Blog

تفسیر حل القرآن

تفسیر حل القرآن
نام : حل القرآن
تفسیر میں شامل ترجمہ و نظر ثانی : حکیم الامت مجدد ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی (رح)
مصنف : حضرت مولانا حبیب احمد کیرانوی (رح)
عنوانات و ترتیب : حضرت مولانا مفتی ظفیر الدین صاحب
ناشر : ادارہ تالیفات اشرفیہ :
تفسیر حل القرآن کی امتیازی خصوصیات :
(اس تفسیر کی ابتدا میں حضرت اشرف علی تھانوی (رح) کی لکھی ہوئی ایک تقریظ شامل ہے، جس میں تفسیر ھذا کی خصوصیات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ذیل میں ہم وہی تقریظ نقل کر رہے ہیں)
” بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بعد الحمد والصلوۃ احقر مظہر مدعا ہے کہ میں نے اس تفسیر مسمی بہ ” حل القرآن ” مولف مشفق مکرم جامع فضائل علمیہ و عملیہ مولوی حبیب احمد صاحب کیرانوی سلمہ اللہ تعالیٰ کو شروع سے ختم تک حرفا حرفا دیکھا ہے جو خصوصیات تفسیر کی میرے ذہن میں ہیں ان کو لکھتا ہوں۔
1 ۔ ترجمہ سلیس و شگفتہ ہے جس میں لغت و محاورہ کی کافی رعایت ہے۔ زبان نہ بازاری و مبتذل ہے نہ محض کتابی۔
2 ۔ تفسیر نہ اتنی مختصر ہے کہ مقصود میں مخل ہو نہ ایسی طویل کہ ناظرین کے لیے ممل ہو (اکتا دینے والی)
3 ۔ تفسیر کی تقریر ایسے انداز سے کی گئی ہے کہ اس سے اجزاء قرآنیہ میں نہایت لطیف ارتباط بھی ظاہر ہوگیا۔
4 ۔ طلبہ کے لیے اکثر ترکیب و تقدیر کی طرف مواقع ضرورت میں اشارہ ہے۔ مگر چونکہ زیادہ تر مقصود اس تفسیر سے عوام کا تھا اس لیے اس کا التزام نہیں کیا گیا ۔
5 ۔ کہیں کہیں مجھ کو اختلاف بھی ہوا جس میں بعد کو اتفاق ہوگیا۔ مگر اس اتفاق کی مختلف صورتیں ہیں بعض مقامات پر بعد بحث مترجم کو میری رائے پر اور بعض جگہ مجھ کو مترجم کی رائے پر شرح صدر ہوگیا اور اکثر مقامات ایسے ہی ہیں اور بعض جگہ دونوں اپنی رائے پر رہے۔ سو کہیں تو اس کی طرف حاشیہ میں اشارہ کردیا گیا ہے اور بعض جگہ میں نے اس لیے سکوت کرلیا کہ میرے پاس بجز ذوق کے کوئی نقل صالح للحجۃ نہ تھی نہ عربیت میں میری نظر وسیع ہے۔
6 ۔ بعض جگہ میرے حواشی ملیں گے جن سے میرا جوش وجد ظاہر ہوگا جو غایت استحسان سے ناشی ہوا۔
7 ۔ مترجم نے بعض مسائل میں دوسرے مجتہدین کے قول کو ترجیح دی ہے مگر اس کو جزو تفسیر نہیں بنایا حاشیہ میں ظاہر کردیا ہے۔
8 ۔ بعض توجیہات میں مترجم متفرد ہیں مگر چونکہ قواعد عربیہ و شرعیہ سے خروج نہیں کیا اس لیے اس پر نکیر نہیں ہوسکتا اور غالباً اس سے کوئی صاحب علم خالی نہیں۔
9 ۔ بعض فرق باطلہ کے تمسکات کا موقع حاجت میں جواب بھی دیا گیا ہے اور جواب بھی دلپذیر۔
10 ۔ قصص اور اسباب نزول کے استقصاء کا اہتمام نہیں کیا گیا جس جگہ مقصود قرآنی اس پر موقوف نہ تھا۔ یہ مختصر نمونہ ہے خصوصیات کا، باقی مطالعہ سے جو خصوصیات مشاہد ہوں گی وہ ان کے علاوہ ہیں میری رائے میں عوام و خواص سب کے لیے یہ تفسیر تمام ان ضروریات کے اعتبار سے مفید ہے جو اس حاضر ہیں

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.