Blog

تفسیر مدنی

اھداء وانتساب
اس وحدہ لاشریک سبحانہ و تعالیٰ کے حضور اور اسی کے نام

۔ جس کا میں بندہ ہوں اور جس کے فضل و کرم اور رحمت و عنایت میں میرے جسم و جاں کا رواں رواں ڈوبا ہوا ہے اور جس کا شکریہ ادا کرنا میرے بس میں نہیں ۔ اور جس سبحانہ و تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے اس کی کتاب حکیم کے ترجمہ و تفسیر کی یہ خدمت اور عظیم الشان سعادت نصیب ہوئی ہے ۔ فَالحَمدُ لَہ قَبلَ کُلِّ٘ شَیۡءٍ وَّ بَعدَ کُلِّ شَیۡءٍ
ورنہ ؂
کہاں میں اور کہاں یہ نکہت گل نسیم سحر یہ تیری مہربانی ہے

۔ پس اسی کے حضور دست بدعا اور سراپا عرض و التجا ہوں کہ وہ محض اپنی شان کریمی سے اس بندہ ناچیز کی اس طالب علمانہ کوشش کو شرف قبولیت سے نواز کر اسے نفع عام اور راقم آثم کیلئے دارین کی سعادت و سر خروئی کا ذریعہ بنا دے ۔ وَ مَا ذَالِکَ عَلَیہِ بِعَزِیز ، وَ ھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیءٍ قدیر ، وَ لَا حَدّ لِجُودِہٖ وَ کَرَمِہٖ وَ ھُوَ بِالاِحسَانِ جَدِیر نیز یہ کہ اس کار عظیم کے دوران جو بھی کوئی تقصیر و کوتاہی راقم آثم سے سرزد ہوئی ہو ۔ خواہ اس کا تعلق نیت و ارادہ سے ہو یا عمل و اداء سے اس کو اپنی رحمت و عنایت سے معاف فرما دے کہ وہ غفور بھی ہے ، اور رحیم بھی ، تَبَارَکَ وَ تَعَالیٰ

۔ اور اس کو اپنی بارگاہ اقدس و اعلیٰ میں قبول فرما کر اسے راقم آثم کیلئے ، راقم کے والدین مرحومین ، اور دوسرے اعزہ و اقارب کے لئے ، راقم کی بیوی اور بچوں کے لئے ، بہنوں اور بھائیوں اور دوسرے تمام رشتہ داروں کیلئے ، خیر و برکت اور دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ ، اور ابدالاباد تک باقی رہنے والا صدقہ جاریہ بنا دے ، آمین ثم آمین ۔
۔ نیز اس کو راقم کے اساتذہ و مشائخ ، اہل مسلک اور جملہ اہل حق اور اہل ایمان کیلئے رحمتوں برکتوں اور دارین کی فوز و فلاح اور سعادت و کامرانی کا ذریعہ ، اور اس سے حق اور جملہ اہل حق کا بول بالا ہو ۔ اور ان کے مقابلے میں اہل کفر و باطل میں سے جن کے نصیب میں ہدایت ہو ان کو ہدایت و رحمت کے نور سے نواز نے کا ذریعہ بنا دے اور جن کے نصیب میں یہ نور ملنا مقدر نہ ہو ان کو خائب و خاسر اور ناکام و نامراد کر دے ۔ آمین ثم امین یا رب العالمین ، انہ سبحانہ و تعالیٰ سمیع قریب ، و بالاجابۃ جدیر ، و علی کل شیء قدیر و ھو عند ظن عبدہ بہ جل و علا و ھو ارحم بعبادہ منھم لانفسھم لیس کمثلہ شیء و ھو السمیع البصیر
و انا عبدہ العاصی ولرحمتہ الرجی محمد اسحاق خان عفا اللہ عنہ و عافاہ و جعل عقباہ خیرا من اُولٰہ احد طلبۃ العلم المقیم بدبی ( السطوۃ) الامارات العربیۃ المتحدہ ١٢ صفر ١٤١٧ ھ الموافق ٢٧ یونیو ١٩٩٢ ء یوم الخمیس

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین
والصلوٰۃ والسلام علی اشرف الانبیاء و سید المرسلین ، نبینا محمد و علیٰ الٰہ و صحبہ اجمعین ، ومن اھتدی بھدیہ ، و دعا بدعوتہ الی یوم الدین ۔ و بعد

۔ یہ بندہ ناچیز محمد اسحاق خان ولد سردار خانولی ، ولد سردار نواب خاں علیہم شآبیب الرحمۃ والغفران ۔ جو کہ آزاد کشمیر ، پاکستان کے ایک پسماندہ اور دور افتادہ مگر مردم خیزی میں امتیازی مقام اور خاص شہرت رکھنے والے ( منگ ) کا رہنے والا ہے ۔ برادران اسلام کی خدمت میں عرض پرداز پے کہ قرآن حکیم کے ترجمہ و تفسیر کے جس عظیم الشان اور جلیل القدر کام کا آغاز ایک عرصہ قبل کیا تھا وہ ربع صدی سے بھی زیادہ عرصے کی محنت اور جہد مسلسل کے بعد اب جا کر پایہء تکمیل کو پہنچ رہا ہے والحمد للہ رب العالمین۔ اَلَّذِیۡ لَا تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ اِلَّا بِتَوۡفِیقٍ مِّنہُ سُبحَانَہ وَ تَعَالیٰ

۔ اس عظیم الشان اور جلیل القدر کام کے سلسلہ میں جن امور کا التزام کیا گیا ۔ اور جن خطوط پر اس سلسلہ میں محنت کی گئی ان سب کا ذکر تفصیل کے ساتھ مقدمہ تفسیر میں کردیا گیا ، جو کہ الگ ایک مستقل کتاب کی شکل میں عرصہ قبل چھپ چکا ہے ۔ و الحمد للہ ، اس لئے اس کے اعادہ و تکرار کی نہ ضرورت ہے ، اور نہ گنجائش ، اس وقت تو صرف اس عمل جلیل کی قبولیت عند اللہ کی دعا کی اپیل و درخواست ہے اور بس اس دوران جو بھی کوئی کوتاہی راقم آثم سے سرزد ہوگئی ہو ۔ خواہ اس کا تعلق ارادہ و نیت سے ہو ۔ یا عمل و اداء سے اللہ تعالیٰ اس سے کی بخشش فرما کر اس قرآنی خدمت کو اپنی بارگاہ اقدس میں قبول فرما لے ۔ اور اس کو پوری دنیا میں نور حق و ہدایت کی اشاعت کا ذریعہ بنا دے آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الراحمین و اکرم الاکرمین ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے قبول فرما کر اس کو راقم آثم اور راقم کے جملہ متعلقین کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے باقی رہنے والا ایسا صدقہ جاریہ بنا دے ۔ جس سے دنیا ساری میں نور توحید کا اجالا ہوجائے اور شرک و بدعت کے اندھیرے چھٹ جائیں ۔ اور حق اور اہل حق کا بول بالا ہوجائے آمین ثم آمین و اِنّہ سبحانہ و تعالیٰ ولی ذالک والقادر علیہ جل و علاشانہ

و انا عبدہ الضعیف ، المفتقر الی رحمتہ جل و علا فی کل
حین و اٰن ، و بکل حال من الاحوال ، محمد اسحاق خان (عفا اللہ عنہ و عافاہ)
یکے از خُدّامِ علم و اھلِ علم ، مقیم دبی ١١ رمضان المبارک ١٤٢٤ ھ ٦ نومبر ٢٠٠٣ ء
بروز جمعرات سات بجے شام سطودہ ۔ دبی ، (قُبَیلَ اذان العشاء) والحمد للہ جل وعلا

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.