب سے بڑی واضح اور معتبر دلیل ہے۔ شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اس کتاب کو ترجیح دی اور درست اور غلط کی تمیز کا معیار قرار دیا۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.