Blog

تفسیر در منثور ۔ مترجم

تفسیر در منثور ۔ مترجم ( الدر المنثور فی التفسر بالماثور۔ )
مفسر : علامہ عبدالرحمن جلال الدین سیوطی
اردو ترجمہ : مولانا محمد خالد خان گڑھی،
ترجمہ قرآنی : مولانا عاشق ا الہی البرنی
ناشر : دار الاشاعت
زیر نظر نسخہ : شائع شدہ 2012
زیر نظر سوفٹ وئیر میں تفسیر کی ایک اہم کتاب در منثور بھی شامل ہے۔ یہ در اصل امام سیوطی کی مصنفہ ایک عربی تفسیر ہے الدر المنثور فی التفسیر بالماثور۔ ہمارے سوفٹ وئیر میں اس کا اردو ترجمہ شامل کیا گیا ہے۔
زیر نظر سوفٹ وئیر میں تفسیر کی ایک اہم کتاب در منثور بھی شامل ہے۔ یہ در اصل امام سیوطی کی مصنفہ ایک عربی تفسیر ہے الدر المنثور فی التفسیر بالماثور۔ ہمارے سوفٹ وئیر میں اس کا اردو ترجمہ شامل کیا گیا ہے۔
تفسیر کے اردو ترجمہ کا کام جناب مولانا محمد خالد خان گڑھی صاحب فاضل بنوری ٹاؤن مہتمم جامعہ تعلیم القرآن، کا کیا ہوا ہے۔ اور آیات قرآنی کا اردو ترجمہ مفتی محمد عاشق الہی البری (رح) کا ہے۔
جو نسخہ ہمارے سوفٹ وئیر میں شامل ہے یہ دار الاشاعت اردو بازار لاہور کا طبع شدہ، 2012 کا ایڈیشن ہے۔
تفسیر در منثور کا مختصر تعارف
قرآن کی تفسیر کی 3 اقسام ہیں۔
تفسیر بالروایت، اس کو تفسیر بالماثور بھی کہتے ہیں۔ یہ تفسیر صرف روایات و نقلیات پر مشتمل ہوتی ہے۔
تفسیر بالدرایت : اس کو تفسیر بالرائے بھی کہتے ہیں۔ تفسیر بالاجتہاد ، یعنی وہ تفسیر جو درایات و عقلیات پر حاوی ہو۔
تفسیر بالروایات و الدرایات : یعنی وہ تفسیر جو درایت و روایت دونوں کو جامع ہو۔
تفسیر بالماثور : یعنی وہ تفسیر جس میں قرآن و سنت و اقوال صحابہ کی روشنی میں مراد الہی کو متعین کیا جاتا ہے اور سمجھاجاتا ہے یعنی تفسیر بالماثور ان تفسیروں کا جامع ہوتی ہے : تفسیر القرآن بالقرآن، تفسیر القرآن بالاحادیث، تفسیر القرآن ب اقوال الصحابہ۔
الدر المنثور بھی ایک تفسیر بالماثور ہے جو امام جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی کی مایہ ناز تفسیر ہے جس میں دس ہزار سے زائد احادیث کو جمع فرمایا ہے۔
حضرت شیخ اس کے متعلق خود فرماتے ہیں کہ میں نے یہ ایسی تفسیر مرتب کی ہے جس میں تمام احادیث وآثار کو اسانید کے ساتھ نقل کیا اور جن کتب سے نقل کیا تھا ان کا حوالہ بھی دیا لیکن میں نے دیکھا کہ لوگوں کی ہمتیں کوتاہ ہوگئی ہیں، علم کے حصول کا شوق بھی قدرے ماند پڑگیا ہے اور ان کا ذوق اس تطویل کو پڑے تو میں نے صرف احادیث کے متون پر انحصار کیا اور ساتھ ساتھ ہر روایت اثر کا مخرج بھی ذکر کیا ہے۔
علامہ موصوف نے اس تفسیر میں اس بات کا خصوصی التزام فرمایا ہے کہ اس میں اپنی رائے کو بالکل ذکر نہیں فرمایا۔ یعنی انہوں نے اس تفسیر میں جتنی بھی روایتیں نقل فرمائی ہیں ان میں اپنی رائے کے عمل کو خلط ملط نہیں کی۔
واضح رہے کہ مؤلف نے اس تفسیر میں صحیح و غیر صحیح دونوں قسم کی روایات کو جمع کیا ہے، ان کا ارادہ تھا کہ نظر ثانی کے وقت وہ صحیح کو غیر صحیح روایات سے ممتاز فرمائیں گے لیکن افسوس ! کہ زندگی نے وفا نہ کی اور یہ کام ادھورا رہ گیا، عوام الناس سے خصوصاً گذارش ہے کہ جو موقع سمجھ میں نہ آئے تو اس سلسلہ میں علماء کرام سے رجوع فرمائیں۔ آمین۔
مصنف کا تعارف :
ولادت اور نسب
قرون وسطیٰ کے مسلمان علماء میں علامہ جلال الدین سیوطی اپنی علمی خدمات کی وجہ سے بےانتہا مشہور و مقبول ہیں۔ علامہ سیوطی کی ولادت ہفتہ یکم رجب 849 ھ بمطابق 2 اکتوبر 1445 ء کو مصر کے قدیم قصبے سیوط میں ہوئی، اسی نسبت سے آپ کو سیوطی کہا جاتا ہے ان کا اصلی نام عبدالرحمٰن۔ کنیت ابولفضل، لقب جلال الدین اور عرف ابن الکتب ہے۔۔ سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا جاتا ہے ” عبدالرحمٰن بن کمال الدین ابی بکر بن محمد بن سابق الدین بن فخرالدین بن اصلاح ایوب بن ناصر الدین محمد بن ہمام الحضیری الاسیوطی الشافعی “۔ آپ کے والد کمال الدین ابی بکر نے عباسی خلیفہ [[المستکفی باللہ[[ کے انتقال کے صرف چالیس روز بعد محرم 855 ھ میں خلیفہ قائم بامر اللہ کے عہد میں وفات پائی۔
تعلیمی سفر
8 سال کی عمر میں شیخ کمال الدین ابن الہمام حنفی کی خدمت میں رہ کر قرآن حفظ کیا۔ اس کے بعد شیخ شمس سیرامی اور شمس فرومانی حنفی کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا اور ان دونوں حضرات سے بہت سی کتب پڑحیں۔ آپ کے اساتذہ میں شیخ شہاب الدین الشار مسامی اور شیخ الاسلام عالم الدین بلقینی، علامہ شرف الدین النادی اور علامہ محی الدین کافیجی قابل ذکر ہیں۔ علامہ سیوطی کا یہ اشتغال علمی 864 ھ سے شروع ہوتا ہے ، فقہ اور نحو کی کتب ایک جماعت شیوخ سے پڑھیں۔ علم فرائض شیخ شہاب الدین الشار مسامی سے پڑھا۔ 866 ھ کے آغاز میں ہی آپ کو عربی تدریس کی اجازت مل گئی اور اسی سال آپ نے سب سے پہلے شرح استعاذ، اور شرح بسم اللہ تصنیف کی اور ان دونوں کتب پر آپ کے استاد خاص شیخ عالم الدین بلقینی نے تقریظ لکھی تھی۔ مختلف شیوخ سے علوم و فنون کی تکمیل کے بعد 871 ھ میں افتاء کا کام شروع کیا۔ 872 ھ میں آپ کو دورہ حدیث شریف کا شرف بھی حاصل ہوگیا۔
علمی تبحر
حسن المحاضرہ میں علامہ سیوطی فرماتے ہیں کہ : حق تعالیٰ نے مجھے سات علوم یعنی تفسیر، حدیث، فقہ، نحو، معانی بیان، اور بدیع میں تبحر عطا فرمایا ہے، آپ نے کہا ہے کہ حج کے موقع پر میں نے آبِ زمزم پیا اور اس وقت یہ دعا مانگی کہ علم فقہ میں مجھے علامہ بلقینی اور حدیث میں علامہ ابن حجر عسقلانی کا رتبہ مل جائے ، چناچہ آپ کی تصانیف اور آپ کا علمی تبحر اس کا شاہد ہے کہ آپ کی یہ دعا بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوگئی۔ آپ اپنے زمانہ کے سب سے بڑے عالم تھے، آپ نے خود فرمایا کہ : ” مجھے دو لاکھ احادیث یاد ہیں اور اگر مجھے اس سے زیادہ ملتیں تو ان کو بھی یاد کرتا شاید اس وقت اس سے زیادہ نہ مل سکیں “۔ شیخ شاذلی سے منقول ہے کہ آپ سے جب دریافت کیا گیا کہ آپ سرور ذیشان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دیدار بجہتِ آثار سے کتنی بار مشرف ہوئے تو آپ نے فرمایا : ستر بار سے زائد۔
وفات
علامہ سیوطی نے 61 سال 10 مہینے 18 دن اس عالم ناپائیدار میں گزار کر ایک معمولی سے مرض ہاتھ کے ورم میں شبِ جمعہ 19 جمادی الاول 911 ھ بمطابق 17 اکتوبر 1505 ء میں وفات پائی۔ اس وقت مصر میں عباسی خلیفہ المستمسک باللہ کا عہد خلافت تھا۔ تاریخ الخلفاء کے اختتام پر خود فرماتے ہیں کہ : ” اللہ تعالیٰ سے میں دعا کرتا ہوں کہ وہ نویں صدی ہجری کا فتنہ نہ دکھائے اور اس سے پہلے اپنے حبیب لبیب ہمارے سردار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طفیل اپنے جوارِ رحمت میں بلالے “
تصانیف
علامہ سیوطی کثیر التالیف علماء میں سے تھے، اپنی نادر روزگار 500 سے زاہد تصنیفات کا گراں قدر مجموعہ اپنے پیچھے چھوڑا جن کی فہرستیں مختلف لوگوں نے ترتیب دی ہیں۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.