Blog

تفسیر عروۃ الوثقی

تفسیر عروۃ الوثقی
یہ علامہ عبدالکریم اثری صاحب (رح) کی تفسیر ہے۔ اس کے بارے میں خود علامہ عبدالکریم اثری ابتدائیہ میں رقمطراز ہیں :
میرے وطن عزیز میں مختلف مکاتبہائے فکر کے علماء کثرت سے موجود ہیں لیکن ان کا کام اپنے اپنے مکتبہ فکر کی ترجمانی ہے اور ان کے قائدین اسلام کی پروا کیے بغیر اپنی اپنی قیادت کو قائم رکھنے کی لائن پر رواں دواں ہیں۔
مجھ پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے مجھے اس مذہبی گروہ بندی سے بالکل آزاد رکھا اور صحابہ کرام تابعین عظام و سلف صالحین سے لے کر آج تک جتنے علمائے اسلام ہوئے ہر ایک عالم با عمل کی قدرو قیمت میرے دل میں پختہ کردی۔ ایک طرف میرے دل میں پھول چننے کا شوق پیدا کیا تو دوسری طرف میرے لیے زمین کو باغ و بہار کردیا اور مجھے ہر طرف پھول ہی پھول نظر آنے لگے۔ الحمد للہ کہ اس نے مجھے کانٹوں سے بچ بچا کر پھولوں سے دامن بھرنے کی توفیق دی اور جو کچھ میں چن پایا اس کا ایک حصہ آپ کے سامنے رکھ دیا کس کو کس پھول سے پیار ہے اور کس سے نہیں یہ اپنے اپنے ذوق کی بات ہے۔
جن جن جگہوں سے یہ پھول چنے گئے ان کا تذکرہ میں نے مصادر و مراجع کے عنوان میں کردیا ہے کہیں سے زیادہ اور کہیں سے کم حسب خیال جس قدر چاہا حاصل کیا۔ ترجمہ جس کو در اصل مفہوم کے نام سے یاد کرنا زیادہ موزوں ہے مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم سے مستعار لیا لیکن بعض مقامات پر دوسرے علمائے کرام اور مترجمین حضرات سے بھی استفادہ کیا گیا اسی لیے مکمل نسبت علامہ آزاد کی طرف کرنا مناسب خیال نہ سمجھا۔
(مصنف نے مصادر و مراجع میں جن کتب کے نام درج کیے ہیں ان کی تعداد 90 ہے۔ یعنی کتب کے ایک بڑے ذخیرہ سے استفادہ کے بعد یہ تفسیر لکھی گئی ہے)
مولانا عبدلکریم اثری صاحب کا تعارف
آپ کا نام عبدالکریم اثری ولد فضل کریم ولد شمس دین ہے۔ خاندان ” جٹ سپرا “ کے نام سے موسوم ہے جس کے کچھ لوگ دریائے چناب کے اس پار اور کچھ دریا کے اس پار آباد ہیں۔ اس پار سے میری مراد ٹھٹھہ عالیہ ضلع گجرات جو اس وقت دو ضلعوں میں تقسیم ہو کر گجرات اور منڈی بہاؤالدین ہے اور اس پار سے میری مراد حضرت کیلیانوالہ ضلع گوجرانوالہ ہے۔ اس وقت دونوں اطراف کے زیادہ تر لوگ بڑے شہروں میں آباد ہوچکے ہیں جیسے کراچی، لاہور ، رالپنڈی اور اسلام آباد وغیرہ۔

آپ کی پیدائش خاندانی تحریرات کے مطابق اپریل 1934 ء ہے اور سکول، شناختی کارڈ کے لحاظ سے مارچ 1935 ء ہے۔ تقسیم ہند سے قبل میں پرائمری پاس کر کے ایک دیوبندی عالم دین علامہ عبدالمجید صاحب ڈھوک کا سب کے ہاں دینی تعلیم حاصل کر رہا تھا کہ اگست 1947 ء میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ اس کے بعد میں نے اپنے قریبی قصبہ جو کالیاں سے 1949 ء میں مڈل پاس کیا اور قصبہ ہیلاں سے 1951 ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور دینی تعلیم کی تکمیل کے شوق میں گجرات شہر چلا آیا۔
گجرات شہر میں مختلف اداروں سے ہوتے ہوئے 1953 ء کے موسم گرما میں حافظ عنایت اللہ اثری صاحب (رح) کے پاس پہنچ گیا اور باقاعدہ درس نظامی کی تکمیل 1957 ء میں کی اور فارغ اوقات میں ” خوش نویسی “ کا فن بھی حاصل کرلیا بلکہ اپنی ضروریاتِ زندگی بھی اسی کام کے ذریعہ پورا کرتا رہا کہ دورانِ تعلیم بھی میں ہوٹل کا بل ادا کر کے کھانا کھاتا رہا جو گجرات شہر میں ” پرنس ہوٹل “ کے نام سے معروف تھا اور ہوٹل سے کھانا لانے والا ماسٹر بشیر احمد اس بات کی شہادت آج بھی موجود ہے۔
1960 ء میں منشی فاضل اور 1963 ء میں عربی فاضل کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے پاس کیے اور حافظ صاحب موصوف کے مشورہ سے ملازمت نہ کرنے کا فیصلہ کر کے ” کتابت “ کے کام میں لگ گیا۔ اس کی وجہ یہ بھی ہوئی کہ میرے خاندان کی کیلانی برادری کے اکثر لوگ اس فن سے وابستہ تھے۔ کتابت کے شعبہ سے وابستہ ہو کر میں نے براہ راست مختلف اداروں سے کام حاصل کیا اور رات دن محنت کر کے اپنے نجی خاندان کی گرتی ہوئی معیشت کو بحمداللہ سنبھالا دیا۔
دینی تعلیم حاصل کرنے کے دوران اکثر گوجرانوالہ سے علامہ محمد اسماعیل (رح) حافظ صاحب (رح) کے پاس آتے جاتے تھے اور مجھے پڑھتا دیکھتے تھے اور بہت خوش ہوتے تھے بعد میں جب وہ امیر جماعت ہوگئے تو انہوں نے حافظ صاحب (رح) سے کہہ کر مجھے قصبہ کنجاہ میں پہلی جامعہ مسجد اہل حدیث میں جس کے ناظم محمد شریف چغتائی تھے جمعہ کے خطبہ کے لیے منتخب کیا میں نے بغیر کسی مشاعرہ و معاوضہ کے دورانِ تعلیم اور ازیں بعد 1975 ء تک مسلسل اس جگہ جمعہ کا خطبہ دیا۔ شروع میں یہاں مسجد نہیں تھی بلکہ محض ایک تھڑا (چبوترہ) سا تھا لیکن بعد میں بحمداللہ وہاں میری موجودگی میں ایک بڑی مسجد تعمیر ہوئی۔
استاذی حافظ عنایت اللہ اثری (رح) کا تعلق وزیرآباد ضلع گوجرانوالہ سے تھا۔ موصوف حافظ عبدالمنان وزیرآبادی اور مولوی فضل الٰہی وزیرآبادی کے شاگردوں میں تھے اور علامہ محمد اسمائل (ڈھون کی) ضلع گوجرانوالہ، علامہ ثناء اللہ امرتسری ، علامہ میر سیالکوٹی، علامہ سید محمد داؤد غزنوی وغیرہ کے ساتھیوں میں سے ایک تھے۔ دہلی میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ان کے آپس میں گہرے تعلقات تھے۔ بعد میں علامہ ثناء اللہ امرتسری (رح) کو جب جماعت نے بعض اختلافات کے باعث الگ کردیا اور غزنوی اور روپڑی اور خانپوری خاندانوں نے مل کر موصوف کو سخت تنگ کیا تو اس دوران حافظ عنایت اللہ (رح) بھی ان سب سے الگ ہوگئے اور تقسیم ہند کے بعد جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو یہ لوگ مستقل دھڑوں میں تقسیم ہوگئے تو حافظ صاحب (رح) نے سب ساتھیوں کے ساتھ ملتے رہنے کے باوجود کسی بھی ایک گروہ کا ساتھ نہ دیا اور باقاعدہ کسی گروہ میں شامل نہ ہوئے۔
1953 ء میں جب مجھے حافظ صاحب (رح) کے سامنے تہ زانوں کرنے کا موقع ملا اس وقت نہایت خاموشی کے ساتھ حافظ صاحب موصوف تصنیف و تالیف کے کام میں مصروف تھے اور جماعتی رسائل یعنی فاتحہ خلف الامام، رفع یدین، آمین بالجہر وغیرہ جیسے موضوعات پر تحریرات کر رہے تھے کہ میرے جانے کے بعد میری تعلیم میں ایسے مصروف ہوئے کہ دن رات ایک کردیا۔ دورانِ تعلیم ہر طالب علم کو جو شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں مجھے بھی ہوئے تو موصوف نے دِل کھول کر مکمل تحقیق کرنے کے بعد جوابات دیئے اور اس طرح طریقہ تعلیم سے جہاں میں بحمداللہ مطمئن ہوا حافظ صاحب (رح) بھی جماعت اہل حدیث سے مزید منفرد ہوتے گئے اور مختلف موضوعات پر سینکڑوں رسائل تالیف کئے بلکہ اس دوران ابوداؤد طیالسی کی تبویب کا کام بھی سرانجام دیا۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے کہ مسجد کو، جمعہ کے خطبہ کو بحمداللہ میں نے ذریعہ معاش نہیں بنایا بلکہ معیشت کے لیے ” کتابت “ کا پیشہ اختیار کیا جس کے باعث مجھے فراغت کا وقت مطلق میسر نہیں آیا بلکہ اپنی ضروریات و حوائج کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ میں نے 16 سے 18 گھنٹے تک روزانہ کام کیا اور یہ سلسلہ مسلسل 1957- 58 سے جاری ہو کر 1990 ء تک چلتا رہا۔
اس عرصہ میں میں نے ملک عزیز کے جتنے بڑے بڑے اشاعتی ادارے ہیں جیسے شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور، ایچ ایم سعید کمپنی، دارالعلوم کو رنگی، دارالاشاعت اردوبازار ، دارالقرآن لسبیلہ، قرآن محل، کلام کمپنی، نفیس اکیڈمی کراچی اور نورمحمد کتب خانہ جیسے اداروں کا بیشتر کام خود کیا اور دوسرے بہت سے ساتھیوں سے کرایا۔ درس نظامی کی تمام کتب بشمول صحاح ستہ ایک سے زیادہ بار میرے ہاتھ سے مختلف حواشی کے ساتھ تحریر ہوئیں۔
استاذی حافظ صاحب (رح) کے فرمانے پر میں نے اپریل 1975 ء میں کنجاہ کو ترک کر کے جمعہ کا خطبہ آپ کی موجودگی میں آپ کی جگہ جامع العنائیہ اہل حدیث جناح اسٹریٹ گجرات میں شروع کیا جو بحمداللہ آج تک اس جگہ جاری ہے۔ یہاں میری ملازت تھی نہ ہے فقط اس وعدہ کی ایفا کرتا چلا آ رہا ہوں جو زندگی میں حافظ صاحب (رح) سے کیا تھا جب کہ حافظ صاحب موصوف مئی 1980 ء میں وفات گئے تھے۔
چونکہ اپریل 1980 ء میں حافظ صاحب کے تقاضا پر میں نے آپ کے مکان میں رہائش اختیار کرلی تھی اور جمعہ کا خطبہ بھی بدستور جاری اور صبح کی نماز کے بعد درس قرآن کریم کا سلسلہ بھی چلتا رہا اور اس کے ساتھ معیشت کی چکی کی مشقت تقریباً 1990 ء کے قریب آ کر ذرا ہلکی ہوگئی اس وقت دارالقرآن کراچی کے مالک مولوی نور احمد صاحب سے تجوید الحروف قرآن کریم کی کتابت کا ایک معاہدہ ہوا تھا کہ اچانک وفات پا گئے اس وقت تقریباً آدھا کام مکمل ہوچکا تھا لیکن ان کے بیٹوں فہم اشرف، نعیم اشرف وغیرہ نے اس کی طباعت سے انکار کردیا کہ مفتی عبدالرشید صاحب ناظم آباد کراچی نے فتویٰ صادر فرمایا ہے کہ ایسی طباعت جس میں اردو حروف میں قرآن کریم کا تلفظ تحریر کیا گیا ہے طباعت شرعاً ناجائز ہے۔ ان کے اس جواب کے بعد میں نے اس تجوید الحروف کے قرآن کریم کو مکتبہ الاثریہ جناح اسٹریٹ گجرات کے نام سے طبع کرایا اور علمائے کرام کی مخالفت کے باوجود یہ قرآن کریم اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک مقبول ہوا اور اس وقت بحمداللہ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک بہت سے ادارے اس کو طباعت کر رہے ہیں اور اردوخواں حضرات کو بہت فائدہ ہو رہا ہے۔ اللھم زد فزد
حافظ صاحب کی وفات کے بعد مسجد کی توسیع کا کام 1985 ء سے 1988 ء تک مکمل ہوا چونکہ مسجد میں درس بھی باقاعدگی کے ساتھ جاری تھا لیکن اس محلہ سے لوگ آہستہ آہستہ اپنی جائیدایں فروخت کر کے دور دراز علاقوں اور کالونیوں میں بسنا شروع ہوگئے اور ہوتے ہوتے محلہ تقریباً بازار اور کاروباری مارکیٹ میں تبدیل ہوگیا جس کے باعث ظہر اور عصر کی نمازوں کے سوا باقی نمازوں میں حاضری کم ہونے لگی خصوصاً صبح کے درس میں لوگوں کا آنا مشکل ہونے لگا۔ جمعہ کے نمازیوں نے تقاضا کیا کہ قرآن کریم کی ایک تفسیر نظریات کے مطابق جو یہاں پیش کیے جاتے ہیں ضروری ہے تاکہ تمام لوگ اس سے استفادہ کرسکیں۔
جمعہ کے نمازیوں کے اس تقاضا کے باعث میں نے ان سے وعدہ کرلیا اور اس طرح ” تفسیر عروۃ الوثقیٰ “ کا کام شروع ہوگیا یہ کام 1993 ء کے دسمبر میں شروع ہوا۔ مسودہ کی کتابت و طباعت کا کام مسلسل یکساں شروع کردیا گیا اور اس طرح یہ تفسیر القرآن 9 ضخیم جلدوں میں بحمداللہ جولائی 1998 ء کو مکمل ہوگئی۔ یہ تمام کام میں نے محض اللہ کی رضا کے لیے بغیر کسی اجرت و معاوضہ کے سرنجام دیا اور کتاب و طباعت کے دوسرے اخراجات اس وقت کے ناظم انجمن جناب میر الطاف الرحمن کے زیر اہتمام تکمیل کو پہنچا اور یہ اخراجات مسجد کے جمعہ کے نمازیوں نے میر الطاف الرحمن کے ذریعہ پایہ تکمیل تک پہنچائے اور وہی اس تمام کام کے اصل روح و رواں تھے۔
تفسیر القرآن کے نام ” عروۃ الوثقیٰ “ پر بعض دوستوں کو اعتراض ہے کہ یہ نام ” العروۃ الوثقیٰ “ ہونا چاہیے تھا چونکہ قرآن کریم کی (٢: ٢٥٦) اور (٣١: ٢٢) میں بھی یہ لفظ ” العروۃ الوثقیٰ “ آیا ہے اس لیے اس معاملہ میں بہت کچھ مزید بھی سننے میں آیا لیکن بندہ کسی تفصیل میں گئے بغیر صرف ایسے تمام دوستوں اور بزرگوں سے عرض گزار ہے کہ جس طرح ” عروۃ الدلو “ ” عروۃ ا لکوز “ ” عروۃ القمیص “ درست ہے اسی طرح ” عروۃ الوثقیٰ “ کو بھی مان لیں اور میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ اس کو طول دینا مناسب نہیں اور اسی طرح یہ بھی کہ ” عروۃ الوثقیٰ “ بہت سی شخصیتوں اور تاریخ میں بہت سی کتابوں کے نام بھی معروف ہیں ویسے بھی ناموں پر بحث مناسب نہیں اور صاحب علم بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ جہاں مرکب عطفی گرائمر میں موجود ہیں وہاں مرکب کی قسمیں اور بھی پائی جاتی ہیں جن کی تعداد 9، 2 گیارہ ہے۔
اس تفسیر کے لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ اوپر میں نے اشارہ کردیا ہے اور ویسے بھی یہ سوال کوئی معقول نہیں تاہم اس سلسلہ میں عرض ہے کہ تمام متداول تفاسیر خصوصاً ہماری قومی زبان اردو میں مخصوص مکتبہ فکر کی ترجمانی کرتی ہیں چونکہ فی ز ماننا تمام مسلمان خصوصاً برصغیر پاک و ہند میں مختلف مکاتبہائے فکر میں تقسیم ہوچکے ہیں اور تقسیم در تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں اور یہ سلسلہ روز بروز ترقی پذیر ہے اور ہر مکتبہ فکر کے لوگ دوسرے مکتبہ فکر کی کوئی تحریر دیکھنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ ہر مکتبہ فکر کے علمائے گرامی قدر نے دوسرے فکر کی تردید اس طرح کی ہے کہ نفرت پیدا کردی ہے اور یہ صورت حال سب کی آنکھوں کے سامنے ہے چونکہ میرا تعلق کسی بھی مخصوص مکتبہ فکر سے نہیں ہے۔ میں بالکل الگ اور صرف کتاب و سنت سے براہ راست استفادہ کرنے والا انسان ہوں اس لیے اس مسجد میں جمعہ ادا کرنے والے دوستوں نے چاہا کہ ایسی تفسیر ہونا ضروری ہے جس پر کسی مکتبہ فکر کی چھاپ نہ ہو بلکہ فقط اسلام کی ترجمانی کرے جو اسلام کی وسعت کو زمانہ کے حالات کے پیش نظر رکھ کر مرتب کی جائے۔ اگر اس تفسیر کو تفسیر بالماثور نہ کہا جاسکے تو تفسیر بالرائے کے الزام سے بھی بری الذمہ ہو۔ اس طرح یہ بھی کہ آج تک جتنی تفاسیر عربی اردو لکھی جا چکی ہیں ان سب سے یکساں ایک جیسا استفادہ کرنے کے بعد اس کے مضامین منضبط کیے جائیں۔ گویا جس طرح میرا یعنی عبدالکریم اثری کا تعلق ملک عزیز کی کسی بھی سیاسی پارٹی یا مذہبی گروہ بندی سے نہیں بالکل اسی طرح تفسیر ” عروۃ الوثقیٰ “ بھی کسی سیاسی پارٹی یا مذہبی گروہ بندی کی ترجمانی نہیں کرتی اور یہی بات اس کے نام سے واضح اور ظاہر ہوتی ہے کہ جس کی طبیعت میں انقباض ہے وہ اس کے قریب نہیں جاتا۔
تفسیر کے مطالعہ سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ تمام لغات عربی، اردو اور فارسی سے بھی استفادہ کیا گیا ہے اور اس طرح تمام تفاسیر یعنی تفسیر طبری سے لے کر تفسیر روح المعانی تک عربی اور موجودہ تمام تفاسیر اردو یا ترجمہ اردو سے تعاون حاصل کیا گیا ہے گویا کانٹوں سے بچ بچا کر ہر طرح کے پھول چننے کی کوشش کی گئی ہے چاہے وہ خوشبو دینے والے ہوں یا فقط نظر کو پسند آنے والے۔
ہاں ! کوئی طبیعت اگر پھولوں سے نفرت کرنے اور کانٹوں سے محبت رکھنے والی ہو تو ظاہر ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے باعث اس سے استفادہ تو درکنار اس سے نفرت کرے گی بلکہ اس کے نام سے بھی اس کو الرجی ہوگی اور یہ مرض بہرحال لاعلاج ہے۔ ایسی طبائع کے لیے دعا کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے جو بحمداللہ میری طرف سے جاری ہے اور تازندگی رہے گا۔ ان شاء اللہ
قرآنِ کریم کی اس تفسیر کے ساتھ مختلف موضوعات پر رسائل کتب کا سلسلہ بھی چلتا رہا اور تکمیل تفسیر کے بعد قرآن کریم کے متن کے ساتھ بامحاورہ ترجمہ طبع کرایا گیا تاکہ تفسیر کی ضخامت کے پیش نظر صرف ترجمہ پر اکتفا کرنے والے دوست و بزرگ بھی استفادہ کرسکیں اور ازیں بعد ایک قرآن کریم لفظی ترجمہ کے ساتھ بھی طبع کرایا گیا کہ بالکل مبتدی حضرات قرآن کریم کے متن کے ساتھ تحت لفظی ترجمہ جان سکیں اور ان کے لیے آسانی رہے۔ بحمداللہ یہ قرآن کریم بھی باقاعدہ طبع ہو رہے ہیں۔ میری ان تمام تصنیفات کو فہرست ” آئینہ کتب اثری “ سے تعارف حاصل کیا جاسکتا ہے۔

میں اپنے نام کے ساتھ ” اثری “ کا لاحقہ استعمال کرتا ہوں، کیوں ؟ معلوم ہے کہ صحابہ کرام کے منقولات کو آثار کا نام دیا جاتا ہے اور جو لوگ صحابہ کرام کے منقولات کا احترام کرتے ہوئے ان سے استفادہ کرتے ہیں وہ اس لاحقہ کو استعمال کرلیتے ہیں رواجاً یا اعتقاداً یہ بات مجھے پسند آئی اور استاذی حافظ عنایت اللہ (رح) بھی اس کو اپنے نام کے ساتھ استعمال کرتے تھے اس دوہری نسبت سے میں نے اس عرف کو منتخب کرلیا جو معروف ہوگیا۔
۔۔۔
بحمداللہ جامعہ اشاعت اسلام للبنات ہائی سکول کے نام سے ایک ادارہ اپنے آبائی گاؤں ٹھٹھہ عالیہ میں موجود ہے جامع مسجد بھی ہے جس میں نہایت خاموشی کے ساتھ نماز کے فرائض ادا ہوتے ہیں چار بچے ہیں جو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم سے بقدر ہمت مزین ہیں۔ نماز، روزہ کے پابند اور بحمداللہ فرمانبردار ہیں اس ہموم و غموم سے لبریز دنیا میں اپنا اپنا وقت خوش اسلوبی سے پاس کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اتنے احسانات ہیں کہ گنائے نہیں جاسکتے۔ خصوصاً 76، 77 سال کی عمر میں بھی ہاتھ اور زبان اپنا کام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آسمانی اور عرضی بلیات سے محفوظ رکھے اور ارزل العمر سے بچائے۔
نوٹ : یہ مضمون مصنف کی زندگی میں لکھا گیا تھا۔۔ 2015 میں فاضل مصنف وفات پاگئے۔۔ اللہ ان پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.