Blog

تفسیر فیوض القرآن

نام : فیوض القرآن فی
مصنف : ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی
ناشر : فیروز سنز
ایڈیشن : 1989
۔۔۔
یہ تفسیر ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی سابق رائیس الجامعہ جامعہ اسلامیہ بہاولپور کی تصنیف ہے ، اس میں ترجمہ قرآن کریم کی خدمت انہوں نے خود سر انجام دی ہے جبکہ تفسیر میں امہات التفاسیر کے علاوہ خصوصی طور پر اپنے حضرت احمد عبدالصمد فاروقی کے تفسیری افادات جمع کیے ہیں ۔
مصنف لکھتے ہیں : آج دور حاضر کے ذہن اور اس کے استدلالی مزاج کے پیش نظر قرآنی آیات کے مطالب ایسے پر اثر انداز سے اس طرح پیش کیے جانے کی ضرورت ہے کہ آیات کے مطالب اور مفہوم کے ساتھ، ربط آیات، بیان کا تسلسل، اعجاز بیان کی ندرت اور قرآن کا معجزانہ انداز ہدایت بہ یک وقت نمایاں ہوتا جائے، جو قرآن کی رفعتوں کا بھی ترجمان ہو اور وسعتوں کا بھی، اور طالب ہدایت کے ذہن میں وہ خطرے پیدا نہ ہوں، جو تفہیم دین میں حارج ہوتے ہیں تاکہ قرآن پاک کی حقیقی فہم تک ان کی رسائی ہوسکے اور اس کے انوار و برکات سے وہ مستفید اور مستفیض ہوں۔
اس ترجمہ کو اردو زبان کے مستند ترجموں اور تفاسیر کے اعلیٰ مآخذ کی بنیادپر ترتیب دیا گیا ہے۔ ترجمہ میں جابجا چھوٹے چھوٹے مختصر ، قرآنی مقصود کو نہایت وضاحت سے پیش کرنے والے جملے قوسین میں لکھے گئے ہیں، جگہ جگہ اس کی مختصر اور پر اثر تشریح بھی ہے جو مستند تفاسیر پر مبنی ہے۔
اسی طرح ایک آیت اور دوسری آیت کے ربط کو بھی دو آیات کے درمیان واضح کیا گیا ہے۔ ساتھی ہی ہر رکوع کے شروع میں اس کی خصوصی اہمیت اور گزشتہ رکوع سے اس کے ربط کی بھی نشان دہی کی گئی ہے۔
ہر سورة کے شروع مٰں ترتیب قرآن میں اس سورت کی اہمیت کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ ایک سورة کا ربط دوسرے سورة سے واضح ہوجائے۔
مصنف کا تعارف :
مولانا ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی بن سید محمود حسن بلگرامی 2 اگست 1908 کو بھارت کے علاقہ بلگرام میں تولد ہوئے۔ وطن کی نسبت سے بلگرامی کہلائے۔ آپ خاندانی طور پر زیدی واسطی سادات خاندان سے تھے۔
ابتدائی عمر میں والدین کا سایہ شفقت سر سے اٹھ گیا۔ یتیمی کے عالم میں تعلیم کے سفر کا آغاز کیا۔ الہ آباد یونیورسٹی (بھارت) سے بی۔ اے۔ ایم۔ اے اردو اور اس کے بعد اسی درسگاہ سے اردو میں علامہ اقبال پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
1937 میں بھارت کی نامور درسگاہ ڈون پبلک اسکول دہرہ دون سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔ اس اسکول میں آپ واحد مسلمان استاد تھے۔
1948 میں پاکستان تشریف لے آئے اور کچھ ہی روز قیام کے بعد اسی سال لندن تشریف لے گئے اور لندن یونیورسٹی میں پاکستان کی زبان تہذیب اور کلچر کے لیکچرار مقرر ہوئے اور پانچ سال کے بعد 1953 میں وطن واپس آئے
1960 تک حکومت پاکستان تحت مرکزی پلاننگ بورڈ میں ڈپٹی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
160 میں ہی آپ جامعہ اسلامیہ بہاولپور کے وائس چانسلر مقرر ہوئے اور پانچ سال تک خدمات انجام دیں۔
بعد ازاں ڈیڑھ برس ملک عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ میں اسلامی تعلیمات کے متعلق پروفیسر رہ کر خدمات انجام دیں۔
آپ کا انتقال 1990 میں ہوا۔
آپ کی متعدد تصانیف ہیں ۔ جن میں سے تفسیر فیوض القرآن اور “ نور مبین ” دو ایسی تصانیف ہیں جنہیں آپ امت مصطفویہ کے لیے امانت تصور کرتے تھے۔ ان میں سے تفسیر فیوض القرآن ایزی قرآن و حدیث میں شامل کی گئی ہیں۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.