Blog

تفسیر موضح قرآن

نام : موضح القرآن :
مصنف : حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح)
تعارف تفسیر و ترجمہ :
حضرت شاہ عبدالقادر (رح) کا اردو ترجمہ ” موضح القرآن ” اپنی غیر معمولی خصوصیات کی وجہ سے بر صغیر کے مسلمانوں میں ” الہامی ترجمہ ” کے نام سے مشہور رہا ہے۔ اور حقیقت میں یہ قرآن کریم کا واحد ترجمہ ہے جو اردو میں پہلا با محاورہ ترجمہ ہونے کے ساتھ ساتھ قرآنی الفاظ کی ترتیب اور اس کے معانی و مفہوم سے حیرت انگیز طور پر قریب ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے اس ترجمہ کی تکمیل میں تقریباً چالیس سال جو محنت شاقہ اٹھائی ہے وہ اہل علم سے پوشیدہ نہیں ہے۔ قرآن کریم کا یہ ترجمہ اردو زبان کا ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ جس کی حفاظت ہندوپاک کے مسلمانوں کے لیے ایک دینی فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ حضرت شیخ الہند (رح) نے اس ترجمہ میں متعدد خوبیوں کا تذکرہ کرنے کے بعد تحریر فرمایا ہے۔
” حضرت ممدوح علیہ الرحمتہ کا ترجمہ جیسے استعمال محاورات میں بےنظیر سمجھا جاتا ہے ویسے ہی باوجود پابندی محاورہ، قلت تغیر اور خفت تبدل میں بھی بےمثل ہے “۔ (مقدمہ ترجمہ شیخ الہند۔ دارالتصنیف۔ کراچی)
اس ترجمہ کے ساتھ حضرت شاہ صاحب نے مختصر حواشی بھی تحریر فرمائے ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں۔
ترجمہ ھذا لا تعداد مرتبہ مستقل بھی طبع ہوا اور متعدد مفسرین نے اپنی تفسیر کے اوپر ترجمہ قرآنی کے لیے اسی کا انتخاب کیا۔ ہمارے سوفٹ وئیر میں یہ ترجمہ تفسیر جواہر القرآن کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔
مصنف کا تعارف :
نام و نسب : شاہ عبدالقادر بن شاہ ولی اللہ بن عبدالرحیم بن وجیہ الدین شہید بن معظم بن منصور بن احمد بن محمود بن قوام الدین عرف قاضی قواذن بن قاضی قاسم بن کبیر عرف قاضی بدہا بن عبدالمالک بن قطب الدین بن کمال الدین بن شمس الدین المفتی عرف قاضی پر ان بن شیر ملک بن عطا ملک بن ابوالفتح ملک بن عمرو الحاکم بن عادل ملک بن فاروق بن جرجیس بن احمد بن محمد شہر یار بن عثمان بن ہامان بن ہمایوں بن قریش بن سلیمان بن عفان بن عبداللہ بن محمد بن عبداللہ بن عمر الخطاب (رض) ۔
آپ کی پیدائش 1163 ھ بمطابق 1769 ء میں دہلی میں ہوئی آپ شاہ ولی اللہ دہلوی کے تیسرے صاحبزادے تھے۔ اور آپ کا شجرہ نسب 34 ویں پشت پر سیدنا عمر (رض) سے جا ملتا ہے۔
تعلیم و تربیت :
شاہ صاحب کی ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد محترم کے ہاتھوں ہوئی جبکہ والد کی وفات کے بعد تکمیل علوم کی سعادت اپنے بڑے بھائی شاہ عبدالعزیز (رح) سے حاصل کی۔
جبکہ سلوک و تصوف میں آپ نے شیخ عبدالعدل دہلوی (رح) سے استفادہ کیا اور اردو زبان و ادب کے سلسلہ میں خواجہ میر درد کی صحبت بھی اختیار کی اور ان سے استفادہ کیا۔
معروف تلامذہ :
شاہ عبدالقادر (رح) سے ایک کثیر تعداد نے استفادہ کیا، ان میں سے مشہور اور معروف شیخ عبدالحئی ہبۃ اللہ، شاہ اسماعیل شہید، شیخ فضل حق بن فضل امام خیر آبادی، مرزا حسن علی شافعی، شاہ محمد اسحاق اور دیگر علماء شامل ہیں۔
اولاد : شاہ صاحب کی صرف ایک بیٹی پیدا ہوئی اور اس کی شادی شاہ صاحب نے اپنے بھتیجے مولوی مصطفیٰ صاحب سے کی جس سے ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کی شادی شاہ اسمعیل شہید (رح) سے ہوئی۔
انتقال :
شاہ عبدالقادر (رح) نے 63 سال کی عمر میں 1230 ھ بمطابق 1814 ء میں وفات پائی اور اپنے جد امجد شاہ عبدالرحیم کے پاس ہی دفن ہوئے۔
علمی مقام :
خانوادہ شاہ ولی اللہ دہلوی کی علمی خدمات اس اعتبار سے بےمثل و بےنظیر ہیں کہ یہ سب دور زوال میں کی گئی گا وشیں ہیں اور ہر فن میں تحقیقی کام پیش کیا گیا ۔ اس خانوادہ میں سے شاہ عبدالقادر (رح) نے قرآن مجید کے ترجمہ و حواشی کے علاوہ کوئی قابل ذکر تصنیفی، تالیفی خدمات نہیں ہیں تاہم شاہ صاحب کو صرف اسی ایک خدمت نے زندہ جاوید کردیا ہے۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.