Blog

ترجمہ عرفان القرآن

پچھلی صدیوں میں اردو زبان میں قرآن حکیم کا کوئی ایسا ترجمہ نہیں کیا گیا، جو سلیس، جامع اور مفصل ہونے کے ساتھ ساتھ زندگی کے جدید تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے عصر حاضر کی ارتقائی علمی سطحوں کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہو۔ ان پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے عرفان القرآن کے نام سے قرآن حکیم کا ایسا ترجمہ پیش کیا ہے، جو اردو بولنے والی دنیا میں ہر خاص و عام اور مکاتب فکر میں یکساں مقبول ہے۔ یہ نہ صرف ہر ذہنی سطح کیلئے یکساں طور پر قابل فہم ہے بلکہ موجودہ دور کی سائنسی تحقیق، قرآنی جغرافیہ اور قرآن پاک میں مذکور مختلف اقوام کے تاریخی پس منظر کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ سلیس، رواں، بامحاورہ یہ ترجمہ قارئین کی خدمت میں روحانی حلاوت، ادب الوہیت اور ادب و تعظیم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تحفہ ہائے گراں قدر بھی پیش کرتا ہے۔
عرفان القرآن اپنی نوعیت کا ایک منفرد ترجمہ ہے جو کئی جہات سے دیگر تراجم قرآن کے مقابلہ میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس کی درج ذیل خصوصیات اسے دیگر تراجم پر فوقیت دیتی ہیں :
* ہر ذہنی سطح کے لیے یکساں قابل فہم اور منفرد اسلوب بیان کا حامل ہے، جس میں بامحاورہ زبان کی سلاست اور روانی ہے۔
* ترجمہ ہونے کے باوجود تفسیری شان کا حامل ہے اور آیات کے مفاہیم کی وضاحت جاننے کے لیے قاری کو تفسیری حوالوں سے بےنیاز کردیتا ہے۔
* یہ نہ صرف فہم قرآن میں معاون بنتا ہے بلکہ قاری کے ایقان میں اضافہ کا سامان بھی ہے۔
* یہ تاثیر آمیز بھی ہے اور عمل انگیز بھی۔
* حبی کیفیت سے سرشار ادب الوہیت اور ادب بارگاہ نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایسا شاہکار ہے جس میں حفظ آداب و مراتب کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔
* یہ اعتقادی صحت و ایمانی معارف کا مرقع ہے۔
* تجدیدی اہمیت کا حامل دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدید ترین اردو ترجمہ ہے، جس میں جدید سائنسی تحقیقات کو مد نظر رکھا گیا ہے۔
* یہ علمی ثقاہت و فکری معنویت سے لبریز ایسا شاہکار ہے، جس میں عقلی تفکر و عملیت کا پہلو بھی پایا جاتا ہے۔
* روحانی حلاوت و قلبی تذکر کا مظہر ہے۔
* اس میں نہ صرف قرآنی جغرافیہ کا بیان ہے بلکہ سابقہ اقوام کا تاریخی پس منظر بھی مذکور ہیں۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.