Blog

تفسیر ضیاء القرآن

ترجمہ و تفسیر ضیاء القرآن
یہ پیرمحمد کرم علی شاہ ازہری کی لکھی ہوئی تفسیر ہے ، یہ تفسیر قدرے مفصل اور معانی قرآن کے بیان میں بہت ہی واضح ہے، مصنف موصوف کی تفہیم کا انداز بڑا اچھوتا ہے، ہر سورت سے پہلے اس کا اجمالی تعارف ہے خصوصاً سورة کا زمانہ نزول، اس کا ماحول، اس کے اہم اغراض ومقاصد، اس کے مضامین کا خلاصہ اور اگر اس میں کسی سیاسی یاتاریخی واقعہ کا ذکر ہے تو اس کا پس منظر، ترجمہ میں پیراگراف کے ذریعہ لکیریں کھینچ کر اس کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے، نحوی وصرفی اور لغوی مشکلات کو مستند لغات اور تفسیروں سے حل کیا گیا ہے۔
مصنف کا تعارف :
ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری (رح) ایک عظیم صوفی و روحانی بزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مایہ ناز مفسر، سیرت نگار، ماہر تعلیم، صحافی، صاحب طرز ادیب اور دیگر بیشمار خوبیوں کے مالک تھے۔ تفسیر ضیاء القرآن، سیرت طیبہ کے موضوع پر ضیاء النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، 1971 سے مسلسل اشاعت پذیر ماہنامہ ضیائے حرم لاہور، منکرین حدیث کے جملہ اعتراضات کے مدلل علمی جوابات پر مبنی حدیث شریف کی اہمیت نیز اس کی فنی، آئینی اور تشریعی حیثیت کے موضوع پر شاہکار کتاب سنت خیر الانام، فقہی، تاریخی، سیاسی، معاشی، معاشرتی اور دیگر اہم موضوعات پر متعدد مقالات و شذرات آپ کی علمی، روحانی اور ملی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف اور ملک بھر میں پھیلی ہوئی اس کی شاخوں کی صورت میں بر صغیر کی بےنظیر علمی تحریک اور معیاری دینی کتب کی اشاعت و ترویج کا عظیم اشاعتی ادارہ ضیاء القرآن پبلیکیشنز ان کے علاوہ ہیں۔

آپ کا نام پیر ابو الحسنات پیر محمد کرم شاہ الازہری ہے۔
آپکی پیدائش 21 رمضان المبارک 1336 ھ بمطابق یکم جولائی 1918 ء سوموار کی شب بعد نماز تراویح بھیرہ شریف ضلع سرگودھا میں ہوئی۔
آپ نے 1936 ء میں گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا
میں جامعہ پنجاب سے بی۔اے کا امتحان اچھی پوزیشن سے پاس کیا۔
دورہ حدیث
علوم عقلیہ و نقلیہ سے فراغت کے بعد دورہ حدیث شیخ الاسلام حضرت خواجہ قمر الدین سیالوی، سیال شرف کے حکم پر حضرت صدرالافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی سے 1942 ء سے 1943 ء تک مکمل کیا اور بعض دیگر کتب بھی پڑھیں۔
جامعہ الازہر مصر
ستمبر 1951 ء میں جامعہ الازہر مصر میں داخلہ لیا اور ساتھ ہی ساتھ جامعہ قاہرہ سے ایم۔اے کیا۔ جامعہ الازہر سے ایم۔فِل نمایاں پوزیشن سے کیا۔ یہاں آپ نے تقریباً ساڑھے تین سال کا عرصہ گزارا۔
عدالتی امور کی انجام دہی
1981 ء میں 63 سال کی عمر میں آپ وفاقی شرعی عدالت کے جج مقرر ہوئے اور 16 سال تک اس فرض کی پاسداری کرتے رہے۔ آپ نے متعدد تاریخی فیصلے کیے جو عدالتی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔
تصانیف
• ضیاء القرآن
3500 صفحات اور 5 جلدوں پر مشتمل یہ تفسیر آپ نے 19 سال کے طویل عرصہ میں مکمل کی۔
• جمال القرآن
قرآن کریم کا خوبصورت محاوراتی اردو ترجمہ جسے انگریزی میں بھی ترجمہ کیا گیا۔
• ضیاء النبی
7 جلدوں پر مشتمل عشق و محبتِ رسول سے بھرپور سیرت کی یہ کتاب عوام و خواص میں انتہائی مقبول ہے۔ اس کا انگریزی ترجمہ بھی تکمیل پذیر ہے۔
• سنت خیر الانام
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے نصاب میں شامل یہ کتاب سنت اور حدیث کی اہمیت اور حجیت کی موضوع پر لکھی گئی ہے۔ یہ آپ کی پہلی کاوش ہے جو آپ نے جامعہ الازہر میں دورانِ تعلیم تالیف کی۔
ذوالحجۃ 1418 ھ بمطابق 7 اپریل 1998 ء بروز منگل رات طویل علالت کے بعد آپ کا وصال ہوا۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.