Blog

تفسیر المنار۔۔ ترجمہ و تفسیر عروۃ الوثققی

مولانا عبدلکریم اثری صاحب کا تعارف :
آپ کا نام عبدالکریم اثری ولد فضل کریم ولد شمس دین ہے۔ خاندان ” جٹ سپرا “ کے نام سے موسوم ہے جس کے کچھ لوگ دریائے چناب کے اس پار اور کچھ دریا کے اس پار آباد ہیں۔ اس پار سے میری مراد ٹھٹھہ عالیہ ضلع گجرات جو اس وقت دو ضلعوں میں تقسیم ہو کر گجرات اور منڈی بہاؤالدین ہے اور اس پار سے میری مراد حضرت کیلیانوالہ ضلع گوجرانوالہ ہے۔ اس وقت دونوں اطراف کے زیادہ تر لوگ بڑے شہروں میں آباد ہوچکے ہیں جیسے کراچی، لاہور ، رالپنڈی اور اسلام آباد وغیرہ۔
آپ کی پیدائش خاندانی تحریرات کے مطابق اپریل 1934 ء ہے اور سکول، شناختی کارڈ کے لحاظ سے مارچ 1935 ء ہے۔ تقسیم ہند سے قبل میں پرائمری پاس کر کے ایک دیوبندی عالم دین علامہ عبدالمجید صاحب ڈھوک کا سب کے ہاں دینی تعلیم حاصل کر رہا تھا کہ اگست 1947 ء میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ اس کے بعد میں نے اپنے قریبی قصبہ جو کالیاں سے 1949 ء میں مڈل پاس کیا اور قصبہ ہیلاں سے 1951 ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور دینی تعلیم کی تکمیل کے شوق میں گجرات شہر چلا آیا۔
گجرات شہر میں مختلف اداروں سے ہوتے ہوئے 1953 ء کے موسم گرما میں حافظ عنایت اللہ اثری صاحب (رح) کے پاس پہنچ گیا اور باقاعدہ درس نظامی کی تکمیل 1957 ء میں کی اور فارغ اوقات میں ” خوش نویسی “ کا فن بھی حاصل کرلیا بلکہ اپنی ضروریاتِ زندگی بھی اسی کام کے ذریعہ پورا کرتا رہا کہ دورانِ تعلیم بھی میں ہوٹل کا بل ادا کر کے کھانا کھاتا رہا جو گجرات شہر میں ” پرنس ہوٹل “ کے نام سے معروف تھا اور ہوٹل سے کھانا لانے والا ماسٹر بشیر احمد اس بات کی شہادت آج بھی موجود ہے۔
1960 ء میں منشی فاضل اور 1963 ء میں عربی فاضل کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے پاس کیے اور حافظ صاحب موصوف کے مشورہ سے ملازمت نہ کرنے کا فیصلہ کر کے ” کتابت “ کے کام میں لگ گیا۔ اس کی وجہ یہ بھی ہوئی کہ میرے خاندان کی کیلانی برادری کے اکثر لوگ اس فن سے وابستہ تھے۔ کتابت کے شعبہ سے وابستہ ہو کر میں نے براہ راست مختلف اداروں سے کام حاصل کیا اور رات دن محنت کر کے اپنے نجی خاندان کی گرتی ہوئی معیشت کو بحمداللہ سنبھالا دیا۔
اس تفسیر کے لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ اوپر میں نے اشارہ کردیا ہے اور ویسے بھی یہ سوال کوئی معقول نہیں تاہم اس سلسلہ میں عرض ہے کہ تمام متداول تفاسیر خصوصاً ہماری قومی زبان اردو میں مخصوص مکتبہ فکر کی ترجمانی کرتی ہیں چونکہ فی ز ماننا تمام مسلمان خصوصاً برصغیر پاک و ہند میں مختلف مکاتبہائے فکر میں تقسیم ہوچکے ہیں اور تقسیم در تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں اور یہ سلسلہ روز بروز ترقی پذیر ہے اور ہر مکتبہ فکر کے لوگ دوسرے مکتبہ فکر کی کوئی تحریر دیکھنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ ہر مکتبہ فکر کے علمائے گرامی قدر نے دوسرے فکر کی تردید اس طرح کی ہے کہ نفرت پیدا کردی ہے اور یہ صورت حال سب کی آنکھوں کے سامنے ہے چونکہ میرا تعلق کسی بھی مخصوص مکتبہ فکر سے نہیں ہے۔ میں بالکل الگ اور صرف کتاب و سنت سے براہ راست استفادہ کرنے والا انسان ہوں اس لیے اس مسجد میں جمعہ ادا کرنے والے دوستوں نے چاہا کہ ایسی تفسیر ہونا ضروری ہے جس پر کسی مکتبہ فکر کی چھاپ نہ ہو بلکہ فقط اسلام کی ترجمانی کرے جو اسلام کی وسعت کو زمانہ کے حالات کے پیش نظر رکھ کر مرتب کی جائے۔ اگر اس تفسیر کو تفسیر بالماثور نہ کہا جاسکے تو تفسیر بالرائے کے الزام سے بھی بری الذمہ ہو۔ اس طرح یہ بھی کہ آج تک جتنی تفاسیر عربی اردو لکھی جا چکی ہیں ان سب سے یکساں ایک جیسا استفادہ کرنے کے بعد اس کے مضامین منضبط کیے جائیں۔ گویا جس طرح میرا یعنی عبدالکریم اثری کا تعلق ملک عزیز کی کسی بھی سیاسی پارٹی یا مذہبی گروہ بندی سے نہیں بالکل اسی طرح تفسیر ” عروۃ الوثقیٰ “ بھی کسی سیاسی پارٹی یا مذہبی گروہ بندی کی ترجمانی نہیں کرتی اور یہی بات اس کے نام سے واضح اور ظاہر ہوتی ہے کہ جس کی طبیعت میں انقباض ہے وہ اس کے قریب نہیں جاتا۔
تفسیر کے مطالعہ سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ تمام لغات عربی، اردو اور فارسی سے بھی استفادہ کیا گیا ہے اور اس طرح تمام تفاسیر یعنی تفسیر طبری سے لے کر تفسیر روح المعانی تک عربی اور موجودہ تمام تفاسیر اردو یا ترجمہ اردو سے تعاون حاصل کیا گیا ہے گویا کانٹوں سے بچ بچا کر ہر طرح کے پھول چننے کی کوشش کی گئی ہے چاہے وہ خوشبو دینے والے ہوں یا فقط نظر کو پسند آنے والے۔
ہاں ! کوئی طبیعت اگر پھولوں سے نفرت کرنے اور کانٹوں سے محبت رکھنے والی ہو تو ظاہر ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے باعث اس سے استفادہ تو درکنار اس سے نفرت کرے گی بلکہ اس کے نام سے بھی اس کو الرجی ہوگی اور یہ مرض بہرحال لاعلاج ہے۔ ایسی طبائع کے لیے دعا کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے جو بحمداللہ میری طرف سے جاری ہے اور تازندگی رہے گا۔ ان شاء اللہ
نوٹ : یہ مضمون مصنف کی زندگی میں لکھا گیا تھا۔۔ 2015 میں فاضل مصنف وفات پاگئے۔۔ اللہ ان پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.