Blog

تفسیر نکات القرآن

نام : نکات القرآن
مصنف : حضرت مولانا عبدالرحمن اشرفی (رح)
فصیح اللسان واعظ شیریں مقال حضرت مولانا عبدالرحمن اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کا نام نامی زبان پر آتے ہی ایک ایسی باغ وبہار شخصیت کا تصور ابھرتا ہے جو حسن صورت اور حسن سیرت کے ساتھ حُسنِ کلام کا بھی مرقع تھی۔ حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کو حق تعالیٰ شانہٗ نے گوناگوں خوبیوں سے نوازا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت کم افراد کو مولانا (رح) کی طرح جامع الصفات پایا ہے۔ شریعت وطریقت کے مسائل پر گہری نظر، دل میں اتر جانے والا منفرد اندازِ گفتگو، کسی کی دل آزاری کے بغیر اختلافی مسائل کی تفہیم، خوش مزاجی وبذلۂ سنجی، سامعین کی رعایت سے علمی محافل میں فاضلانہ اور عمومی مجالس میں عام فہم اندازِ خطاب ایسی خوبی تھی جو حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کو معاصر علماء سے ممتاز کرتی ہیں۔
حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی ایک خوبی جو بہت کم خطباء وواعظین میں نظر آئی یہ تھی کہ آپ مشکل مضامین اور عالمانہ مباحث کو خداداد صلاحیت اور انداز بیان سے اس قدر سہل فرمادیتے تھے کہ عوام وخواص یکساں مستفیدہوتے تھے۔
مواعظ و خطبات میں بھی آپ رحمۃ اللہ علیہ کا انداز تدریسانہ ہوتا تھا، طویل جملہ ادا کرتے وقت آنکھیں بند کرلیتے تھے، جب جملے مکمل کرکے آنکھیں کھولتے تو مضمون سامعین کے دِل ودماغ میں اتر جاتا، آپ کے الفاظ کی روانی اور جملوں کی بندش قلوب کو نہال کردیتی، حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ نہایت خوش مزاج اور زندہ دِل تھے، نوجوان تعلیم یافتہ حضرات وخواتین کو ان کے استفسارات کے جواب ان کی ذہنی سطح کے مطابق ایسی محبت وشفقت سے دیتے تھے کہ وہ علماء کے اخلاق کے گرویدہ ہوجاتے، آپ کا وعظ، جوش وخروش ترنُّم اور تکلّف سے مبرّاہونے کے باوجود نہایت مؤثر دلچسپ اور مسحور کُن ہوتا تھا۔
جامعہ خیرالمدارس کے سالانہ اجتماعات پر عوام کے ساتھ اہل علم کو بھی آپ رحمۃ اللہ علیہ کے خطاب کا انتظار رہتا تھا، لاہور جامع مسجد اشرفیہ میں جمعہ کی خطابت وامامت آپ رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد تھی مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی شیریں بیانی اور عالمانہ خطاب کی وجہ سے بعض حوالوں سے بڑی بڑی شخصیات سالہا سال تک آپ (رح) کی اقتداء میں نماز ادا کرتی رہیں۔
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی مرحوم اور مولانا امین احسن اصلاحی مرحوم کے تفردات اور جمہور علماء کے مقابلہ میں کمزور دلائل پر مبنی آراء سے اہل علم باخبر ہیں، تاہم دونوں شخصیات نے سالوں تک آپ رحمۃ اللہ علیہ کے پیچھے جمعہ کی نماز ادا کی۔
مولانا (رح) علم وعمل میں اپنے جلیل القدر والد محترم حضرت مولانا مفتی محمد حسن امرتسری (رح) خلیفہ اجل حضرت حکیم الامت تھانوی قدس سرہٗ کا نمونہ تھے، اور مدرّس، محدث، مفسر ہونے کے ساتھ مصنف، محقق اور مدبّر بھی تھے، ” نکات القرآن “ کے نام سے آپ رحمۃ اللہ علیہ کی بلند پایہ تصنیف قرآن مجید کے طلبہ کے لیے لائق مطالعہ ہے، نکتہ ٔ آفرینی کے لحاظ سے بےتکلف محافل میں آپ رحمۃ اللہ کو ” ابوالنکات “ کہا جاتا تھا۔
حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے ١٨ صفر ١٤٣٢ ھ مطابق 23 جنوری 2011 ء کو داعی اجل کو لبیک کہا۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.