Blog

تفسیر محمود

تفسیر محمود
یہ تفسیر حضرت مولانا مفتی محمود صاحب (رح) کے افادات کا مجموعہ ہے۔۔۔ یہ در اصل ان کے دورۂ تفسیر کے امالی ہیں، جنہیں کتاب کی شکل میں یکجا کیا گیا ہے۔۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ :
1976 ء میں حضرت مفتی محمود قدس سرہ ، حضرت مولانا احمد علی لاہور ی (رح) کی کی علمی جو لانگاہ شیرانوالہ گیٹ لاہور میں حضرات اکابر علماء و اہل علم کی خواہش پر دورہۂ تفسیر پڑھانے کی ذمہ داری قبول فرمائی تو ملک بھر کے علماء، طلبہ، صلحاء اور عوام و خواص نے اس میں بھرپور شرکت فرما کر قرآن کریم کے علوم و معارف سمیٹنے کی سعی و کوشش کی۔
اس موقع پر حضرت مفتی محمود کے دورہ تفسیر میں شریک ہونے والے متعدد اہل علم نے ان کے تفسیری نکات اور فوائد کو قلم بند بھی کیا۔ ازیں بعد مفتی محمد جمیل خان (رح) کے دل میں خیال آیا کہ حضرت مفتی صاحب کے دورہ تفسیر کی امالی اور افادات حاصل کرکے اسے بھی منصہ شہود پر لایا جائے چناچہ وہ اس مہم کو سر کرنے میں مگن ہوگئے۔ تا آنکہ جو یندہ یابندہ کے مصداق وہ اس خزانہ عامرہ کی دریافت میں بھی کامیاب ہوگئے اور حضرت مولانا محمد یوسف خان استاذ حدیث جامعہ اشرفیہ لاہور کے ہاں اس علمی خزانہ کی موجودگی کی خبر پا کر بنفس نفیس مولانا محمد یوسف خان کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ عرض مدعا پر حضرت مولانا محمد یوسف خان صاحب نے اسے اپنے دل کی آواز سمجھ کر نہ صرف اپنی مالی اور قلمی افادات پیش کردیے بلکہ ممکن حد تک خدمت و تعاون کا یقین دلایا۔ پھر یہ تفسیر مولانا مفتی جمیل خان، مولانا ریاض درانی، مولانا یوسف خان، مولانا عبدالرحمن صاحب مفتی محمد عیسیٰ صاحب اور جناب پروفیسر امجد علی شاکر کی مشترکہ محنت کے بعد کتاب کی شکل میں سامنے آئی۔
تفسیر کی خصوصیات درج ذیل ہیں :
1 قرآن کی فصاحت و بلاغت۔ اس سلسلے میں مصنف کی نگاہ بہت باریک بین ہے۔ آپ آیات میں پوشیدہ رموز و دلائل کو سامنے لا کر قرآن مجید کی فصاحت و بلاغ کو واضح کرتے ہیں۔
2 ۔ مفردات کی تشریح اور اس سلسلے میں بہت سے نئے امور اور نئے نکات کا بیان
3 ۔ علم کلام و مناظرہ۔
یہ تفسیر مفتی محمود ساحب (رح) کے متکلمانہ ذہن کی عکاس بھی ہے۔ آپ قرآنی دلائل و حکم کی بہت اچھی تفسیر کرتے ہیں۔ بہت سے امور پر باطل مذاہب اور غلط خیالات کا خوبصورتی سے رد فرماتے ہیں اور مذہب حقہ کی حقانیت واضح فرماتے ہیں۔
4 ۔ مفسرین کے اور ان میں راجح قول کا تعین۔
5 ۔ فقہی مسائل پر بحث
6 ربط آیات
مصنف کے بارہ میں :
پیدائش[ترمیم ]
وہ سال 1919 ء میں ضلع ڈیرہ سماعیل خان کے عبدالخیل گاو (علیہ السلام) ں میں پیدا ہوئے۔ وہ لسانی طور پر مروت پشتون تھے۔ انکے والد محترم کا نام مولانا خلیفہ محمد صدیق (رح) تھا۔
تعلیم[ترمیم ]
آپ (رح) نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے اپنے گھر پر حاصل کی۔ آپ نے ان سے فارسی اور عربی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ مزید دینی تعلیم کے لئے آپ حضرت مولانا سید عبدالحلیم شاہ (رح) کے بھائی حضرت مولانا عبدالعزیزشاہ (رح) کے پاس اباخیل (لکی مروت) چلے گئے اور ان سے صرف و نحو کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ مفتی محمود صاحب نہایت ہی ذہین واقع ہوئے تھے اور ذوق و شوق علم بھی رکھتے تھے، لہٰذا اپنے استاد محترم مولانا عبدالعزیز (رح) اور دیگر بزرگوں کے مشورے سے مدرسہ شاہی مرادآباد میں داخل ہوئے۔ ایک مرتبہ مولانا عبدالرحمٰن امروہی (رح) تعطیلات کے ایام میں تشریف لائے اور مفتی صاحب سے پوچھا کیا تم نے تحصیل علم مکمل کرلیا ہے، جب انہوں نے مثبت میں جواب دیا تو مولانا صاحب نے انکا امتحان لیا اور اپنی طرف سے حدیث کی سند عطا فرمائی۔
درس و تدریس
مفتی صاحب جب تحصیل علم سے فارغ ہو کر واپس آئے تو شاہ عبدالعزیز (رح) اور دیگر احباب نے اجلاس بلایا اور مشورہ کیا کہ علاقے میں ایک دینی درسگاہ تائم کرنی چاہیے، پس جامعہ عزیزیہ کے نام سے ایک درسگاہ قائم کی گئی اور مفتی صاحب تین سال تک اس میں پڑھاتے رہے۔ بعد میں وسائل کی عدم دستیابی کے وجہ سے مدرسہ بند کرنا پڑا اور آپ نے پڑھانے کی خدمات عیسیٰ خیل کے ایک دینی مدرسے کے سپرد کردیں۔ کچھ عرصہ بعد یہاں سے مستعفی ہو کر واپس عبدالخیل آئے اور صاحبان کی تجویز پر حضرت صاحب (رح) نے یہاں مسجد کی امامت اور درس کا انتظام سنبھال لیا۔ علاقہ بھر سے طلباء ان کے پاس آتے اور علم کے نور سے منور ہوتے۔ مقیم طلبہ کی بھی اچھی خاصی تعداد تھی۔ انکے شاگردوں میں سے ایک ان دنوں مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں زیر تعلیم تھے۔ انہوں نے اپنے اساتذہ کے سامنے مفتی صاحب (رح) کی تدریسی صلاحیتوں اور علمی عظمت کا ذکر کیا تو مدرسہ کے ارباب انتظام و اہتمام نے حضرت مفتی صاحب (رح) کو اپنے مدرسے میں پڑھانے کی دعوت دی اور مفتی محمودصاحب (رح) ملتان تشریف لے گئے۔ یہاں سے مفتی صاحب کی علمی وسیاسی ترقی کا سفر شروع ہوا اور ملتان آنے کے بعد مفتی صاحب (رح) کی شہرت کو چار چاند لگ گئے۔ اس میں خود انکی اپنی محنت، سعی وتوجہ اور دوڑدھوپ کا بہت عمل دخل تھا۔ حضرت کی علمی و سیاسی زندگی کا آغار یہاں سے ہوا۔
تعارف
مفتی محمود صاحب پاکستان کے صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ رہے اور آپکا شمار ملک کے نامور سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ آپ جمعیت علمائے اسلام کے قائد اور مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے والد محترم ہیں۔ آپ ایک انتہائی صادق اور سچے انسان تھے اور ان کی سب سے بڑی خوبی بوقت نماز کی ادائیگی تھی اس بات کا پتہ اس سے چلتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک بہت بڑا مجمع آپ کے ساتھ جارہا تھا کہ آذان ہوگئی اسی وقت آپ نے تمام لوگوں کو روکا اور نماز پڑھوائی۔ ایک پولیس اہلکار سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ نے وضو کیا ہے تو پولیس نے جواب دیا کہ جب سے مفتی صاحب کے ساتھ ہیں ہم پہلے سے ہی وضو کرتے ہیں کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ ہر حال میں مفتی صاحب نے ہم سے نماز پڑھوانی ہے۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا سید میاں محمدرحمۃ اللہ علیہ جیسے مایہ ناز علماء ہیں۔ وہ ابتداء میں انڈین نیشنل کانگریس کے سرگرم رکن تھے۔ لیکن بعد میں مسلمانوں کی اپنی جماعت جمیعت علماء اسلام میں شمولیت اختیار کی اور سال 1940 میں ھندوستان کی آزادی کی تحریک میں شامل رہے۔ برصغیر پاک وھند کے دوسرے مسلمان سرکردہ لیڈروں کی طرح انہوں نے بھی پاکستان کے قیام کی نظریاتی بنیادوں پر مخالفت کی لیکن پاکستان بن جانے کے بعد انہوں نے اپنی توانائیاں پاکستان کے لئے وقف کردیں۔ سال 1970 ء کے انتخابات کے بعد وہ مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب کے قائم کردہ جمیعت علماء اسلام پاکستان کے صدر بنے۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی کے ساتھ اتحاد کا حصہ بھی رہے۔ 1 مارچ 1970 کو وہ صوبہ سرحد (موجودہ صوبہ خیبر پختونخواہ) کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ انہوں نے اپنی کابینہ کے ساتھ بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمیعت علماء اسلام کی مشترکہ حکومت کے جبراً اختتام کے خلاف ١٤ فروری ١٩٧٣ کو احتجاجاً استعفا دیا۔ مفتی صاحب نے پالستان میں ختم نبوت کے موضوع پر بحث میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ایک ٹیم کی قیادت کی جو قادیانیوں (احمدیوں اور لاھوری گروپ) کو غیر مسلم ثابت کرنے پر کام کر رہے تھے۔ انہیں اس موضوع کے بعد بہت شہرت اور پذیرائی ملی۔ انہوں نے روس کے خلاف افغان جہاد کی حمایت کی۔[ 1]
وفات
انہوں نے ١٤ اکتوبر 1980 ء کو وفات پائی اور اپنے آبائی گاو (علیہ السلام) ں عبدالخیل پنیالہ میں مدفون ہیں۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.