Blog

تفسیر تدبر قرآن

ترجمہ و تفسیر تدبر قرآن
یہ تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی کی ہے جو مولانا حمید الدین فراہی کے خاص شاگرد ہیں، انھوں نے اپنی تفسیر میں اپنے استاذ کی فکر پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور مصنف کو تقریباً ٥٥ سال اس کے لکھنے میں صرف ہوئے ہیں ۔
اس میں مصنف نے وہ قرآنی فکروفلسفہ پیش کیا ہے جو اس عہد کے چیلنج کا جواب ہے خاص طور پر نظم قرآن اور ارتباط قرآن پر زیادہ زور دیا ہے چوں کہ بعض مستشرقین کا اشکال ہے کہ قرآن کے اندر نظم نہیں ہے، کئی مفسرین نے اس جواب کا بیڑا اٹھایا، ان میں یہ تفسیر بھی ہے جو دس جلدوں میں ہے اور ١٤٠٣ ھ میں ادارہ فاران فاؤنڈیشن سے طبع ہوئی ہے، ترجمہ وتفسیر کی زبان بہت رواں اور شگفتہ ہے ۔
لیکن مصنف کی بہت سی آراء جمہور کی رائے سے مختلف ہیں اور اس طرح کا شذوذ تفسیر میں جابجا ملتا ہے ، ان میں سے غالباً سب سے اہم مسئلہ رجم کا ہے رجم جو احادیث متواترہ سے ثابت ہے مصنف نہ صرف اس کے منکر ہیں؛ بلکہ اپنے نقطۂ نظر کے لیے انھوں نے صحابیٔ رسول حضرت ماعز (رض) اور غامدیہ (رض) کے بارے میں نہایت ہی ناشائستہ اور ناروا الفاظ استعمال کیے ہیں، غالبا مصنف کو اپنے فکری ونظری شذوذ کا خود بھی اندازہ ہے ؛چنانچہ مقدمہ میں لکھتے ہیں :
” جو حضرات میری تحریر پر تنقید کرنے کا شوق رکھتے ہوں وہ شوق سے تنقید کریں؛ لیکن میرے دلائل ہمیشہ پیش نظر رکھیں، اپنی اس خواہش کے احترام کی مجھ سے توقع نہ رکھیں کہ میں وہی کچھ لکھوں جو انھوں نے اساتذہ سے سنا اور اپنی مانوس کتابوں میں پڑھا ہے، کتاب وسنت کے سوا میں کسی چیز کو حجت نہیں سمجھتا اور غور وتدبر میرے نزدیک، انسانی فضائل میں سب سے برتر اور سب سے اعلیٰ فضیلت ہے، میری کوشش یہ ہے کہ ایک مدت دراز سے قرآن وحدیث پر غور وتدبر کی جو راہ مسدود ہے وہ اب کھل جائے اور اگر اس راہ میں مجھ سے کوئی خدمت بن آتی ہے تو مجھے اس میں ہچکچانا نہیں چاہیے “۔
کچھ مصنف کے بارے میں
مولانا امین احسن اصلاحی مدرسہ فراہی کے ایک جلیل القدر عالم دین ، مفسر قرآن اور ممتاز ریسرچ سکالر تھے آپ امام حمید الدین فراہی کے آخری عمر کے تلمیذ خاص اور انکے افکار ونظریات کے ارتقاء کی پہلی کرن ثابت ہوئے
ولادت
امین احسن اصلاحی ضلع اعظم گڑھ کے ایک گاؤں موضع بمہور میں پیدا ہوئے آپ کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے تھا
تعلیم و تربیت
ابتدائی تعلیم و تربیت گاؤں کے دو مکتبوں میں ہوئی سرکاری مکتب میں مولوی بشیر احمد جبکہ دینی مکتب میں مولوی فصیح احمد انکے استاد تھے یہاں سے آپ نے قرآن مجید اور فارسی کی تعلیم حاصل کی جب دس سال کے ہوئے تو آپکے رشتہ کے چچا مولانا شبلی متکلم ندو (مہتمم مدرستہ الاصلاح) کے ایماء پر امین احسن کے والد نے 9 جنوری 1915 ء کو انہیں مدرستہ الاصلاح سرائے میر میں داخل کردیا آپ کو مکتب کے آخری (تیسرے) درجے میں بٹھایا گیا مدرسہ میں مولانا امین احسن اصلاحی نے آٹھ سال میں پرے نصاب کی تعلیم مکمل کی اس عرصے میں آپ نے عربی زبان، قرآن، حدیث، فقہ اور کلامی علوم کی تحصیل کی ، اردو ، فارسی ، انگریزی اور بالخصوص عربی میں دسترس حاصل کی کہ آئندہ کے تحقیق وتدبر کی راہیں خود طے کرسکیں مولانا امین احسن اصلاحی دوران تعلیم ایک ذہین اور قابل طالب علم کی حیثیت سے نمایاں رہے
ابتدائی زندگی
مدرسہ سے فارغ ہوتے ہی مولانا اصلاحی 1922 ء میں اٹھارہ سال کی عمر میں سہ روزہ مدینہبجنور کے نائب مدیر مقرر ہوگئے یہ اخبار ان دنوں تحریک خلافت کا علمبردار اور سیاست میں جمعیت علمائے ہند اور کانگریس کا ہم نوا تھا اخبار کے مالک مجید حسن نے بچوں کے ایک ہفت روزہ غنچہ کی ادارت بھی مولانا کے سپرد کردی مولانا اصلاحی نے مولانا عبدالماجد دریا آبادی اور مولانا عبدالرحمن نگرامی کی زیر نگرانی شائع ہونے والے ہفت روزہ سچ میں بھی کا م کیا
تلمیذیت فراہی
1925 ء میں مولانا اصلاحی صحافت کو خیر باد کہہ کر حمید الدین فراہی کی خواہش پر علوم قرآن میں تخصص کی غرض سے ہمہ وقت مدرستہ الاصلاح سے وابستہ ہوگئے ، مدرسہ میں تدریسی فرائض کی بجا آوری کے ساتھ ساتھ دیگر اساتذہ کے ساتھ مولانا فراہی سے درس قرآن لینے لگے آپ نے مولانا فراہی سے صرف علوم تفسیر ہی نہیں پڑھے بلکہ استاد کے طریقہ تفسیر میں مہارت بھی حاصل کی ، عربی شاعری کی مشکلات میں ان سے مدد لینے کے ساتھ ساتھ سیاسیات اور فلسفہ کی بعض کتب بھی ان سے پڑھیں ،
جماعت اسلامی میں شمولیت 8
جماعت اسلامی کی تشکیل 26 اگست 1941 ء کو ہوئی ، مولانا اصلاحی اگرچہ تاسیسی اجتماع میں شریک نہ ہوئے لیکن انکے مخلصانہ تعلق کے پیش نظر ان کو جماعت اسلامی کے ارکان میں شامل کرکے الہٰ آباد ، بنارس، گورکھپور، فیض آباد، ڈویژن اور صوبہ بہار کا صدر مقام سرائے میر کو قرار دے کر مولانا اصلاحی کو اس کا نائب مقرر کردیا گیا ، کچھ ہی عرصہ میں آپ کو مولانا مودودی اور ارکان شورٰی کے ہاں اتنا اعتماد حاصل ہوگیا کہ آپ کو مولانا مودودی کے جانشین کی حیثیت حاصل ہوگئی ، بعض اختلافات کی بناء پر 18 جنوری 1958 ء کو آپ جماعت سے علیحدہ ہوگئے
تفسیر تدبر قرآن
مولانا فراہی کی محنتوں کا نتیجہ تھا کہ مولانا امین احسن اصلاحی نے ایک ایسی تفسیر قرآن لکھی جو حقیقی معنوں میں فکر فراہی کی غمازی تھی ، تفسیر میں صرف ہونے والی اپنی اور استاد کی محنتوں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ
تفسیر تدبر قرآن پر میں نے اپنی زندگی کے پورے 55 سال صرف کیے ہیں جن میں 23 سال صرف کتاب کی تحریر وتسوید کی نظر ہوئے ہیں اگر اسکے ساتھ وہ مدت بھی ملا دی جائے جو استاذ امام نے قرآن کے غور وتدبر پر صرف کی ہے اور جس کو میں نے اس کتاب میں سمونے کی کوشش کی ہے تو یہ کم وبیش ایک صدی کا قرآنی فکر ہے جو آپ کے سامنے تفسیر تدبر قرآن کی صورت میں آیا ہے ، اگرچہ میں اپنے فکر کو حضرت الاستاذ کے فکر کے ساتھ ملانا بےادبی خیال کرتا ہوں ، لیکن چونکہ واقعہ یہی ہے کہ میں نے عمر بھر استاذ کے سر میں اپنا سر ملانے کی کوشش کی ہے اور میرا فکر انکے فکر کے قدرتی نتیجہ ہی کے طور پر ظہور میں آیا، اس وجہ سے یہ جوڑ ملانے کی جسارت بھی کررہا ہوں ، اگر یہ بےادبی ہے تو اللہ تعالٰیٰ اسے معاف فرمائے تفسیر تدبر قرآن اگست 1980 ء میں مکمل ہوئی
خدمت حدیث
تکمیل تفسیر کے بعد مولانا اصلاحی نے خدمت حدیث کا ارادہ کیا ، چناچہ یکم محرم الحرام 1401 ھ کو ادارہ تدبر قرآن وحدیث کا قیام عمل میں لایا جس کے صدر مولانا اصلاحی اور ناظم خالد مسعود مقرر ہوئے ادارہ کی تحقیقات اور مولانا کے دروس کی اشاعت کیلئے 1981 ء میں مجلہ تدبر کا اجراء ہوا ، اسی طرح ادارہ میں درس قرآن اور حدیث کا ہفتہ وار سلسلہ جاری کیا گیا، 1993 ء میں پیرانہ سالی اور نقاہت کے باعث سلسلہ درس منقطع ہوگیا

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.