Blog

تفسیر عثمانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم
مقدمہ
خدا در انتظار حمد ما نیست محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چشم بر راہ ثنا نیست
خدا مدح آفرین مصطفٰے بس محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حامد حمد خدا بس
منا جاتے اگر باید بیاں کرد بہ بیتے ہم قناعت میتواں کرد
محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) از تو میخواہم خدارا خدا یا از تو عشق مصطفٰے را
وگر لب وا مکن مظہر فضولیست سخن از حاجت افزوں تر فضولیست

اما بعد : بندہ آثم و عاجز محمود ابن مولوی ذوالفقار علی دیوبند ضلع سہارنپور کا رہنے والا غفر اللہ تعالیٰ ولوالدیہ عرض کرتا ہے کہ بعض احباب اور مکرمین نے بندہ سے درخواست کی کہ قرآن شریف کا ترجمہ سلیس مطلب خیز اردو زبان میں مناسب حال اہل زمانہ کیا جائے جس سے دیکھنے والوں کو فائدہ پہنچے اور وہ نقصان اور خلل اور لفظی و معنوی اغلاط جو بعض آزادی پسند صاحبوں کے ترجمہ سے لوگوں میں پھیل رہی ہیں ان سے بچاؤ کی صورت نکل آئے ۔ اس عاجز نے اس درخواست کے جواب میں اپنی بےبضاعتی کے علاوہ یہ عرض کیا کہ اول تو مقدسین اکابر کے فارسی اردو کے متعدد تراجم موجود ہیں اس کے علاوہ علمائے متدینین زمانہ حال کے متعدد تراجم یکے بعد دیگرے بحمد اللہ شائع ہوچکے ہیں جو لوگوں کو مذکورہ بالا خرابیوں سے بچانے کے لئے کافی و وافی و شافی ہیں ۔ چناچہ بندہ کے احباب میں بھی اول مولوی عاشق الٰہی صاحب سلمہ ، ساکن میرٹھ نے ترجمہ کیا اس کے بعد مولانا اشرف علی صاحب سلمہ اللہ نے ترجمہ کیا احقر نے دونوں ترجموں کو تفصیل سے دیکھا ہے جو ان خرابیوں سے پاک و صاف ہیں اور عمدہ ترجمے ہیں ۔ پھر اب کسی جدید اردو ترجمہ کی کیا حاجت ہے بجز اس کے کہ اسمائے مترجمین میں ایک نام اور زیادہ ہوجائے اور کوئی نفع ایسا نہیں معلوم ہوتا ۔ مگر مکرمین احباب نے اس پر بھی بس نہ کی اور اسی اصرار پر قائم رہے تو مجبور ہو کر مجھ کو یہ عرض کرنا پڑا کہ اس وقت تک میرے خیال میں کوئی ایسا نفع نہیں آیا کہ جس کی وجہ سے جدید ترجمہ کی جرات اور ہمت کروں ۔ اب آپ کے اصرار پر احقر تراجم قدیمہ اور جدیدہ کو بنام خدا غور سے دیکھتا ہے اس کے بعد اگر کوئی نفع سمجھ میں آیا تو اس کے موافق آپ صاحبوں کے فرمانے کی تعمیل کا ارادہ کروں گا ورنہ معذور ہوں ۔ اس کے بعد حضرت مولانا شاہ ولی اللہ اور مولانا شاہ رفیع الدین اور مولانا شاہ عبدالقادر قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم کے تراجم کو جو غور سے دیکھا تو یہ امر تو بےتامل معلوم ہوگیا کہ اگر یہ مقدسین اکابر قرآن شریف کی اس ضروری خدمت کو انجام نہ دے جاتے تو اس شدت ضرورت کے وقت میں ترجمہ کرنا بہت دشوار ہوتا ۔ علماء کو صحیح اور معتبر ترجمہ کرنے کے لئے متعدد تفاسیر کا مطالعہ کرنا پڑتا اور بہت ہی فکر کرنا ہوتا اور ان دقتوں کے بعد بھی شاید ایسا ترجمہ نہ کرسکتے جیسا اب کرسکتے ہیں ۔ پھر بھی کوئی اللہ کا بندہ ایسا ہوتا تو ہوتا کہ کمال عمل و تدین کے ساتھ اس مشقت کو گوارا کر کے اس خدمت کو کما ینبغی انجام دینے کے لئے موفق ہوتا ۔ حضرت شاہ ولی اللہ (رح) کو دیکھئے کہ اس بےنظیر علمی و عملی کمالات پر جو انہوں نے اپنے اوپر حق سبحانہ تعالیٰ کے انعامات متعدد رسالوں میں بیان فرمائے ان انعامات عظیمہ میں یہ ترجمہ مسمی بہ فتح الرحمٰن بھی داخل ہے اور عاجز نے اپنے بعض مرحوم بزرگواروں سے سنا ہے کہ مولانا شاہ عبدالقادر (رح) جب موضح القرآن لکھ چکے تو فارسی کا ایک شعر تھوڑا سا تصرف کرکے اس طرح پڑھتے تھے۔
روز قیامت ہر کسے با خویش دارد نامہ من نیز حاضری شوم تفسیر قرآں در بغل
اس سے ان حضرات مرحومین کا کمال علم و تدین تو معلوم ہوتا ہی ہے اسی کے ساتھ قرآن شریف کے صحیح تراجم کی عظمت اور ضرورت بھی ظاہر ہوتی ہے ۔ بالجملہ اگر اکابر مرحومین ہماری ضرورت اور منفعت کو احساس فرما کر پہلے ہی سے اس کا انتظام نہ کر جاتے تو آج اس کثرت اور سہولت کے ساتھ ہم کو تراجم کلام الٰہی اچھے سے اچھے ہرگز میسر نہ ہوتے اور کچھ عجب نہ تھا کہ جیسے خود ہندوستان میں بہت سی زبانیں اور دیگر ممالک میں مسلمانوں کی بڑی بڑی قومیں اس نعمت اور عزت سے خالی یا مثل خالی کے ہیں ہم بھی اسی نکبت میں مبتلا ہوتے ۔ فجزاہم اللہ عنا و عن جمیع المسلمین احسن الجزاء و افضل الجزاء و الحمد للہ اسی کے ساتھ یہ بات بھی دلنشین ہوگئی کہ ہرچند ترجمہ تحت لفظی میں بعض فائدے ہیں ، مگر ترجمہ سے جو اصلی فائدہ اور بڑی غرض یہ ہے کہ ہندوستانیوں کو قرآن شریف کا سمجھنا آسان ہوجائے یہ غرض جس قدر با محاورہ ترجمہ سے حاصل ہوسکتی ہے تحت لفظی ترجمہ سے کسی طرح ممکن نہیں ۔ چناچہ شاہ عبدالقادر رحمتہ اللہ جو بامحاورہ ترجمہ کے بانی اور امام ہیں انہوں نے بامحاورہ ترجمہ کو اختیار فرمانے کی یہی وجہ بیان کی ہے اور یہی وجہ ہے جو اسلاف ممدوحین کے بعد اس زمانہ میں جس نے اس میدان میں قدم رکھا اس نے جناب شاہ صاحب ممدوح کا اتباع کیا اور بامحاورہ ترجمہ کرنے کو اختیار کیا ۔ جس پر کسی کا شعر یاد آتا ہے ۔ شعر
ہر مرغ کہ پرز دبہ تمنائے اسیری اول بشگوں کرد طوافِ قفس ما
اور یہ امر بھی خوب معلوم ہوگیا کہ جیسے شاہ رفیع الدین رحمۃ اللہ کا یہ کمال ہے کہ تحت لفظی ترجمہ کا التزام کر کے ایک ضروری حد تک سہولت اور مطلب خیزی کو بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔ ایسے ہی حضرت مولانا عبدالقادر رحمتہ اللہ کا یہ کمال ہے کہ بامحاورہ ترجمہ کا پورا پابند ہو کر پھر نظم و ترتیب کلمات قرآنی اور معانی لغویہ کو اس حد تک نباہا ہے کہ زیادہ کہتے ہوئے تو ڈرتا ہوں مگر اتنا ضرور کہتا ہوں کہ ہم جیسوں کا ہرگز کام نہیں ۔ اگر ہم ان کے کلام کی خوبیوں کو اور ان اغراض اور اشارات کو جو ان کے سیدھے سیدھے مختصر الفاظ میں ہیں سمجھ جائیں تو ہم جیسوں کے فخر کے لئے یہ امر کافی ہے۔
اس کے بعد ہم کو ضرور ہوا کہ خاص طور پر حضرت شاہ مولانا عبد القادر رحمۃ اللہ کے ترجمہ بامحاورہ مسمیٰ بہ موضح القرآن کو دیکھ کر اول یہ سمجھیں کہ جناب شاہ صاحب ممدوح کا ترجمہ جس کا اپنی نوعیت میں اول و افضل ہونا جملہ اہل علم و فہم اور ارباب انصاف و دیانت کو مسلم ہے اس میں ایسے امور کیا ہیں جن کی وجہ سے ہم کو دوسرے کسی ترجمہ کی ضرورت ہو ۔ پھر یہ دیکھیں کہ جو تراجم جدیدہ اس زمانہ میں شائع ہوچکے ہیں ان سے ہماری وہ ضرورت پوری ہوگئی یا اب تک کچھ باقی ہے کہ جس کے پورا کرنے کیلئے اور ترجمہ کی ابھی تک حاجت چلی جاتی ہے ۔
امر اول کی بابت جہاں تک ہم نے ملاحظہ کیا اور دیگر حضرات نے بھی اس کی تصدیق فرمائی کل دو باتیں ایسی پائیں جسکی وجہ سے عام طور پر لوگ ترجمہ موصوف سے نفع اٹھانے سے قاصر ہیں ۔
اول بعض کلمات و محاورات کا اس زمانہ میں متروک یا قریب بمتروک ہوجانا ۔
دوسرے چونکہ حضرت شاہ صاحب مرحوم کلمات قرآنی کی موافقت اور مطابقت کا خیال زیادہ فرماتے ہیں اور شرائط ترجمہ کی پابندی بہت کرتے ہیں ۔ اس لئے بعض مواقع میں بوجہ اختصار عبارت آج کل کی سہولت پسند طبائع کو مطلب سمجھنے میں بہت دقت معلوم ہوتی ہے ۔
باقی رہا امر ثانی ، تو یہ بات تو سب جانے ہیں کہ اس زمانہ میں اردو بامحاورہ طرز پر بکثرت تراجم شائع ہوچکے ہیں ۔ اس ان میں بالیقین بعض ایسے تراجم بھی ہیں جو علمائے معتبر اہل علم و دیانت کی لوجہ اللہ سعی کا نتیجہ ہے ، اور بعض بعض کو ہم نے بھی تفصیلی نظر سے دیکھا ہے ۔ ہمارے نزدیک وہ تراجم بیشک ہماری اس حاجت کے پورا کرنے کے لئے کافی ہیں جو اس زمانہ میں حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ کے بینظیر ترجمہ میں اہل زمانہ کو پیش آرہی تھی ۔ جزاہم اللہ سبحانہ ، عنا و عن جمیع مسلمی الہند خیراً ۔ اور ان اغلاط و مفاسد سے بچانے کے لئے بھی مفید ہیں جو بعض آزاد خیال صاحبوں کے تراجم میں موجود ہیں ۔
اس لئے امر ثانی کی بابت اس عاجز کی یہ رائے کہ وہ نزاکت و لطافت اور وہ ہر امر کی رعایت جو حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ کے ترجمہ کے امتیازات اور خصوصیات میں شمار ہوتی ہیں ان کا تو ذکر نہیں ۔ باقی وہ امر جو ترجمہ سے مقصود اصلی اور غرض ضروری ہے یعنی کلام الٰہی جل جلالہ کا صحیح مطلب سلف صالحین کے ارشادات کے موافق سہولت کے ساتھ مسلمانانِ ہند کی سمجھ میں آسکے ۔ اس امر کے لئے تراجم جدیدہ جو اہل علم و دیانت کی توجہ سے شائع ہوچکے ہیں وہ بالکل کافی اور وافی ہیں ۔ ہم کو کسی جدید ترجمہ کی اس وقت حاجت نہیں رہی شَکَر اللہ تعالیٰ مَسَاعِیھِم ہم فخر و مسرت کے ساتھ حق سبحانہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے معتبر علماء کی حسن سعی سے تراجم مفیدہ قدیمہ اتنے شائع ہوچکے ہیں کہ ایسے اور اتنے تراجم ہم کو کسی عجمی زبان میں نظر نہیں آتے ۔ ذٰلک من فضل اللہ علینا۔
اب اس کے بعد یہ بات تو بحمد اللہ ہم کو خوب محقق اور منقح ہوگئی کہ تراجم موجودہ صحیحہ معتبرہ کے ہوتے ہمارا جدید ترجمہ کرنا لہو لگا کر شہیدوں میں شامل ہونا ہے جس سے نہ مسلمانوں کو کوئی نفع معتبر پہنچ سکتا ہے نہ ہم کو ۔ بلکہ جب ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمارا جدید ترجمہ کرنا گویا زبان حال سے یہ کہنا ہے کہ تراجم موجودہ میں کوئی خلل ہے جس کا تدارک کیا جاتا ہے یا ہمارے ترجمہ میں کوئی خوبی اور منفعت زاید ہے جس کی وجہ سے جدید ترجمہ کی حاجت ہوئی تو ہم کو جدید ترجمہ کرنا فضول سے بڑھ کر نہایت مذموم اور مکروہ تک نظر آتا ہے ۔ نَعُوۡذُ بِاللہِ مِنۡ شُرُوۡرِ اَنفُسِنَا ۔
خیر یہ بات تو خوب دلنشیں ہوگئی اور ظاہر ہے کہ اس کا مقتضے یہ تھا کہ ترجمہ کلام الٰہی کے متعلق اب ہم کچھ ارادہ نہ کرتے مگر اس چھان بین اور دیکھ بھال میں تقدیر الٰہی سے یہ بات دل میں جم گئی کہ حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ کا افضل و مقبول و مفید ترجمہ رفتہ رفتہ تقویم پارینہ نہ ہوجائے ۔ یہ کس قدر ناقدردانی اور بدقسمتی بلکہ کفرانِ نعمت ہے اور وہ بھی سرسری عذر کی وجہ سے اور عذر بھی وہ جس میں ترجمہ کا کوئی قصور نہیں ۔ اگر قصور ہے تو لوگوں کی طلب کا قصور ہے ۔ اگر دیکھنے والے غور سے دیکھیں اور جو غور کے بعد بھی سمجھ میں نہ آئے اس کو جاننے والوں سے دریافت کریں تو پھر سب کام سہل ہوجائے چناچہ حضرت ممدوح نے خود شروع میں لکھ دیا ہے کہ قرآن شریف کے معنی بغیر سند کے معتبر نہیں اور بغیر استاد کے معلوم نہیں ہوتے ۔ علاوہ ازیں عوام کو یہ دشواری تو سب ترجموں میں پیش آتی ہے ۔ حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ کے ترجمہ میں کچھ زیادہ سہی۔
اس لئے اس ننگ خلائق کو یہ خیال ہوا کہ حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ ممدوح کے مبارک مفید ترجمہ میں لوگوں کو جو کل و خلجان ہیں یعنی الفاظ و محاورات کا متروک ہوجانا ۔ دوسرے بعض بعض مواقع میں ترجمہ کے الفاظ کا مختصر ہونا ۔ جو اصل میں تو ترجمہ کی خوبی تھی مگر ابنائے زمانہ کی سہولت پسندی اور مذاق طبیعت کی بدولت اب یہاں تک نوبت آ گئی کہ جس سے ایسے مفید و قابل قدر ترجمہ کے متروک ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔ سو اگر غور و احتیاط کے ساتھ ان الفاظ متروکہ کی جگہ الفاظ مستعملہ لے لئے جائیں اور اختصار و اجمال کے موقعوں کو تدبر کے ساتھ کوئی لفظ مختصر زائد کر کے کچھ کھول دیا جائے تو پھر انشاء اللہ حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ کا یہ صدقہ فاضلہ بھی جاری رہ سکتا ہے اور مسلمانان ہند بھی اس کے فوائد مخصوصہ سے خالی نہ رہ جائیں گے ۔ اس مضمون کو سوچ سمجھ کر جو اپنے مکرمین مخلصین کی خدمت میں پیش کیا تو ان حضرات نے بھی اس عاجز کی رائے سے اتفاق ظاہر فرمایا ۔ اور یہی بات دل نشیں ہوگئی کہ مستقل ترجمہ سے یہ امر زیادہ مناسب اور مفید ہے کہ موضح قرآن میں جو شکایت پیدا ہوگئی ہے ۔ اس کے رفع کرنے کی کوشش کی جائے ۔ جب یہاں تک نوبت پہنچ چکی تو یہ عاجز بنام خدا اس خدمت کے انجام دینے لے لئے تیار ہو بیٹھا گویا دو شالہ میں کمبل سے جگہ جگہ رفو کرنے کا ارادہ کردیا ۔ جب ایک ثلث قرآن کا ترجمہ کرچکا تو بوجہ بعض عوارض ایسا طول طویل حرج پیش آیا کہ ترجمہ کی تکمیل کی توقع بھی دشوار ہوگئی مگر بتوفیق الٰہی عین ایام حرج میں اتنا اطمینان نصیب ہوگیا کہ ترجمہ موصوف باطمینان ١٣٣٦ ء میں پورا کرلیا ۔ اِنَّ رَبِّیۡ لَطِیفٌ لِّمَا یَشَآءُ وَ الحَمدُ لِلّٰہِ ۔
اب حق تعالیٰ کو منظور ہے تو انہی احباب مکرمین کی خدمت میں اس ترجمہ کو پیش کر کے تفصیلی نظر کی درخواست کریں گے ۔ اگر ہماری یہ پیوندکاری ان حضرات کے نزدیک مفید و مناسب سمجھی گئی تو انشاء اللہ شائع بھی ہوجائے گی ورنہ مجبوراً جہاں ہے وہیں رہے گا ۔ شعر
گو نالہ نار سا ہو نہ ہو آہ میں اثر میں نے تو درگزر نہ کی جو مجھ سے ہوسکا
اب اس کے بعد مناسب ہے کہ حضرت شاہ صاحب (رح) کے اصل ترجمہ کی بابت اور نیز اپنی ترمیم کے متعلق چند ضروری مفید باتیں عرض کردی جائیں جن سے دیکھنے والوں کو بالاجمال دونوں ترجموں کی حالت اور کیفیت بھی معلوم ہوجائے اور بعض شبہات جن کے پیش آنے کا کھٹکا ہوتا ہے وہ بھی دفع ہوجائیں ۔
سو حضرت شاہ صاحب (رح) نے شروع میں اپنے ترجمہ کی نسبت اتنا مضمون تو خود فرما دیا ہے کہ ہندی اور عربی زبان کا محاورہ ہرگز موافق نہیں ۔ اس لئے اگر قرآن شریف کی ترتیب کے موافق ہر ہر لفظ کا جدا جدا ترجمہ کیا جائے یعنی تحت لفظی تو ہندیوں کی سمجھ میں آنا دشوار ہو ۔ اس لئے ہم نے مجموعہ آیت کی پابندی کی ہے ، ہر ہر لفظ کی پابندی نہیں کی یعنی ہندی محاورہ کے موافق ترجمہ کیا ہے ، تحت لفظی نہیں کیا ۔
یہ حضرت ممدوح کے ارشاد کا خلاصہ ہے ۔ مگر اس میں اجمال بہت ہے ۔ اس ارشاد سے یہ تو معلوم ہوگیا کہ حضرت ممدوح اپنے ترجمہ میں ہر ہر لفظ کی پابندینی کریں گے ہاں ا ایت کی پابندی ضروری ہے مگر یہ معلوم نہیں ہوا کہ اس عدم پابندی کی کیا حد ہے اور کہاں تک اس عدم پابندی کو حضرت ممدوح نے اپنے ترجمہ میں اختیار اور استعمال فرمایا ہے اور کتنی تقدیم و تاخیر کو جائز رکھا ہے یعنی بقدر ضرورت و حاجت کسی لفظ کو آگے یا پیچھے کرلیا ہے یا صرف آیت کے احاطہ میں رہ کر پھر کسی تقدیم و تاخیر کی پرواہ نہیں کی تھوڑی ہو یا زیادہ ضروری ہو یا غیر ضروری ایک تغیر ہو یا متعدد ۔ اس کے سوا حضرت شاہ صاحب (رح) نے یہ امر اجمالا بھی نہیں بیان کیا کہ ہم نے اپنے ترجمہ میں کس کس امر کا خیال رکھا ہے اور اس میں کیا خوبیاں اور فوائد ہیں ۔ سو احقر ان دونوں باتوں کو مفید سمجھ کر انکی نسبت کچھ کچھ عرض کرنا چاہتا ہے ۔
سو یہ بات تو سب پر ظاہر ہے کہ احقر اس کے متعلق جو کچھ بھی عرض کرے گا وہ موضح قرآن ہی کی عبارت سے مستنبط ہوگا ۔ اس کے سوا ہمارے لئے اور کیا امر ذریعہ علم ہوسکتا ہے ۔ بعینہ جیسا کہ حضرات علمائے کرام نے امیر المؤمنین فی الحدیث امام بخاری (رح) کی خود کتاب صحیح بخاری سے استنباط کر کے ان کی شروط و قیود و اغراض کو بیان فرما دیا ہے ۔
سو امر اول کی نسبت یہ عرض ہے کہ حضرت شاہ صاحب (رح) ترتیب قرآنی کا بہت خیال رکھتے ہیں اور اصل اور ترجمہ کی مطابقت میں بہت زیادہ سعی فرماتے ہیں مگر چونکہ ترجمہ بامحاورہ کا التزام کیا ہے اس لئے طضرورت توضیح و تسہیل بعض مواقع میں تقدیم و تاخیر لازم ہے ۔ مگر جیسا کہ آٹے میں نمک ۔ یہ نہیں کہ آخر کا ترجمہ اول اور اول کا آخر ہوجائے ۔ الغرض فصلِ بعید سے احتراز رکھتے ہیں ۔ الا ما شاء اللہ کسی خاص ضرورت کے وقت میں دو تین کلموں کا فصل ہوجائے اور وہ بھی النادر کالمعدوم ۔ دیکھئے عربی زبان میں مضاف کو مقدم ذکر کرتے ہیں ۔ اور اردو کا محاورہ یہ ہے کہ مضاف الیہ کو مقدم کرتے ہیں ۔ وہ ” غلام زید ” کہتے ہیں ۔ تو ان کے محاورہ میں ” زید کا غلام ” کہیں گے ۔ تو ترتیب تو بدل گئی مگر دونوں کلمے متصل ہی رہے فاصلہ اور فرق کچھ نہیں ہوا ۔ اس لئے حاجت کے وقت یہ تغیر کچھ تغیر نہیں سمجھا جاتا ۔ اس قسم کی مثالیں شاہ صاحب کے ترجمہ میں کثرت سے ملیں گی ۔ مثلا عَلٰی قُلُوۡبِھِمۡ وَ عَلٰی سَمعِھِمۡ وَ عَلٰٓی اَبصَارِھِمۡ کا ترجمہ بامحاورہ کریں گے تو ” ان کے دل پر اور ان کے کان پر اور ان کی آنکھوں پر ” کیا جائے گا اور ترجمہ تحت لفظی میں ” اوپر دلوں ان کے اور اوپر کانوں ان کے کے اور اوپر آنکھوں ان کی کے ” کہنا پڑے گا۔ مگر سب جانتے ہیں کہ ایسے اختلاف جتنے بھی ہوں ان میں کوئی حرج نہیں ، بلکہ ضروری ہیں ۔ بامحاورہ ترجمہ کرنے والے کو اس سے مفر نہیں لیکن حضرت شاہ صاحب (رح) کی احتیاط قابل تحسین اور لائق قدر ہے کہ اس پر بھی ہر جگہ مضاف الیہ کو مقدم نہیں کرتے ، بلکہ جہاں ترجمہ میں ذرا گنجائش مل جاتی ہے وہاں اتنے قلیل تغیر کو بھی پسند نہیں کرتے ترتیب قرآنی ہی کو اختیار فرماتے ہیں ۔ دیکھو ” اَلحَمدُ لِلّٰہَ رَبِّ العٰلَمِینَ ” میں چونکہ ” رَبِّ العٰلَمِینَ ” مضاف مضاف الیہ مل کر صفت واقع ہوئے ہیں ۔ اس کے ترجمہ میں یہ گنجائش نکل آئی کہ ترجمہ محاورہ کے خلاف بھی نہ ہو اور کلام الٰہی کی ترتیب بھی باقی رہے ۔ اس لئے ” رَبِّ العٰلَمِینَ ” کا ترجمہ اصلی ترتیب پر رکھا اور ” مَالِکِ یَوۡمِ الدِّین ” بھی صفت واقع ہوا ہے مگر اس میں دو اضافتیں مجتمع ہیں ۔
اول اضافت میں اصلی ترتیب باقی رکھنے کی گنجائش ہے ۔ دوسری اضافت میں نہیں ۔ اس لئے ترجمہ میں ” مَالِکِ ” کا ترجمہ اصل کے موافق مقدم رکھا ۔ اور ” یَوم ” کے ترجمہ کا محاورہ اردو کے موافق ” دِین ” سے مؤخر کردیا ۔ چناچہ سب پر ظاہر ہے اس میں کسی کو تردد نہیں صرف توضیح اور تسہیل کی غرض سے ہم نے عرض کردیا لیکن بعض مقامات ایسے بھی ہیں کہ وہاں محاورہ اردو کے ساتھ ترتیب قرآنی کا لحاظ رکھنا دشوار ہے حضرت شاہ صاحب (رح) ان مقامات میں بھی اپنی غائر اور باریک بین نظر سے ایسا اسلوب اختیار فرماتے ہیں ۔ کہ محاورہ کی پابندی کے ساتھ بھی باقی رہے ، یا فرق آئے تو خفیف و لطیف ۔
بعینہ یہی حال ہے فعل اور فاعل اور مفعول اور جمیع متعلقات فعل کا اور صفت موصوف ، حال تمیز وغیرہ کا کہ اکثر مواقع میں ترتیب کی موافقت فرماتے ہیں اور بہت سے مواقع میں اسی تغیر لطیف مزکورۂ بالا سے کام لیتے ہیں ۔
اور سنئے حروف روابط جن کو حروف جر بھی کہتے ہیں ۔ جیسے ل، ب، علٰی، الٰی، من، فی بہت کثرت سے مستعمل ہیں ۔ مگر کلام عرب میں یہ حروف ہمیشہ اپنے معمول پر مقدم ہوتے ہیں ۔ اور محاورہ میں علی العموم مؤخر بولے جاتے ہیں ۔ مگر شاذ و نادر۔ لیکن ان میں بعض تو ایسے ہیں کہ ان کا مؤخر ہونا ضروری ہے ۔ ہماری زبان میں ان کو مقدم لانے کو کوئی صورت ہی نہیں جیسے من اور عن سب کو معلوم ہے کہ مِمَّا رَزَقنٰھُمۡ کے ترجمہ میں اردو زبان کے اندر ممکن نہیں کہ من کا ترجمہ مقدم ہو سکے اور ترتیب قرآنی کی موافقت کی جاسکے ۔ ایسے ہی لَا تَجزِیۡ نَفسٌ عَنۡ نَّفسٍ کے ترجمہ میں کوئی صورت نہیں کہ عن کا ترجمہ نَفسٍ کے ترجمہ سے مقدم ہو سکے اسی وجہ سے تحت لفظی ترجمہ میں بھی یہ تغیر گوارا کرنا ہوتا ہے اور اس میں کسی کو تامل نہیں ہوسکتا ۔ اور بعض ایسے ہیں کہ ان کو مقدم کرنا تو درست ہے مگر محاورہ کے خلاف ہے ۔ سو تحت لفظی ترجمہ میں ان کو نظم قرآنی کے موافق مقدم لاسکتے ہیں ۔ مگر بامحاورہ ترجمہ کے لئے ان کو بھی مؤخر کرنا ضرور ہوگا ۔ جیسے علٰی ۔ الٰی وغیرہ حروف مذکورہ ۔ دیکھئے خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوۡبِھِمۡ کے تحت لفظی ترجمہ میں ” مہر کردی اللہ نے اوپر دلوں ان کے کے ” کہنا مناسب ہوگا اور بامحاورہ ترجمہ میں ” مہر کردی اللہ نے ان کے دلوں پر ” کہنا ٹھیک سمجھا جائے گا۔ پہلی صورت میں لفظ علٰی ، اپنی اصلی ترتیب پر رہا ۔ دوسری صورت میں تھوڑا سا بقدر ضرورت اپنی جگہ سے ہٹ گیا اسی پر دیگر حروف کو قیاس فرما لیجئے۔ سو اول تو یہ حروف فی نفسہ غیر مستقل اور دوسروں کے تابع ہیں ان کا تقدم تاخر چنداں قابل اعتبار نہیں ۔ دوسرے بےوجہ نہیں بلکہ ضرورت اور حاجت اور نفع کی وجہ سے کرنا ہوا ۔ تیسرے اتنا لطیف و خفیف کہ ترجمہ لفظی میں بھی بعض مواقع میں قابل قبول اور ضروری سمجھا جاتا ہے ۔ اس سب کے بعد پھر وہی بات ہے جو پہلے عرض کرچکا ہوں ۔ یعنی جہاں کچھ گنجائش نکل آتی ہے ۔ وہاں حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمۃ اس خفیف قابل قبول تغیر کو بھی چھوڑ کر اصلی ترتیب کو قائم رکھتے ہیں اور ایسا ترجمہ کرتے ہیں جو ترتیب قرآنی کی پابندی کے ساتھ محاورہ کے بھی مخالف نہ ہونے پائے اس کی مثالیں حروف مذکورہ کے متعلق جگہ جگہ موجود ہیں مثلا ” اِلَّا عَلَی الخَاشِعِین ” کا ترجمہ یہ فرمایا ہے ” مگر انہی پر جن کے دل پگھلے ہیں ” یعنی اللہ سے ڈرتے ہیں اور عاجزی کرتے ہیں ۔ دیکھ لیجئے لفظ علٰی کے ترجمہ کو مقدم رکھا خاشعین پر اور محاورہ کے مخالف بھی نہیں ہوا۔
الحاصل حضرت شاہ صاحب (رح) جگہ جگہ ترتیب میں تصرف کرتے ہیں مگر جچا تلا بقدر ضرورت اور عند الحاجت غور اور احتیاط کے ساتھ جسکی وجہ سے حضرت ممدوح علیہ الرحمۃ کا ترجمہ جیسے استعمال محاورات میں بینظیر سمجھا جاتا ہے ویسا ہی باوجود پابندی محاورہ قلت تغیر اور خفت تبدل میں بھی بےمثل ہے ۔ فللّٰہ درہ ثم للہ درہ۔ اس کے سوا بعض بعض تصرفات خفیفہ مفیدہ اور بھی کر جاتے ہیں ۔ مثلا ترجمہ میں کوئی لفظ مختصر بڑھا دیتے ہیں ۔ جس سے مطلب واضح ہوجائے یا مراد خداوندی معین ہوجائے سو یہ امر ایسا ہے کہ ترجمہ تحت لفظی میں بھی اس کی نظائر موجود ہیں ۔ ایسا ہی ترجمہ میں بعض الفاظ کو چھوڑ بھی جاتے ہیں ۔ مثلا بعض مواقع میں اِنَّ کا ترجمہ نہیں کرتے ۔ یَآ اَبَتِ کے ترجمہ میں ” اے میرے باپ ” نہیں کہتے صرف ” اے باپ ” پر قناعت کر جاتے ہیں یا بُنَیَّ کا ترجمہ ” اے میرے چھوٹے بیٹے ” کی جگہ فقط ” اے بیٹے ” فرمایا ہے ۔ ایسا ہی یَا رَبِّ کا ترجمہ ” اے رب ” متعدد مواقع میں اختیار فرمایا ہے ۔ سو اس قسم کے تصرفات میں کچھ حرج نہیں ترجمہ لفظی تک میں ان کی گنجائش ہے ۔
اب باقی رہی دوسری بات کہ حضرت شاہ صاحب (رح) نے اپنے ترجمہ میں کن کن امور کا خیال رکھا ہے اور اس میں کیا کیا فائدے ہیں ۔ سو یہ بات تو ظاہر نظر آتی ہے کہ حضرت ممدوح عامۃ چند باتوں کا بہت لحاظ رکھتے ہیں ۔ ترجمہ میں اختصار و سہولت اور الفاظ قرآنی کی لفظی اور معنوی موافقت اور صرف لغوی معنی پر بس نہیں بلکہ معنی مرادی اور غرض اصلی کا ہر موقع میں بہت لحاظ رکھتے ہیں اور ترجمہ میں کبھی ایسا لفظ لاتے ہیں جس کی وجہ سے اگر کسی قسم کا اجمال اور اشکال ہو تو زائل ہوجاتا ہے ۔ بسا اوقات ایک لفظ کا ترجمہ ایک جگہ کچھ فرماتے ہیں دوسری جگہ کچھ اور حالانکہ معنی لغوی اس لفظ کے ایک ہی ہیں مگر ہر مقام کے مناسب جدے جدے عنوان سے بیان فرماتے ہیں جس سے قرآن کی غرض اور مراد سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے ۔ اسی سہولت اور وضاحت کی رعایت سے کبھی مضمون ایجابی کو عنوان سلبی میں ادا کرتے ہیں ۔ اور اکثر مواقع میں نفی اور استثناء کا جدا جدا ترجمہ نہیں کرتے بلکہ حصر جو اس سے مقصود ہے اس کو مختصر ہلکے لفظوں میں محاورہ کے موافق بیان کر جاتے ہیں ۔ حال تمیز بدل وغیرہ حتی کہ مفعول مطلق کے عنوانات کی رعایت رکھتے ہیں اور خوبی یہ ہے کہ اردو کے محاورہ کے موافق بالجملہ الفاظ اور معانی دونوں کے متعلق بوجوہ متعددہ بہت غور اور رعایت سے کام لیا گیا ہے اور مطالب و مقاصد کی تسہیل اور توضیح میں پورے خوض اور احتیاط کو ملحوظ رکھا ہے ۔ ہم نے بغرض تنبیہ یہ چند باتیں مختصر طور سے عرض کردی ہیں اہل فہم توجہ فرمائیں گے تو انشاء اللہ ان کو ہماری عرض کی صداقت جگہ جگہ برابر ملے گی ہم کو کسی طول کی حاجت نہیں اور حاشا و کلا ہمارا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ فوائد مزکورہ کا اور کسی نے خیال نہیں فرمایا ۔ فضلائے معتبرین مشہورین وغیرہ علماء کے تراجم میں ہر ایک نے اس قسم کے فوائد کا اپنی اپنی فہم اور رائے اور مصلحت اور گنجائش کے موافق ضرور خیال فرمایا ہے مگر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شاہ صاحب (رح) ممدوح نے چونکہ ہر موقع پر ان چھوٹے بڑے فوائد متعددہ کی طرف پوری توجہ فرمائی ہے ۔ اور ترجمہ میں ہر موقع پر ان کا اہتمام رکھا ہے ۔ اس لئے کماً اور کیفاً دونوں طرح یہ امور موضح قرآن میں زائد ہیں جنکی وجہ سے ترجمہ موصوف جملہ تراجم میں ممتاز اور مفید تر نظر آتا ہے ۔ اور بنظر فہم و انصاف اس کا مستحق ہے کہ سہل ممتنع کے ساتھ ملقب ہو ۔ یہ حضرت ممدوح کا کمال ہے کہ ہر موقع پر جملہ امور پیش نظر رہتے ہیں اور ترجمہ میں حساب حاجت انکی رعایت کرتے ہیں اور اسی کے مطابق الفاظ بھی ان کو بسہولت مل جاتے ہیں ۔ گویا محاورات و لغات اردو بھی سب سامنے رہتے ہیں جس کو مناسب سمجھا بےتکلف لے لیا اور اس پر ترجمہ اپنے محدود احاطہ سے ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ فَبَارَکَ اللہُ فِیۡ حَسَنَاتِہ وَ اَفَاضَ عَلَینَا مِنۡ م بَرَکَاتِہ یہ بات کس قدر قابل قدر اور مفید ہے کہ حضرات مفسرین اور شراح حدیث کے مبسوط ارشادات کا خلاصہ بسہولت ہر درجہ کے مسلمانوں کو ایک لفظ سے سمجھ میں آسکے بلکہ بعض مواقع میں تو حضرت شاہ صاحب (رح) کا ایک دو لفظ وہ کام دیتا ہے کہ مبسوط ارشادات سے احق بالقبول معلوم ہوتا ہے ۔ اِنَّ فِی ذٰلِکَ لَاٰیَاتٍ لّلعٰلَمِینَ اس موقع پر ارشاد خداوندی فَفَھَّمنٰھا سُلَیمٰنَ وَ کُلاًّ اٰتَینَا حُکماً وَّ عِلماً کا نقشہ اور نمونہ ناخواستہ سامنے آگیا ۔ دیکھئے حضرت سلیمان (علیہ السلام) لڑکے تھے مگر حق سبحانہ نے اپنی رحمت سے ان کو وہ بات سمجھا دی کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے بھی تسلیم فرما لیا اور اپنے حکم کو واپس کرلیا اور اس سے کسی کے علم و فہم میں کوئی نقصان اور اعتراض بھی نہ ہوا۔ شعر
ایں سعادت بزور بازو نیست تانہ بخشد خدائے بخشندہ
حق تعالیٰ کے غیر متناہی خزانے ہیں جس کو جس میں سے چاہتے ہیں حصہ معین عنایت فرما دیتے ہیں ۔ وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا عِندَنَا خَزَائِنُہ وَ مَا نُنَزِّلُہٓ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعلُوۡمٍ اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جیسے یہ چند فوائد عرض کئے ہیں ایسے ہی چند مثالیں بھی کسی موقع سے عرض کردی جائیں ۔ جن سے ہمارے معروضات کی تصدیق ہوجائے اور ناظرین کے لئے تسکین اور اطمینان کا باعث ہو ۔ سو اول ہی سے لیجئے ۔ دیکھئے ” بِسمِ اللہِ ” کا ترجمہ محاورہ کے موافق کیا جس میں توضیح اور اختصار دونوں کی بقدر مناسب رعایت ہے اس سے بہتر اور خوبصورت ترجمہ اردو میں سمجھ میں نہیں آتا ۔ اور رَحمٰن اور رَحِیم جو مبالغہ کے صیغے ہیں ان کے مبالغہ کو بھی ظاہر فرما دیا اور لطیف اشارہ دونوں کے فرق مراتب کی طرف بھی کر گئے ۔ جتنے تراجم سابقہ ہیں ان میں مبالغہ سے تعرض نہیں فرمایا ۔ اس کے بعد سورة فاتحہ میں بھی رَحمٰن اور رَحِیم کا ترجمہ ایسا ہی کیا گیا ۔ یَومِ الّدِین کا ترجمہ جملہ حضرات نے ” روز جزا ” یا ” دن جزا کا ” فرمایا ہے ۔ مگر حضرت شاہ صاحب (رح) نے صاف لکھ دیا ہے کہ میں نے عوام کی زبان میں ترجمہ کیا ہے اور عوام کا کلام میں جزا کا لفظ شائع اور مستعمل نہیں ۔ دوسرے اہل لغت اور حضرات مفسرین نے دین کے معنی جزا اور حساب دونوں فرمائے ہیں ۔ ان وجوہ سے غالبا حضرت ممدوح نے جزا کے بدلے ” انصاف ” کا لفظ اختیار فرمایا کہ عوام میں بھی شائع ہے اور اس ایک لفظ میں جزا اور حساب دونوں آ گئے ” اِھدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیمَ ” جملہ حضرات ” ہدایت ” کا ترجمہ کبھی تو لفظ ” ہدایت ” ہی سے کر جاتے ہیں ۔ اس لئے کہ لفظ ” ہدایت ” فارسی اردو میں برابر مستعمل ہے اور کبھی اپنی زبان میں ترجمہ کرتے ہیں تو ” ہدایت ” کا ترجمہ ” رستہ دکھانے ” اور ” راہنمائی ” کے ساتھ کرتے ہیں ۔ مگر حضرت ممدوح علی العموم ہدایت کا ترجمہ اپنی ہی زبان میں فرماتے ہیں ۔ الا ما شاء اللہ ۔ لیکن ہر موقع پر اس کا بھی لحاظ رکھتے ہیں کہ ” ہدایت ” کے کون سے معنی اس موقع کے مناسب ہیں کیونکہ ” ہدایت ” کے لغت عرب میں دو معنی ہیں۔ ایک ” صرف راستہ دکھلا دینا ” دوسرے ” مقصود تک پہنچا دینا ” اول کو ” اراءۃ ” اور دوسرے کو ” ایصال ” کہتے ہیں ۔ اس لئے اوروں نے ” اِھدِنَا ” کا ترجمہ ” دکھا ہم ” کو فرمایا ہے اور شاہ صاحب ” چلا ہم کو ” فرماتے ہیں جس سے ” ایصال ” کی طرف اشارہ کرنا مفہوم ہوتا ہے۔ اسی طرح ھُدًی لِّلمُتَّقِینَ میں اور حضرات نے ” ھدی ” کے ترجمہ میں ” رہنما ” یا ” راہ دکھاتی ہے ” فرمایا ہے ۔ اور حضرت ممدوح نے ” راہ بتلاتی ہے ” فرمایا چونکہ ” اھدنا ” میں ” ہدایت ” حق تعالیٰ کی صفت ہے تو وہاں ” چلانے ” کا لفظ لائے ہیں اور اس موقع میں ہدایت قرآن کی صفت ہے تو اس لئے ” راہ بتانے ” کا لفظ بیان فرمایا۔ ورنہ دونوں جگہ مقصود ” ایصال ” کی طرف اشارہ کرنا معلوم ہوتا ہے ۔ ف (رح) ما ادق نظرہ وارق الفاظہ۔ ” متقین ” میں تقویٰ کا ترجمہ سب حضرات مرحومین نے ” پرہیزگاری ” فرمایا ہے جو تفاسیر کثیرہ کے موافق ہے پھر حضرات مفسرین نے اس پر شبہ کیا کہ ہدایت کے محتاج گمراہ ہیں نہ متقی۔ اس لئے ھدًی لِّلضَّآلِّینَ فرمانا چاہیے تھا۔ بعض حضرات نے متقین کے معنی صَآئِرِینَ اِلَی التقویٰ کے لے کر جواب دیا ۔ بعض نے دیگر جوابات دے کر شبہ کا قلع قمع کیا حضرت شاہ صاحب (رح) کی طبع لطیف اور باریک بین نظر اس طرف گئی کہ ” تقویٰ ” کا ترجمہ ” ڈر اور خوف ” کے ساتھ کرنا پسند کیا۔ جو ” تقویٰ ” کے اصلی اور لغوی معنی ہے اور ” متقین ” سے وہ لوگ مراد لئے جن کے دل میں اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے۔ اس لئے ھدی للمتقین کا ظاہر اور معروف ترجمہ ” یعنی راہ دکھاتی ہے پرہیزگاروں کو ” اس کو چھوڑ کر ” راہ بتلاتی ہے ڈر والوں کو ” اختیار فرمایا جس سے شبہ مذکورہ کے خطور کا موقع ہی نہ رہا جو کسی جواب کی حاجت ہو اور اگر ” ہدایت ” سے ایصال مراد لیں جیسا کہ ترجمہ میں اس کی طرف اشارہ مفہوم ہوتا ہے۔ پھر تو شبہ کیا کسی وہمی کے توہم کی بھی گنجائش نہیں ۔ آگے دیکھئے ” یُؤمِنُونَ بِالغَیبِ ” کے ترجمہ میں اگر ” ایمان لاتے ہیں ساتھ غیب ” یا ” غیب ” پر کہا جائے تو بہت صحیح اور ظاہر کے موافق ترجمہ ہے اور لفظ ” ایمان ” اور ” غیب ” دونوں ایسے مشہور ہیں کہ دوسرے لفظوں سے ان کے ترجمے کرنے کی ضرورت نہیں لیکن لفظ ” ایمان ” اصطلاح شرع میں دو معنی میں مستعمل ہوتا ہے ۔ ایک نفس تصدیق اور یقین جو ضروریات دین کے ساتھ متعلق ہو جس کو حقیقت ایمانی سے بھی تعبیر کرتے ہیں اور معنی لغوی کے بالکل مطابق ہے دوسرے تصدیق اور اعمال ایمانی کا مجموعہ جس کو ایمان کامل بھی کہتے ہیں ۔ سو اول تو حضرت شاہ صاحب (رح) کی عام عادت ہے کہ حتی الوسع ترجمہ میں اردو کے لفظ کو اخیتار فرماتے ہیں ۔ دوسرے لفظ ایمان جب دو معنوں میں مستعمل ہے تو حضرت ممدوح کے اصول کے موافق ضرور ہوا کہ ترجمہ میں ایسا لفظ لائیں کہ ایمان کے جو معنی اس جگہ مراد ہیں ان کی تعیین ہوجائے اور دوسرا احتمال نہ رہے ۔ علی ہذا لفظ ” غیب ” میں اجمال ہے ۔ معلوم نہیں کس چیز سے غائب ہونا مراد ہے ۔ ان وجوہ سے وہ صحیح اور ظاہر ترجمہ جس کا پہلے ذکر ہوچکا اس کو چھوڑ کر یہ ترجمہ اختیار فرمایا ۔ ” یقین کرتے ہیں بن دیکھے ” جس سے یہ معلوم ہوگیا کہ آیت میں ایمان کے اول معنی مراد ہیں نہ دوسرے ۔ اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ غیب کے یہ معنی ہیں کہ جن چیزوں کو انہوں نے نہیں دیکھا اور انکے علم و ادراک سے غائب ہیں ۔ جیسے دوزخ ، بہشت پل صراط وزن اعمال ، عذاب قبر ، فرشتے جنات سو وہ لوگ ان سب چیزوں کا اللہ اور رسول کے فرمانے سے یقین کرتے ہیں ۔ معہزا حضرات مفسرین رحمہم اللہ نے جو ” بِالغَیبِ ” میں چند احتمال ذکر فرمائے ہیں ان میں سے ایک معنی جو ظاہر اور راجح ہیں اس ترجمہ سے وہ بھی متعین ہوگئے جیسا کہ کتب تفسیر میں مذکور ہے۔
تنبیہ : ایمان کا ذکر قرآن شریف میں ماضی ، مضارع ، امر ، اسم فاعل مختلف صیغوں کے ضمن میں بہت کثرت سے موجود ہے ۔ سو حضرات مترجمین تو اکثر مواقع میں اس کا حسب ظاہر ترجمہ ” ایمان ” یا ” اسلام ” سے فرما جاتے ہیں اور حضرت ممدوح ” ایمان ” اسلام یقین ماننا جو لفظ جس موقع کے مناسب اور مفید سمجھتے ہیں ۔ اس کو اختیار کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے ترجمہ کے متعلق کار آمد باتیں معلوم ہوتی ہیں ۔ جیسا کہ ” یُؤمِنُونَ بِالغَیبِ ” کے ترجمہ میں ابھی عرض کرچکا ہوں ۔ اور انہی چھوٹے چھوٹے فرقوں اور ہلکی ہلکی رعایتوں کی وجہ سے بعض مواقع میں بڑے بڑے شبہے بسہولت دفع ہوجاتے ہیں اور تحقیقی باتیں معلوم ہوجاتی ہیں۔ دیکھئے احادیث میں وارد ہے کہ جب آیۂ کریمہ اَلَّذِینَ اٰمَنُوا ولَم یَلبِسُوٓا اِیمَانَھُم بِظُلمٍ اُولٰٓئِکَ الخ نازل ہوئی تو حضرات صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو بہت شاق گزرا۔ آخر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا ۔ ” اَیُّنَا لَم یَظلِم نَفسَہ ” یعنی یارسول اللہ ہم میں ایسا کون ہے جس نے اپنے نفس پر ظلم یعنی گناہ نہ کیا ہو ۔ تو پھر اب تک سب عذاب الٰہی سے غیر مامون اور ہدایت سے محروم ہوگئے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لَیسَ ذٰلِکَ اِنَّمَا ھُو الشِّرک اَ لَم تَسمَعُوا قَولَ لُقمَانَ لِابنِہ یَابُنَیَّ لَاتُشرَک بِاللہِ اِنَّ الشِّرکَ لَظُلمٌ عَظِیم یعنی لَم یَلبَسُوا اِیمَانِھُم بِظُلمَ میں ظلم سے مراد شرک ہے مطلق گناہ نہیں۔ جو یہ دشواری پیش آئے۔ حضرات مفسرین اور شراح احادیث کے اقوال اس جواب کی تقریر میں مختلف ہوگئے ۔ جیسا کہ اہل علم کو معلوم ہے۔ سو ایک خلجان تو لَم یَلبِسُوا اِیمَانُھُم بِظُلم میں تھا ۔ جو حضرات صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو پیش آیا تھا ۔ دوسرا اختلاف خلجان مذکور کے جواب میں مفسرین وغیرہ علمائے کرام کو پیش آگیا کہ جواب کا مقصد اور اس کا ماخذ کیا ہے ۔ سو خلجان معروضہ اصحاب کرام تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد سے جاتا رہا مگر آپ کے ارشاد کے مقصد و ماخذ میں علماء کو جو اختلاف پیش آگیا وہ موجود ہے اس پر حضرات مترجمین نے تو ان لمبی لمبی بحثوں کو دیکھا کہ ترجمہ ان کو متحمل نہیں ہوسکتا اور نہ اس کے مناسب اس لئے ترجمہ میں اس قطع نظر کر کے ظاہر کے موافق صحیح ترجمہ فرما دیا اور لمبی بحثوں کے لئے دوسرا موقع ہے اور حضرت شاہ صاحب (رح) کی دقیق نظر نے دیکھا کہ جب ہم کو ترجمہ میں کوئی زیادتی اور طول کرنا نہیں پڑتا صرف ایک لفظ کی جگہ دوسرا ویسا ہی لفظ بول دینے سے سب امور طے ہوجاتے ہیں ۔ تو پھر اس میں کیوں کوتاہی کی جائے اور کام کی بات سے کیوں محروم رکھا جائے ۔ تو انہوں نے اپنی عادت کے موافق یہ کیا کہ ” اَلَّذِینَ اٰمَنُوا وَلَم یَلبِسُوٓا اِیمَانَھُم بِظُلم ” کے ترجمہ میں یہ الفاظ فرمائے ” جو لوگ یقین لائے اور ملائی نہیں اپنے یقین میں کچھ تقصیر ” جس سے معلوم ہوگیا کہ ایمان سے حقیقت ایمان یعنی تصدیق قلبی مراد ہے ۔ حسب معروضہ سابق جس کو ” ایمان بالمعنی الاول ” کہتے ہیں ۔ اہل فہم و انصاف کو تو بس یہی کافی ہے مگر اس پر اتنا اور کیا کہ ” ظلم ” کے ترجمہ میں لفظ ” تقصیر ” بیان فرمایا۔ جس سے اور بھی وضاحت اور تکمیل ہوگئی اب اس میں غور کرنے سے نہ آیت میں کوئی خلجان ہوتا ہے ۔ نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد میں اختلاف باقی رہتا ہے ۔ دو لفظوں میں ایسی تحقیق فرما دی کہ لمبی لمبی بحثوں کی ضرورت نہ رہی اور طرفہ یہ کہ تحقیق دو لفظی سب سے احق بالقبول معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ حضرات صحابہ کرام (رض) کے خلجان کا منشاء کیا تھا اور ارشاد نبوی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا منشاء کیا ہے اور ترجمہ میں جو لفظ ” کچھ ” داخل فرمایا ہے جو اور ترجموں میں نہیں وہ یہ صاف بتلاتا ہے کہ حضرت شاہ صاحب (رح) اقوال علماء کو پیش نظر رکھ کر جو بات محقق اور راجح ہے اس کو بیان فرمانا چاہتے ہیں یہاں تمثیلات کے ذیل میں یہ ذکر استطراداً آگیا اس سے زائد بسط کا موقع نہیں اور حضرات اہل علم خود بھی جانتے ہیں ۔ البتہ سورة انعام میں اس آیت کے متعلق حاشیہ پر کچھ بسط سے عرض کردیا جائے گا ۔ انشاء اللہ
اس کے بعد مِمَّا رَزَقنٰھُم کے ترجمہ میں من تبعیضیہ کا ترجمہ لفظ ” کچھ ” سے بیان فرما کر ممانعت اسراف کی طرف اشارہ کردیا جیسا کہ تفسیر بیضاوی وغیرہ میں مذکور ہے یُخَادِعُونَ اللہَ کے ترجمہ میں فرماتے ہیں ” دغا بازی کرتے ہیں اللہ سے ” جو نہایت صاف اور مناسب ترجمہ ہے ۔ اور کوئی خلجان اور وہم اس میں نہیں ہوسکتا ۔ عذاب الیم کے ترجمہ میں ” دکھ کی مار ” فرما کر اشارہ کردیا کہ فعیل بمعنی مفعول ہے جو استعمال مفرد اور راجح ہے اور محاورہ کے موافق بِمَا کَانُوا یَکذِبُونَ میں یَکذِبُونَ کا ترجمہ ظاہر کے خلاف ” جھوٹ کہتے تھے ” نہیں فرمایا جو سہل اور ظاہر کے موافق تھا سو اس کی وجہ انشاء اللہ یہی ہے کہ جھوٹ بولتے تھے ۔ بظاہر اس سے یہ سمجھ آتا ہے کہ ان لوگوں کا کاذب ہونا بیان کرنا مقصود ہے اور اس کی وجہ سے ان پر عذاب الیم ہوگا ۔ حالانکہ یہ بات نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ وہ لوگ اٰمَنَّا بِاللہِ وَ بِالیَومِ الاٰخِرِ جھوٹ کہا کرتے تھے ۔ یعنی منافق تھے اور عذاب الیم اس نفاق کے بدلے میں ہوگا ۔ فَلِلّٰہِ درہ ما الطف طبعہ اسلم ذوقہ واحد نظرہ ۔ اور سنئے مَایَشعُرُونَ اور لَایَشعُرُونَ جو ان آیات میں مذکور میں دونوں جگہ یَشعُرُونَ ایک لفظ ہے کوئی فرق نہیں ۔ اس لئے حضرات مترجمین دونوں کے ترجمہ میں کچھ فرق نہیں فرماتے مگر حضرت شاہ صاحب (رح) اول کا ترجمہ ” نہیں بوجھتے ” اور دوسرے کا ” نہیں سمجھتے ” فرماتے ہیں ۔ فرق اتنا ہے کہ جہاں تامل اور فکر کی حاجت ہوتی ہے اس کے سمجھنے کو ” بوجھنا ” کہتے ہیں حضرت ممدوح کے اس فرق فرمانے سے ادھر اشارہ ہوگیا کہ امر اول یعنی منافقوں کا اپنے نفسوں کو دھوکا دینا اس کے سمجھنے میں کچھ تامل کی حاجت ہے اور امر ثانی یعنی منافقوں کا مفسد ہونا بالکل ایک امر ظاہر ہے ۔ ادنی تامل کی بھی حاجت نہیں ۔ قاضی بیضاوی (رح) نے اس موقع میں لَایَشعُرُونَ اور لَایَعلَمُونَ کا فرق بیان کیا ہے ۔ شاہ صاحب نے یہ کیا کہ ایک لفظ یَشعُرُونَ کو دو موقعوں میں لانے سے بوجہ اختلاف محل جو باریک فرق نکلتا ہے اس کی طرف اشارہ فرما گئے ۔
اس کے بعد عرض ہے کہ ہم یہ چند نظائر چھوٹی بڑی جو شروع قرآن مجید کے صفحہ ڈیڑھ صفحہ کے متعلق ہیں موضح القرآن سے بطور نمونہ اور تنبیہ عرض کردیے ہیں اس کو دیکھ کر ترجمہ موصوف کی خوبی اور کیفیت بالاجمال معلوم ہوسکتی ہے اور ہمارے معروضات سابقہ کی تصدیق کیلئے انشاء اللہ کافی ہیں اور ترجمہ مذکور کا اول سے آخر تک یہی رنگ ہے چناچہ اہل علم پر واضح ہے مگر ہم اس امر سے معذور ہیں کہ جیسا ہم نے بطور نمونہ اس مقام کے متعلق چند نظائر عرض کی ہیں اسی طرح پر تمام ترجمہ کے نظائر اور فوائد کو بیان کریں اور نہ اس کی حاجت ۔ البتہ جو بات قابل تنبیہ ہوگی اس کو اپنے اپنے موقع پر بالاجمال یا بالتفصیل حاشیہ پر فوائد کے ذیل میں انشاء اللہ عرض کردیں گے ۔ اور اہل فہم کو ایک دو جزو غور سے سمجھ لینے کے بعد ان امور کے سمجھنے میں خود سہولت ہوجائے گی ۔
یہ امر بھی عرض کردینے کے قابل ہے کہ حضرت حجۃ اللہ علی العلمین شاہ ولی اللہ قدس سرہ نے جب اول قرآن شریف کا ترجمہ فرمایا تو حاشیہ پر ضروری فوائد بھی کچھ تحریر فرمائے ۔ مگر نہایت مختصر اور مجمل اور بہت کم موقعوں پر جو عام مسلمانوں کو کسی مرتبہ میں بھی کافی نہیں ہوسکتے ۔ اس کے بعد جب حضرت شاہ عبد القادر (رح) نے ترجمہ فرمایا تو حضرت ممدوح نے فوائد کو بھی ایک کافی مقدار ضروری تک بڑھا دیا ۔ جو نہایت مفید اور کار آمد ہیں ۔ مگر مختصر عبارت اور سادہ الفاظ میں کہ بعض مواقع میں ہر کوئی سہولت سے نہیں

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.