Blog

تفسیرات احمدیہ

تفسیرات احمدیہ
قرآن مجید کی بہت سی تفسیر قرآن میں آنے والی آیات احکام کے لحاظ سے لکھی گئی ہیں، مثلاً احکام القرآن لجصاص اور احکام القرآن للقرطبی وغیرہ۔ لیکن یہ جو کچھ بھی لکھا گیا اس میں پورے قرآن کی تفسیر میں ضمناً احکام کو بیان کیا گیا ہے۔ لیکن ملا جیون کی یہ التفسیرات الاحمدیہ فی بیان الایات الشرعیہ۔ ایک ایسی تصنیف ہے کہ جس میں تقریباً پانچ سو آیات جو کہ احکام سے متعلق ہیں ان کو نہ صرف یکجا کردیا گیا ہے بلکہ ان کی تشریح و توضیح حنفی نقطہ نظر سے کی گئی ہے۔ ملا جیون کی اس تصنیف کی اہم بات یہ ہے کہ موصوف کے زمانہ طالب علمی کی یہ تصنیف ہے جب کہ آپ ابھی عمر کے اکیسویں برس میں داخل ہوئے تھے اور اپنی درسی مسروفیات کو جاری رکھتے ہوئے تقریباً چھ سال کے قلیل عرصہ میں اس تصنیف کو مکمل کرلیا۔
چنانہچہ کتاب کے آخر پر خود فرماتے ہیں : ” کہ میں نے اس کتاب یعنی تفسیر الآیات الشرعیہ کی تصنیف کا کام امیٹھی میں اپنی عمر کے سولہویں برس میں شروع کیا جب میں حسامی پڑھا کرتا تھا۔ اور یہ 1064 ھ کا واقعہ ہے۔ اور امیٹھی ہی میں میں نے 1069 میں اس کتاب کو مکمل کرلیا جب میں شرع مطالع الانوار پڑھتا تھا اور اس وقت میری عمر اکیسویں برس میں تھی۔
اس کتاب کی فنی خصوصیات میں سے یہ ہے کہ موصوف نہ صرف آیات قرآنیہ سے مسائل کا استنباط کرتے ہیں بلکہ منتخب آیات کے تمام متعلقات مثلاً اس کے وجوہ اعراب، مختلف وجوہ اعراب کی بنیاد پر مختلف توجیہات ہر توجیہ کی بنا پر مستنبط مسئلہ کی توضیح اور ان توجیہات سے مسالک فقہ اور مکاتب فکر کی تائید و تردید کی نشاندہی۔ اور ضروری ضروری مقامات پر کلامی اور منطقی انداز سے مسئلہ زیر بحث کی وضاحت۔
مصنف کا تعار :
نام و نسب اور خاندان :
آپ کا نام احمد عرف ملا جیون اور نسب نامہ یہ ہے۔ شیخ احمد بن ابی سعید بن عبداللہ بن عبدالرزاق بن خاصلہ الصدیق صالحی نسب نامہ خلیفہ اول حضرت صدیق اکبر (رض) تک پہنچتا ہے۔ والد بزرگوار کا نام نامی ابو سعید ہے۔ آپ کی والدہ شاہ عالمگیر کے داروغہ مطبخ میر آتش عبداللہ عر نواب عزت خاں امیٹھوی کی ہمشیرہ محترمہ تھیں۔
آپ کا خاندان علم و تقوی کے لحاظ سے مضافات لکھنو میں نہایت مقبول اور مرجع عام و خاص تھا۔
ولادت اور تعلم و تربیت :
ملا جیون پیر کے دن 25 شعبان المعظم 1047 ھ کو قصبہ امیٹھی میں صبح کے وقت پیدا ہوئے۔ والدین نے بڑے ناز و نعم سے پرورش کی۔ جب عمر چار سال کی ہوگئی تو حسب قاعدہ شرفاء باپ نے قرآن کریم حفظ کرانا شروع کیا سات سال ہی کے تھے کہ قرآن کریم کے حفظ سے فارغ ہوگئے۔
حفظ قرآن کریم کے بعد دیگر علوم کی طرف توجہ کی اور اس زمانے کی مروجہ درسی کتب کی تعلیم شیخ محمد صادق ترکھی سے حاصل کی بعض کتابیں مولانا لطیف اللہ گوردی سے پڑھیں بائیس سال کی عمر میں علوم درسیہ سے فراغت حاصل کرلی۔ تحصیل علم کے بعد اپنے وطن امیٹھی آکر درس و تدریس میں مشغول ہوگئے۔ آپ کی علمی قابلیت اور تقوی کے سبب آپ کے گرد طلبہ کا ہجوم رہتا تھا۔
قوت حافظہ :
ملا جیون کا قوت حافظہ حیرت انگیز تھا۔ مورخین کا کہنا ہے کہ تمام درسی کتب کی عبارت کے ورقوں کے ورق آپ کے حفظ تھے اور قوت حافظہ کی اس سے بہتر کی امثال ہوسکتی ہے کہ سات سال کی عمر میں حافظ ہوچکے تھے اور بائیس سال کی عمر میں درسی کتابوں سے فراغت حاصل کرچکے تھے۔
صاحب تذکرہ علمائے ہند کا کہنا ہے کہ طویل ترین قصیدے کے سب اشعار ایک بار ہی سننے سے آپ کو ازبر ہوجاتے تھے۔
زیارت حرمین شریفین :
جب ملا جیون کی عمر عزیز پچپن سال کی ہوگئی تو آپ نے حرمین شریفین کی زیارت کا قصد کیا اور وہاں تشریف لے جا کر تقریباً 5 سال وہیں قیام پذیر رہے۔ ایک بار اپنے والد اور ایک بار اپنی والدہ محترم کی طرف سے حج بدل کی سعادت حاصل کی۔ وہاں آپ نے بہت سے علماء سے ملاقات کی اور علوم دینیہ میں ان سے فیض حاصل کیا۔ یہیں پر آپ نے اپنی مشہور و معروف تصنیف شرح منار تصنیف کی جس کی عمدگی اور نفاست آج بھی مسلم گردانی جاتی ہے۔ جس کی مدت تصنیف صرف دو ماہ ہے۔
لاہور، اجمیر اور دکن میں قیام۔
آپ نے اپنی زندگی میں بہت سے شہروں کو اپنے قدم مبارک سے نوازا اور وہاں کے لوگوں کو اپنے چشمہ علم سے سیراب کیا۔ ان میں سے مشہور شہر دہلی، لاہور، اجمیر اور حیدر آباد دکن ہیں۔ دہلی اور اجمیر میں تو آپ نے باقاعدہ درس کا انتظام کر رکھا تھا جس میں آپ باقاعدگی سے درس دیتے تھے یہاں آپ کے چشمہ علم سے ہزارہا لوگ مستفید ہوئے۔
لاہور میں آپ شاہ عالم کے ساتھ تشریف لائے تھے جب کہ شاہ عالم بن اور نگ زیب کو لاہور کا گورنر بنایا گیا تھا۔ جب شاہ عالم کا انتقال ہوگیا تو آپ واپس دہلی تشریف لے گئے اور وہیں قیام پذیر رہے۔
اورنگ زیب کے شہزادوں میں سے فرخ سیر بھی آپ کی علمی قابلیت اور ورع و تقوی سے بہت متاثر تھا وہ آپ کو اپنے ساتھ اجمیر لے گیا جہاں پہنچ کر آپ نے اپنی فطرت اور طبیعت کے موافق بہت سے لوگوں کو راہ راست کی تلقین کی اور مدت تک دینی و علمی خدمت سر انجام دیتے رہے۔
دکن میں آپ اور نگ زیب کی فوج میں قاضی عسکر تھے۔ تقریباً پانچ سال دکن میں قیام رہا۔
وفات حسرت آیات :
8 ذیقعدہ سوموار کے روز 1130 ھ کو حسب معمول طلبہ کے درس و تدریس سے فارغ ہوئے نماز مغرب مع اوابین و اوراد و ضائف ادا کی۔ رات کا کھانا تناول فرمایا۔ عشاء پڑھی اور سنن و نوافل ادا کئے نصف شب گزری تو سینہ میں کچھ سوزش محسوس کی جو بڑھتے بڑھتے پہلو میں بھی ہونے لگی۔ شام کے وقت جامع مسجد دہلی کے جنوبی دالان کی طرف ایک کوٹھڑی میں جا کے لیٹ گئے۔ کلمہ طیبہ ورد زبان تھا کہ روح اطہر جسد عنصری کو چھوڑ کر راہی جنت ہوئی 9 ذیقعدہ منگل 1130 کا دن تھا۔ ظہر کے وقت آپ کی میت کو میر محمد شفیع کے تکیہ میں سپرد خاک کردیا گیا۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.