Blog

تفسیر عمدۃ البیان فی تفسیر القرآن

مفسر : سید عمار علی
مطبوعہ : ثاقب پبلی کیشنز لاہور
تفسیر ہذا تقریبا 1900 عیسوی کے لگ بھگ لکھی گئی تھی۔ آیات کے لفظی ترجمے کے ساتھ ساتھ ہی تفسیر کی گئی ہے۔ کتاب ہذا کے دیباچے میں مرقوم ہے :
“ اس تفسیر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں قرآن کی آیتوں کا لفظی ترجمہ کیا گیا ہے اور عام فہم بنایا گیا ہے۔ دوسری بڑی خوبی اس تفسیر کی یہ ہے کہ اس تفسیر میں ترکیب کے اعتبار سے بھی بحث کی گئی ہے۔ تاکہ لوگ اس سے فقط تفسیر سمجھ کر نہیں بلکہ ایک بہت بڑا علمی ذخیرہ سمجھ بھی استفادہ کرسکیں۔ ”
مصنف مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ ، اس تفسیر سے پہلے اردو زبان میں کوئی ایسی تفسیر جس سے عام لوگوں کو فائدہ ، کسی نے نہیں لکھی تھی، اگر کچھ تھا بھی، تو بطور حاشیہ لکھا گیا تھا، جس میں ہر آیت کے معنی کو حل نہیں کیا گیا اور ہر آیت کی تفسیر نہیں لکھی گئی۔ اس لیے اس بات کو مد نظر رکھ کر تفسیر لکھنی شروع کی کہ اب کوئی ایسی تفسیر ہو کہ جس میں سب آیات کا حل ہو اور شان اور سبب نزول ہر آیت کا تفصیل سے ہو اور اختلافِ قراءت اور ترکیب نحوی بھی موافق ضرورت کے اس میں مذکور ہو اس واسطے اس خاکسار نے حکم مومنین کو بسر و چشم قبول کرکے باوجود قلت سامان اور کثرت افکار کے تفسیر کا لکھنا شروع کیا ، ہر آیت کی تفسیر لکھی ، حسب ضرورت آیات کے شان نزول، اور واقعات، قراءات اور ترکیب نحوی بھی درج کی۔ اور اس کا نام عمدۃ البیان فی تفسیر القرآن رکھا۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.