Blog

تفسیر السعدی

تفسیر السعدی
اس کا اصل نام تیسری الکریم الرحمن فی تفسیر کلام المنان ہے۔ ہمارے سوفٹ وئیر میں اس کا اردو ترجمہ شامل ہے۔ تفسیر کا مختصر تعارف درج ذیل ہے۔
1 ۔ یہ اسرائیلی اور ضعیف روایات سے پاک ہے۔
2 ۔ اس میں صرفی و نحوی مباحث اور الفاظ کی لغوی تحقیق سے بھی بالعموم احتراز کیا گیا ہے۔
3 ۔ احادیث کے حوالوں کا بھی اس میں زیادہ التزام نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود اس کا منہج سلفی تفاسیر کے عین مطابق ہے۔
4 ۔ فقہی اختلافات سے بھی بالعموم گریز کیا گیا ہے۔
5 ۔ بغیر کسی ادعا کے ربط آیات کا ایسا التزام ہے جو تکلف و تعمق سے پاک ہے۔
6 ۔ نہایت سادہ اور سلیس عربی میں ہر آیت کا مفہوم فاضل مفسر نے اپنی خداداد فہم اور قرآنی بصیرت کی روشنی میں واضح کیا ہے۔
7 ۔ قصص و واقعات سے عبر و حکم کا استنباط بھی خوب اور نہایت عجیب ہے۔
8 ۔ اسی طرح بعض آیات سے مسائل کا استنباط و استخراج بھی قابل داد ہے۔
9 ۔ غیر ضروری اور لاطائل مباحث سے بھی یہ تفسیر پاک ہے۔
10 ۔ حشووزوائد اور خواہ مخواہ کی طوالت سے اجتناب کیا گیا ہے۔
مذکورہ خصوصیات کی وجہ سے یہ تفسیر ایک منفرد مقام کی حامل اور عرب علماء میں نہایت مقبول و معروف ہے۔
ترجمے کا کام ایک مشاق، ماہر اور معروف شخصیت جناب پروفیسر طیب شاہین لودھی نے کیا ہے اور نظر ثانی، تنقیح و تہذیب اور حسب ضرورت تعلیق و حواشی کا کام جناب حافظ صلاح الدین یوسف مدیر شعبہ تحقیق و تصنیف و ترجمہ دار السلام لاہور نے کیا ہے
مفسر کا تعارف :
نام، نسب، پیدائش اور ان کی حالت یتیمی میں پرورش :
آپ کا نام ابو عبداللہ عبدالرحمان بن ناصر بن عبداللہ بن ناصر آل سعدی ہے۔ آپ کا تعلق قبیلہ تمیم سے ہے۔ آپ قصیم کے شہر عنیزہ میں 12 محرم 1307 ھ (1887 ء) کو پیدا ہوئے۔
ابتدائی تعلیم :
آپ نے پہلے قرآن کریم پڑھا، پھر اسے حفظ کیا اور گیارہ سال تک اس میں مہارت و ثقاہت حاصل کرتے رہے۔ پھر اپنے شہر کے علماء اور شہر میں موجود بیرونی علماء سے علم حاصل کرنے میں مشغول رہے۔ آپ نے سخت جدوجہد کے ذریعے سے مختلف علمی فنون سے وافر حصہ حاصل کیا۔ اور جب آپ کی عمر 23 برس ہوئی تو مسند تدریس پر متمکن ہوئے۔
اخلاق حمیدہ کی ایک جھلک :
آپ بہترین اخلاق سے متصف ہونے کے ساتھ ساتھ ہر چھوٹے بڑے اور امیر و غیرب کے لیے انتہائی متواضع تھے۔ آپ اپنا کچھ وقت ان لوگوں کے ساتھ گزارتے جو آپ کے ساتھ مجلس کے خواہاں ہوتے۔ اس طرح ان کی مجلس ایک علمی بزم بن جاتی۔
آپ اپنے تمام اعمال میں ادب و احترام، عفت و عصمت پارسائی اور حزم و احتیاط میں بلند مرتبہ پر فائز تھے۔
آپ کو تفسیر میں ید طولی حاصل حاصل تھا، اس لیے کہ آپ کا مطالطعہ تفاسیر خاصا وسیع اور نہایت گہرا تھا، آپ نے کئی جلدوں میں جلیل القدر تفسیر تالیف فرمائی ہے اور آپ نے عدیم الفرصتی کی وجہ سے یہ کام بغیر کتابوں کے فی البدیہ انداز میں کیا ہے۔
آپ کی تالیفات بہت زیادہ ہیں، ہم ان میں سے چند ایک کا ذکر کرتے ہیں :
تفسیر القرآن الکریم المسمی تیسیر الکریم الرحمن۔ اسے 1344 ھ میں مکمل فرمایا۔
حاشیہ علی الفقہ۔ ارشاد اولی البصائر والالباب لمعرفۃ الفقہ باقرب الطرق ایسر الاسباب۔
وفات : آپ نے علم کی خدمت میں تقریبا 69 برس کی طویل عمر گزاری اور قصیم کے شہر عنیزہ میں 1376 ھ (1956) میں وفات پائی اللہ تعالیٰ آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔ (آمین)

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.