Blog

تفسیر الحسنات

نام : تفسیر الحسنات
مصنف : علامہ ابو الحسنات سید محمد احمد قادری
مطبوعہ : ضیاء القرآن پبلی کیشنز
ایڈیشن : 2013
چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل یہ تفسیر ، تفسیری محاسن کا حسین و جمیل مرقع ہے ۔
اس میں رکوعات کے حساب سے تفسیر کی گئی ہے۔ سب سے پہلے آیات کا سلیس اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد مشکل الفاظ کی تحقیق کی گئی ہے ۔ اور اس کے بعد تمام آیات کی مفصل تفسیر کی گئی ہے۔ قرآنی الفاظ کے رسم الخط کے بارے میں بھی قابل قدر معلومات مہیا کی گئی ہے۔ یہ تفسیر کلام پاک کی تفسیر کے ساتھ قرآن پا ک کا علمی پس منظر اور تاریخی گردوپیش بھی مہیا کرتی ہے۔ آیت کی تفسیر کے ساتھ یہ وضاحت بھی ملتی ہے کہ قرآن کے نزول نے دینی سطح پر انقلاب کے ساتھ ساتھ علمی اور تہذیبی زندگی میں کیا انقلابات پیدا کیے۔
تفسیر میں ایسا انداز رکھا گیا عام آدمی اور علماء حضرات دونوں ہی اس تفسیر سے استفادہ کرسکتے ہیں۔
مصنف کا تعارف :
علامہ ابو الحسنات قادری (بھارت میں پیدا ہوئے آپ سید دیدا ر علی شاہ کے فرزند اکبر تھے۔
آپ نے ابتدائی تعلیم کا آغاز پا نچ سال کی عمر میں مفتی زین الدین کے درس سے حفظ قرآن سے کیا حفظ قرآن کے ساتھ ساتھ مراز احمد بیگ سے اردو و فارسی کی مروجہ کتب کا مطالعہ بھی کرتے رہے قاری قادر بخش الوری کی زیر نگرانی قرات و تجوید میں مہارت حاصل 1908 ء میں آپ حفظ قرآن اردو فارسی انشا پر دازی اور قرات و تجوید میں خامی دستر س حاصل کرچکے تو درس نظامیہ کے باقاعدہ طالب علم بنے صرف و نحو اور دیگر فنی کتب دینیہ کا مطالعہ اپنے والد مکرم سے کیا ۔
مولاناابو الحسنات نے پندرہ سال کی عمر میں تفسیر بیضاوی جلالین کتب احادیث منطق و اصول فقہ اور عربی ادب کی کتب پر عبور حاصللیا تھا منتہی کتب کا مطالعہ حضرت مولانا محمد نعیم الدین مراد آبادی اور حضرت مولانا احمد رضا خاں بریلوی سے کیا اور اسناد فضیلت حاصل کیں علم طب آپ نے نواب حامی الدین احمد خاں مراد آبادی سے سیکھا اور تکمیل قرآت کے لئے ریئس القراء مولانا عین القضاء سے سند حاصل کی ۔
مولانا ابو الحسنات نے برصغیر کی ہر سیاسی و دینی تحریک میں اپنا کردا ادا کیا کشمیر چلو کی مہم مسجد شہید گنج کی تحریک، خاکسار تحر یک، احرار کشمکش، مجلس اتحاد، شہادت غازہی علم الدین، مولانا ظفر علی خان کا دم مست قلندر دھر رگڑا، تحریک آزادی ہند اور قیام پاکستان کی تحریکوں میں بھرپور انداز سے حصہ لیا اور ہمشیہ حق کی آواز پر لبیک کہا ۔
نظریہ پاکستان کی تائید و حمایت کے لئے وہ لاہور کے عالم دین تھے جو بنارس سنی کانفرس میں شریک ہوئے اور تاریخ قرار داد پاس کر ا کے قائداغظم کو یقین دلایا کہ بر صغیر کی کو ششوں کو سراہا اور ایک خط میں آپ کا شکریہ ادا کیا آپ نے قیام پاکستان کی تحریک میں بڑی تن دہی اور لگن سے کام کیا ۔ 1945 ١ ء میں آپ پہلی بار حج کے لئے روانہ ہوئے دیار حبیب میں آپ نے عربی زبان میں اتنی فصیح و بلیغ تقاریر کی کہ دنیائے اسلام سے آئے ہوئے تمام علماء نے آپکو خراج تحسین پیش کیا حج کے موقع پر آپ قصید برد ہ شریف عربی میں اس قدر خوش الحانی سے پڑھتے کہ سامعین پر رقت طاری ہوجاتی حج سے واپسی پر آپ نے قصید ہ بردہ شریف کی اردو شرح کی جسے طیب الوردہعلی قصیدہ البردہ کے نام سے شائع کیا گیا ۔
مارچ 1948 ء میں پاکستان بھر کے مذہبی علماء کی ملتان میں عظیم کانفرس بلائی گئی جس میں ملک بھر سے آئے ہوئے سنی علماء نے جمیعتہ العلماء پاکستان کی بنیاد رکھی آپ کو بالا تقاق پہلا صدر منتحب کیا گیا اور آپ تا حیات صدر رہے ۔
قیام پاکستان کے فورا بعد مولانا ابو الحسنات نے صدر بمیعتہ العلماء پاکستان کی حیثیت سے جہاد کشمیر کا اعلان کیا اور غازیان کشمیر کی اعانت کے لئے ملک میں تحریک چلائی عوام نے دل کھول کر کشمیرفنڈجمع کرنے میں حصہ لیا اور مولانا ابو الحسنات کئی بار محاذ کشمیر پر گئے جہاں مجاہدین کے حوصلے بڑھائے اور میدان جنگ میں پہنچ کر فوجیوں و دیگر ضرور یات جمع کر کے پہنچائیں ۔
1952 ء میں تحریک ختم نبوت میں آپ نے مرکزی رہنما کے طور پر حصہ لیا اس تحریک میں اہل سنت دیو بندی شیعہ وہابی احراری جماعت اسلامی غرض کہ ہر مکتب فکر کے علماء نے ابوالحسنات کو اپنا قائد منتحب کیا مولانا ابو الحسنات نے قلمی تبلیغ کو منظم پیمانے پر رواج دیا اور اسلامی موضوعات پر مختلف کتابیں لکھیں آپ کی شائع شدہ تصانیف درج ذیل ہیں ۔
تفسیر الحسنات
اوراق غم
صبح نور
طیب الوردہ علی قصیدہ البردہ
مسدس حافظ الوری
مخمس حافظ
دیوان حافظ (اردو)
ترجمہ کشف المجوب
یہ عظیم زعیم ٢ شعبان 1380 المعظم بروز جمعہ بمطابق 20 جنوری 1961 ء اپنے خالق حقیقی سے جا ملے آپ کی آخریآرام گاہ مزار حضرت داتا گنج بخش کے احاطہ میں ہے ۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.