Blog

تفسیر مفہوم القرآن

بسم اللہ الرحمن الرحیم
مقدمہ
مجھے اپنی زندگی میں اکثر و بیشتر اس کمی کا احساس رہا کہ قرآن مجید کے مفہوم کو یسرنا القرآن کے معیار پر ضرور لکھا جانا چاہیے۔ کیونکہ سکول و کالج کے طلباء قرآن کے نفس مضمون سے بالکل بیخبر ہیں یا تو ناظرہ پڑھتے ہیں یا پھر ترجمہ پڑھتے ہیں اور کچھ حاصل کئے بغیر یہ کہہ کر رکھ دیتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) ہمیں یہ بےترتیب لگتا ہے، کچھ سمجھ نہیں آتا۔ حالانکہ قرآن کے تمام مضامین موتیوں کی لڑی کی طرح گزشتہ سے پیوستہ ہیں، قرآن سائنس کی کتاب نہیں لیکن کون سا ایسا مضمون ہے، جو اس کتاب مقدس میں بیان نہیں کیا گیا تمام علوم سے متعلق حیرت انگیز پیغامات موجود ہیں، قرآن جو کائنات میں تمام دانائیوں کا منبع ہے اس کی کوئی آیت سائنس کے خلاف نہیں جاتی اور ساتھ ہی ساتھ اس کے مضامین اس قدر آسان اور سادہ ہیں کہ عرب کے بدو اور بوریا نشین بھی ان کو آسانی سے سمجھ سکتے تھے اور پھر جیسے جیسے علم کی روشنی بڑھتی گئی اہل علم نے قرآن سے پوری طرح استفادہ کرکے دنیا کی بیشمار بنیادی دریافتوں سے مستفید کیا۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ ظہور اسلام کے 100 سے 300 سالوں کے اندر مسلمانوں نے طبعیات، ریاضی، طب، بیالوجی، ارضیات، فلکیات غرض کہ ہر قسم کے علوم و فنون میں کمال مہارت حاصل کی اور مسلمان سائنس دانوں کا چرچہ پوری دنیا میں ہونے لگا تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوجاتا ہے کہ تمام علوم کی جڑیں مسلم سائنسدانوں کے کئے ہوئے کارناموں سے نکلتی ہیں۔ موجودہ زمانہ میں بھی مثال موجود ہے کہ فرانسیسی ڈاکٹر مارس بیکائل نے بیالوجی اور ایمبرالوجی کے میدان میں قرآن کی رہنمائی سے قابل قدر کام کیا ہے۔
اسی طرح برفولٹ نے اپنی تصنیف ” تشکیل انسانیت “ میں لکھا ہے ” یورپ کی نشاۃ ثانیہ عربوں کے اثر کی مرہون منت ہے “۔
یہ اس لئے ہے کہ اسلام کی عقلی تعلیم نے بوعلی سینا، فارابی، ابن رشد، بیکن اور بیشمار سائنسدان پیدا کئے اور دنیا میں وقت معلوم کرنے کے لئے کرہ سماوی کا نمونہ تیار کرلیا گیا تھا۔
قرآن کی تعلیمات کے بل بوتے پر مسلمانوں نے 13, 14, 15 صدیوں میں عظیم سائنسدان پیدا کئے جن کی فہرست بہت لمبی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے نوجوان، بچے بلکہ بزرگ بھی اس نعمت بےبہا سے محروم ہیں محض لاعلمی کی وجہ سے پستی کی طرف جا رہے ہیں جبکہ غیر قومیں اس سے استفادہ کرکے ترقی کی منازل طے کرتی چلی جا رہی ہیں۔
یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہماری موجودہ نسل اس وقت ذہنی طور پر بےحد مضبوط ہے لیکن ان کی رہبری نا پید ہے۔ اسی لئے میرے ذہن میں خیال آیا کہ اس قدر بابرکت خزینہ علوم و فنون ہمارے بچوں سے صرف اس لئے پوشیدہ ہے کہ وہ عربی نہیں جانتے۔
میں نے سوچا کہ انتہائی عام فہم اور آسان الفاظ اور سہل ترین انداز تحریر میں وہ تمام نکات بچوں کو بتا دیے جائیں جو ان کے لئے دنیا و آخرت کی بھلائیوں، ترقیوں اور کامیابیوں کو واضح کردیں۔
قرآن پاک کی بہت سی تفسیریں چھپ چکی ہیں اور بہت سے بہترین کام ہوچکے ہیں اور ہو بھی رہے ہیں لیکن میری نظر سے ابھی تک بچوں کے لئے ایسا کوئی کام نہیں گذرا جس میں یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہو کہ عام نوجوان اور سکول کے بچے جس کو آسانی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ چناچہ میں اس کام کا بیڑا اٹھایا اور عزم کیا کہ میں ضرور قرآن کا اس انداز میں مفہوم پیش کروں کہ جس میں پڑھنے والے یا سمجھنے والے کو دقت پیش نہ آئے۔ اللہ میری مدد فرمائے غلطیوں سے محفوظ رکھے اور آخرت میں میرے لئے بلند درجات کا باعث بنائے۔
اپنے مسودات کی معیاری استعداد معلوم کرنے کے لئے میں نے بیشتر سکالرز کر زحمت دی جن میں سے پہلے مشہور و معروف عالم دین ڈاکٹر غلام مرتضی صاحب تھے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، جناب ڈاکٹر انیس احمد صاحب ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز ہیں لفظ بلفظ پڑھ کر سند دینے سے معذور تھے کیونکہ یہ اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ مجھے اس صورت میں مدد دینا ان کے لئے ممکن نہ تھا۔ البتہ عالمہ فاضلہ محترمہ فرخندہ جبین اور محترمہ تنویر مسعود صاحبہ نے لفظ بلفظ پڑھنے کے بعد مناسب تصحیح کرنے کا ذمہ لیا۔
ان کے علاوہ محترم جناب مولانا اکرم کا شمیری اور مولانا ضمیر احمد ساجد صاحب نے بھی خوب چھانٹ پھٹک کے بعد مفہوم القرآن کو معیار اور منفرد مجموعہ ہونے کی سند عطا کی اور ان کے خیال میں یہ تشریحات نوعمر بچوں اور بڑوں سب کے لئے قابل فہم اور آسان ثابت ہونگی۔
قارئین، علماء کرام، مبلغین اور واعظین سے میری یہ استدعا ہے کہ اس کوشش کو تفسیر کے معیار سے نہ جانچیں کیونکہ اسے سکول و کالج کے بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ بچے اور نوجوان قرآن پاک میں دیے گئے اللہ رب العزت کے اس آخری کلام کو سمجھ سکیں اور عمل کرسکیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا ہے۔ اگر میرے اس مقصد کو سامنے رکھ کر علماء کرام اور مبلغین تنقید کریں تو میں ان کی تہ دل سے شکر گزار ہوں گی۔ اللہ میری اور میرے احباب کی اس کوشش کو بامقصد اور باعث افتخار ثابت کرے۔ آمین
یہ کتاب بچوں، جوانوں اور عام مسلمانوں سے صرف اس لئے دور ہوگئی کہ وہ عربی نہیں جانتے۔ قرآن پاک کا موضوع ہے ” اللہ ، کائنات اور انسان “ بار بار اللہ نے فرمایا ” لوگو ! دیکھو غور سے دیکھو تم دیکھو تو سہی ہم نے کیا کیا پیدا کیا ہے “۔ یہ جملہ بار بار قرآن میں آیا ہے۔ اور یہ سائنس کا پہلا اصول ہے، جب ہم غور و فکر کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ 193 آیات حقوق اللہ کے بارے میں ہیں۔ 673 حقوق العباد جبکہ کائنات کے بارے میں 1750 ۔ اس طرح قرآن پاک کا نواں حصہ سائنسی علوم پر مشتمل ہے۔ کیوں نہ ہو۔ انسان کو اللہ نے پیدا کیا زمین و آسمان بنائے اور وہ تمام جہانوں کو مالک ہے۔ اسی لئے اس نے ہمیں یہ کتاب مبین عطاء کی۔
مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت عطاء کی کہ اس نے مجھ بےبس عورت کو یہ اعزاز بخشا کہ میں پہلی عورت ہوں جس نے پورے قرآن پاک کی تفسیر لکھنے کا شرف حاصل کیا اس کے لئے میں دن رات سجدہ ریز ہوں۔ اور پھر اس کام میں اللہ تعالیٰ نے میری مدد کی اور بیت القرآن جیسا ادارہ مجھے عطاء کردیا۔ یہ منفرد ادارہ محض رضاء الٰہی، خدمت خلق اور دعوۃ دین کا مظہر ہے۔ اس ادارے میں ہر کام فی سبیل اللہ کیا جاتا ہے اور دنیاوی مفاد کا کوئی خیال موجود نہیں اس ادارے کے سربار چیف چوہدری فرخ ستار صاحب ہیں۔ ان کو دنیا و آخرت میں کتنا ثواب ملے گا، میں اس کا اندازہ بھی نہیں کرسکتی اور اس ا ارے کا ہر لمحہ اور کارکنوں کا ہر کام جنت کا سرٹیفیکیٹ ہوگا۔ انشاء اللہ۔
اور D.V.D بنانے والے بھی ثواب کمانے میں کسی سے کم نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی کاوش قبول کرے اور مفہوم القرآن کو اپنی مقبول ترین کتابوں میں شامل کرلے۔ ہر پڑھنے والے کے لئے۔ ہدایت اور روشنی کا مینار بنا دے۔
میرے معاونین کو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت کی نعمتوں سے مالال مال کردے۔ آمین۔ ثم آمین۔
معاونین کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں۔
ڈاکٹر انیس احمد ۔ سابق ڈین انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد
مولانا محمد اکرم کا شمیری صاحب۔ استاد الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور۔
ڈاکٹر سلطان بشیر محمود صاحب۔ ستارہ امتیاز سابق ڈائریکٹر جنرل اٹامک انرجی کمشن
ڈاکٹر غلام مرتضی صاحب۔ قرآن فہمی تحریک کے بانی عظیم عالمی اسکالر۔ مولانا ضمیر احمد ساجد صاحب۔ خطیب جامع مسجد 4/9G اسلام آباد
محترمہ تنویر مسعود صاحبہ۔ عالمہ فاضلہ علوم دینیہ ۔ کئی اسلامی کتب کی مصنفہ
فرخندہ جبین صاحبہ۔ عالمہ فاضلہ علوم دینیہ
یہ نیک کام اللہ تعالیٰ کی رضا اور مدد سے 9 سال میں مکمل ہوا۔ اور پھر 21.07.2001 میں مارکیٹ میں پہنچ گیا اور مفہوم القرآن کے نام سے متعارف کرایا گیا۔
ناچیز مصنفہ و مؤلفہ رفعت اعجاز عالمہ فاضلہ ماہرہ علوم دینیہ و عصری علوم، مستند معلمہ سکول و کالج برائے حدیث و قرآن۔ میں بہت خوش ہوں کہ اس نے مجھ ناچیز کو اس چھوٹے سے کام کے لئے چن لیا، کرم کیا، مدد کی۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ وما علینا الا البلاغ۔ تمام قارئین سے استدعا ہے کہ اس شعر پر غور کریں۔
ایمان کی حفاظت تجھے مطلوب اگر ہے
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلمان
مزید یہ ہے
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
اللہ تعالیٰ ہم سب کو علم و عمل کی توفیق دے۔ آمین ۔ اور ہمیں اپنے مقبول ترین بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.