Blog

تفسیر جلالین (مترجم)

تفسیر جلالین (مترجم)

پانچ صدی سے یہ تفسیر امت میں متداول و مقبول ہے، یہ تفسیر نہیں؛ بلکہ قرآن پاک کا ” عربی ترجمہ “ ہے، اس میں تفسیری کلمات قرآن پاک کے الفاظ کے برابر ہیں، کہیں کہیں چند الفاظ یا جملے زائد ہیں، اس تفسیر کو پڑھنے پڑھانے اور استفادہ کرنے والے جانتے ہیں کہ شروع سے ” سورة مدثر “ تک ایسا ہی ہے، اس کے بعد تفسیر کے الفاظ آیات سے کچھ زائد ہیں۔
علامہ سیوطی (رح) (٨٤٩ ھ تا ٩١١ ھ) اور علامہ محلی (٧٩١ ھ تا ٨٦٤ ھ) دونوں کا لقب؛ چونکہ جلال الدین ہے؛ اس لیے ان کی تفسیر، ” تفسیر الجلالین “ سے موسوم ہوئی، علامہ سیوطی (رح) کا نام عبدالرحمان ہے، ان کو دولاکھ احادیث یاد تھیں، متعدد فنون پر دست رس حاصل تھی، ” الاتقان في علوم القرآن، لباب النقول في أسباب النزول “ وغیرہ ان کی مشہور تصانیف ہیں، یہ علامہ محلی (رح) کے شاگرد ہیں، جن کا نام محمد بن احمد بن محمد ہے، ان کی مشہور تصانیف میں سرفہرست ” جمع الجوامع “ ہے، علامہ محلی (رح) نے ” سورة کہف “ سے اخیر قرآن تک کی تفسیر لکھی اور شروع سے ” سورة فاتحہ “ کی تفسیر لکھی تھی کہ فرشتۂ اجل آدھمکا، بالآخر علامہ سیوطی (رح) نے اپنے استاذِ محترم کے نہج کو باقی رکھتے ہوئے ہی، تفسیر پوری کی، کوئی عالم محض مطالعہ کی بنیاد پر دونوں کے درمیان خطِ امتیاز نہیں کھینچ سکتا، دونوں شخصیتوں کے سامنے خصوصیت کے ساتھ شیخ موفق الدین (رح) کی دو تفسیریں رہی ہیں، ایک کا نام ” تفسیر کبیر “ ہے، جسے اہل علم ” تبصرہ “ کے نام سے جانتے ہیں اور دوسرے کا نام ” تفسیر صغیر “ ہے، جسے ” تلخیص “ کے نام سے جانا جاتا ہے، ان کے علاوہ تفسیر وجیز، بیضاوی اور ابن کثیر سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.