Blog

تفسیر ثنائی

نام : تفسیر ثنائی
مترجم و مفسر : مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری (رح)
ایک آسان، مختصر اور مخالفین اسلام کے اعتراضات کے جواب پر مشتمل تفسیر، تفسیر ثنائی کے نام سے حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری (رح) (المتوفی ١٩٤٨؁ ء ) نے بھی لکھی۔ یہ سات جلدوں میں تیار ہوئی اور پہلا ایڈیشن ١٨٩٥ ؁ء میں طبع ہوا جس کے بعد بار بار طبع ہوئی اور ہو رہی ہے۔ مولانا ہی کے ترجمہ کو بنیاد بنا کر اور اس پر منتخب حواشی کا اضافہ کر کے حضرت مولانا محمد داؤد راز (رح) صاحب نے ایک نیا ایڈیشن چھاپا جس کی مانگ برابر جاری ہے اور اکثر مارکیٹ میں دستیاب نہیں رہتا۔
یہ تفسیر معروف اہل حدیث عالم مناظر مولانا ثناء اللہ امرتسری کی ہے، اس زمانہ میں مخالفین کی طرف سے جو شبہات اسلام کے خلاف پیش کئے جاتے تھے، مولانا نے ان کا علمی اور تحقیقی جواب دیا ہے اور اسلام کی حقانیت کو ٹھوس دلائل سے ثابت کیا ہے اس تفسیر کے لکھنے کا محرک کیا ہوا ؟ اس کو مولانا کے ایک عزیز نے تفسیر ثنائی کے شروع میں نقل کیا ہے، آیات کا ترجمہ سہل انداز میں کیا گیا ہے تفسیر مختصر مگر جامع ہے، عام طور سے مصنف نے متشابہ آیات کی تفسیر اور بعض نزاعی مسائل میں سلف یعنی متقدمین علماء کے مسلک کو راجح قرار دیا ہے؛ البتہ بعض مقامات پر جمہور علماء کے مسلک سے انحراف بھی کیا ہے، اس لیے ان کے معاصر علماء نے اس تفسیر پر تنقید بھی کی ہے۔
خود مولانا ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں۔ اس تفسیر کے لکھنے کا مجھے دو وجہ سے خیال پیدا ہوا۔ ایک تو میں نے کہا کہ مسلمان عموماً فہم قرآن شریف سے ناواقف بلکہ شناخت حروف سے بھی نا آشنا ہیں۔ ایسے وقت میں عربی تصانیف سے ان کا فائدہ اٹھانا قریب بمحال ہے۔ اردو تفاسیر سے بھی بوجہ کسی قدر طوالت کے عام لوگ مستفید نہیں ہوسکتے۔ نیز ان کا طرز بیان خاص طریق پر ہے۔ دوم میں نے مخالفین اسلام کے حال پر غور کیا تو باوجود بےعلمی اور ہیچمدانی کے مدعی ہمہ دانی پایا۔ خدا کی پاک کتاب پر منہ پھاڑ پھاڑ کر معترض ہورہے ہیں۔ حالانکہ کل سرمایہ ان کا سوائے تراجم اردو کے کچھ بھی نہیں، جن میں بعض تو تحت لفظی ہیں، اور بعض کے محاورات بھی انقلاب زمانہ سے منقلب ہوگئے۔ اس لیے وہ بھی مطلب بتلانے سے عاری ہیں، مع ہذا میں نے قرآن کریم کو جامع علوم عقلیہ اور نقلیہ بالخصوص علم مناظرہ میں امام پایا۔ دعوے پر دلیل ایسے ڈھب کی ادا ہوتی ہے کہ ہر ایک درجے کا آدمی اس سے فائدہ اٹھاسکے۔ گو اس کی فاضلانہ تقریر کے سمجھنے کو بہت بڑے علم اور خوض کامل کی ضرورت ہے۔ گو تراجم بامحاورہ بھی ہوں، مگر جب تک حسب موقع شرح نہ کی جائے۔ عام بلکہ متوسط درجے کے خواص بھی فہم مطالب سے کما حقہ بہرہ ور نہیں ہوسکتے۔ بالخصوص جب کہ ایک مسلسل بیان کی صورت میں لایا جاوے۔ (جیسا کہ اس عاجز نے کیا) تو عجیب ہی لطف پیدا کرتا ہے۔ آج تک ہمارے مفسرین نے اس طرف توجہ نہیں کی، صرف تفسیر رحمانی کے مولف مرحوم و مغفور نے کسی قدر التفات کیا۔ مگر ناظرین اس میں اور ان اوراق میں فرق بین پائیں گے مولف مرحوم کے بیان میں تسلسل نہیں جو ان میں ہے۔ فالحمد للہ علی ذلک۔
پھر میں نے بعض مقامات کے حل مطالب کے لیے شان نزول کا ذکر بھی ضروری سمجھا۔ سو ہر آیت کے متعلق جہاں تک منقول تھا، اس کو بھی نقل کیا اور بعض مقامات میں رد مخالفین کی طرز پر اور بعض جگہ نادان موافقین کے جواب بھی لکھے۔ سو الحمد للہ کہ یہ تفسیر جیسی کہ زمانے کو ضرورت تھی، ویسی ہی تیار ہوئی۔ خدا اس کو قبول فرماوے۔ آمین۔
مصنف کا تعارف :
پیدائش : 1868 ء
وفات : 1948 ء
پورانام مولانا ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری۔ عالم دین۔ امرتسر میں پیدا ہوئے۔ جدی وطن کشمیر تھا۔ مولانا غلام رسول قاسمی ، مولانا احمد اللہ امرتسری ، مولانا احمد حسن کانپوری ، حافظ عبدالمنان وزیر آبادی اور میاں نذیر حسین محدث دہلوی سے علوم دینیہ حاصل کیے۔ مسلک کے لحاظ سے اہل حدیث تھے اور اپنے مسلک کی ترویج کے لیے تمام زندگی کوشاں رہے۔ اخبار اہل حدیث جاری کیا۔ اور بہت سی کتب لکھیں ۔ فن مناظرہ میں مشاق تھے۔ سینکڑوں کامیاب مناظرے کئے ۔ مشہور تصنیف تفسیر القرآن بلکال الرحمن (عربی) ہے۔ دوسری تفسیر ” تفسیرِ ثنائی “ (اردو) ہے۔ 1947 ء میں سرگودھا میں مقیم ہوگئے تھے۔ بعارضہ فالج وفات پائی۔
شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری (رح) برصغیر پاک و ہند کی جامع الصفات علمی شخصیت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بےپناہ خوبیوں اور محاسن سے نواز رکھا تھا۔ مولانا نے جہاں دین اسلام کے لیے اور بہت سی خدمات انجام دیں وہیں قادیانیت کی دیوار کو دھکا دینے میں مولانا نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مرزائیت کے رد میں جس مرد حق نے سب سے زیادہ مناظرے کیے، کتب تصنیف کیں اور مرزا غلام احمد کے چیلنج پر اس کے گھر جا کر اسے مناظرے کے لیے للکارا، اسے دنیا فاتح قادیان شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری (رح) کے نام سے جانتی ہے۔ مولانا محترم نے قادیانیت کے رد میں جو کتب اور رسائل لکھے ہیں، ان میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں : تاریخ مرزا، الہامات مرزا، نکاح مرزا، نکاتِ مرزا، عجائبات مرزا، علم کلام مرزا، شہادت مرزا، چیستان مرزا، محمد قادیانی، بہاء اللہ اور مرزا، فاتح قادیان، فتح ربانی اور مباحثہ قادیانی، شاہ انگلستان اور مرزا قادیان، مکالمہ احمدیہ، صحیفہ محبوبیہ، تحفہ احمدیہ اور بطش قدیر بر قادیانی تفیر کبیر وغیرہ۔ پیش نظر کتاب کا موضوع مولانا ثناء اللہ امر تسری (رح) کے ان کارناموں اور خدمات کا تعارف ہے جو موجودہ صدی میں ملت اسلامیہ کے خلاف اٹھنے والی خطرناک ترین تحریک، قادیانیت کے رد و ابطال میں آپ نے انجام دی تھیں۔
مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری علماء دیوبند اور جماعت اہل حدیث کے مابین ایک نقطۂ اتصال تھے، آپ دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے؛ مگر مسلک ترک تقلید کا ہی رہا؛ تاہم آخر دم تک علماء دیوبند سے بہت قریب کا تعلق رہا، غیرمقلدین میں سے آپ نے مولانا حافظ عبدالمنان وزیرآبادی سے حدیث پڑھی، مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی کے بھی شاگرد تھے، ملک کی سیاسی جدوجہد میں بارہا علماء دیوبند کے ساتھ شریک ہوئے اور فرقہ باطلہ کے رد میں بھی علماء دیوبند کے شانہ بشانہ کام کیا

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.