Blog

ترجمہ حافظ نذر احمد

ترجمہ حافظ نذر احمد
(نام : آسان ترجمہ قرآن، ترجمہ لفظی (3 جلد
(مترجم : حافظ نذر احمد صاحب (رح
ناشر : مسلم اکادمی
زیر نظر نسخہ : شائع شدہ 2013
ہمارے سوفٹ وئیر میں قرآن مجید کے متعدد تراجم شامل ہیں لیکن ان سب میں ترجمہ ھذا کئی اعتبار سے منفرد ہے :
1 ۔ ہر لفظ کا جدا جدا ترجمہ اور پوری سطر کا سلیس ترجمہ یکساں ہے۔
2 ۔ ہر سطر کا ترجمہ اسی سطر میں دیا گیا ہے تاکہ قاری کو اشتباہ نہ ہو۔
3 یہ ترجمہ تینوں مسلک کے علمائے کرام (اہل سنت والجماعت، دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کا نظر ثانی شدہ اور ان کا متفق علیہ ہے۔
4 ۔ اس کا آغاز مصنف نے حرم کعبہ میں بیٹھ کر کیا اور اختتامی سطور بھی حرم کعبہ میں بیٹھ کر لکھیں۔ یہ پہلا ترجمہ قرآن ہے، جس میں ترجمے کا اچھوتا اور منفرد انداز اختیار کیا گیا ہے۔
حافظ نذر احمد
آپ کی پیدائش 1919 ء میں ہوئی، جبکہ انتقال 2011 ء میں ہوا۔ آپ کے والد ماجد کا نام الحاج ضمیر احمد شیخ تھا، جو نگینہ کے رہنے والے تھے۔ نگینہ ہندوستان کے ضلع بجنور کا ایک قصبہ ہے، جو دینی مزاج کے حامل مسلمانوں کا علاقہ تھا۔ اس طرح آپ قرآن السعدین تھے۔ اسباب و وجوہات تو پر دئہ اخفا میں ہیں، تاہم جب حافظ صاحب کی عمر 16 برس کے قریب ہوئی تو آپ نگینہ چھوڑ کر لاہور چلے آئے۔ یہ واقعہ 1935 ء کا ہے، جبکہ پاکستان کی تشکیل 1947 ء یعنی آپ کی ہجرت لاہور سے بارہ برس بعد عمل میں آئی۔ لاہور میں آپ نے گڑھی شاہو کے قریب محلہ محمد نگر میں سکونت اختیار کرلی۔ آخری وقت تک اسی گھر میں رہے۔ یہ چھوٹا سا گھر تھا، جو، اَب بھی ہے۔ آپ کی سلبی اولاد نے اسی گھر میں جنم لیا۔
حافظ صاحب کے تعلقات ملک کے بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ تھے، جن میں حکومت کے چوٹی کے عہدیداران بھی شامل ہیں۔ ہم نے آئی جی سے لے کر وزیر اعلیٰ تک کو ان کے سامنے سراپا عجز دیکھا اور حافظ نذر احمد کو سراپا متوکل اور باوقار پایا۔ نہ لالچ، نہ خواہش، بس خلوص و محبت اور البغض للّٰہ والحب للّٰہ کا مجسم پیکر۔ شہر کے پوش علاقے سمن آباد سے لے کر ماڈل ٹاو¿ن، گلبرگ تک سب آپ کے سامنے آباد ہوئے۔ آپ چاہتے تو اپنے ایک اشارے پر پوش کالونیوں میں بڑے سے بڑا قطع زمین حاصل کرسکتے تھے، لیکن قلندر جز دوحرفے لاالہ کچھ بھی نہیں رکھتا۔ آپ پون صدی محمد نگر کے چھوٹے سے پرانے گھر میں مکین رہے، حتیٰ کہ 3 ستمبر 2011 ء آگیا اور آپ کا جنازہ بھی محمد نگر کی اسی تنگ و تاریک گلی سے اٹھا، جس میں صغیر و کبیر سب شامل تھے۔ کسی کے لئے کوئی امتیاز نہ تھا۔ جنازہ اٹھاتے ہی اللہ نے بارانِ رحمت نازل کردی۔ موسم خوشگوار ہوگیا، اللہ کی طرف سے یہ علامت، رحمت، بخشش و مغفرت اور توبہ کی تھی۔
برصغیر کے پرانے رواج اور طریقے کے مطابق تعلیم کا آغاز کلام الٰہی قرآن مجید سے ہوا۔ آپ کے ماموں حافظ نیاز احمد کا شمار علاقے کے جید اساتذئہ قرآن میں ہوتا تھا۔ آپ نے انہی سے قرآن مجید ناظرہ پڑھا، پھر حفظ کیا۔ ابتدائی کتب عربی، فارسی مدرسہ عربیہ قاسمیہ نگینہ میں پڑھیں۔ آپ کے استاد حافظ نیاز احمد نے کلام اللہ کے ساتھ محبت، عشق کی حد تک بھر دی تھی۔ یہ شوق اتنا بڑھا کہ علم تجوید و قرا¿ت کے حصول کی خاطر قاری محمد سلیمان دیوبندی کی خدمت میں لے گیا۔ قاری محمد سلیمان دیوبندی کا شمار برصغیر کے چوٹی کے اساتذہ قرا¿ت میں ہوتا ہے۔ حافظ صاحب کو علم تجوید و قرا¿ت کے ساتھ بڑا شغف تھا۔ اس حوالے سے ہر کوشش کو خوب پذیرائی بخشتے۔ راقم نے علم تجوید و قرا¿ت کے حوالے سے 1991 ء میں ماہنامہ التجوید جاری کیا تو بہت خوشی کا اظہار فرمایا۔ بہت زیادہ حوصلہ افزائی کی۔ اظہار کے لئے الفاظ قاصر ہیں۔
حافظ نیاز احمد کا دیا ہوا یہی شوق تھا جس کی وجہ سے حافظ نیاز احمد نے آغاز میں آپ کے دل میں قرآن کی جوت جگا دی تھی۔ حافظ صاحب لاہور منتقل ہوئے تو یہی جاگی جوت آپ کو حضرت مولانا احمد علی (رح) کی خدمت میں لے گئی۔ آپ مولانا کے حلقہ درس قرآن میں شریک ہوئے اور علوم قرآن کے مستور باطنی علوم سے آگاہی حاصل کی۔ اس سفر میں آپ کے استاد جناب علامہ علاو¿الدین صدیقی بھی تھے۔ اس طرح علامہ صاحب بیک وقت آپ کے ہم درس، ہم استاد بھی رہے۔ علامہ علاو¿الدین صدیقی صاحب خطبہ جمعہ مسجد شاہ چراغ میں ارشاد فرماتے تھے۔ حافظ صاحب چونکہ علامہ صاحب کے شاگرد بھی تھے، اس لئے جب کبھی کسی وجہ سے جمعہ میں تشریف نہ لاسکتے تو علامہ صاحب خطبہ جمعہ شاہ چراغ کی ذمہ داری حافظ نذر احمد کے سپرد کرکے جاتے تھے۔
حافظ صاحب نے کوچہ سیاست میں بھی قدم رکھا۔ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن جو قائد اعظم (رح) کے نظریات کی حامی تنظیم تھی، جس نے قائد اعظم (رح) کے پیغام کو ہندوستان کی بستی بستی اور قریہ قریہ پھیلایا اور پاکستان کی تشکیل کے لئے فضا ہموار کی۔ 1941 ء میں قائد اعظم (رح) اس تنظیم کی دعوت پر لاہور تشریف لائے اور اسلامیہ کالج میں خطاب بھی فرمایا۔ حافظ صاحب اس جلسے کے آفس سیکرٹری تھے۔ اسی طرح آپ نے مسلم لیگ میں بڑا مثبت کردار ادا کیا، لیکن جب مسلم لیگ میں لالچ کی سیاست در آئی، اقتدار کا حصول ہی مقصد ٹھہرا، سیاست کاروں نے بیسوا کا روپ دھارا تو آپ مسلم لیگ سے مایوس ہوگئے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) کی قائم کردہ جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت اختیار کرلی۔ مولانا عثمانی کے حکم پر صوبہ پنجاب کے نائب ناظم مقرر ہوئے …. علمی آبیاری اور دینی، ملی، قومی، اصلاحی خدمت کے حوالے سے آپ بہت سے اداروں سے وابستہ رہے
آپ نے قرآن کا ترجمہ لکھا۔ اس کا نام آسان ترجمہ قرآن ہے۔ اس کا آغاز آپ نے حرم کعبہ میں بیٹھ کر کیا اور اختتامی سطور بھی حرم کعبہ میں بیٹھ کر لکھیں۔ یہ پہلا ترجمہ قرآن ہے، جس میں ترجمے کا اچھوتا اور منفرد انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اس میں ہر لفظ کے نیچے اس کا لفظی ترجمہ اور پھر بامحاورہ ترجمہ لکھا گیا ہے۔ اس ترجمہ کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کو تمام مکاتب فکر کے اکابر کی تائید حاصل ہے اور سب اس پر متفق ہیں۔ علمی حلقوں میں یہ ترجمہ بہت مقبول ہوا
اس کے بعد آپ نے تعلیم القرآن خط و کتابت سکول کے نام سے ادارہ قائم کرکے اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کی داغ بیل ڈالی، پھر آپ نے اس کا دائرہ پاکستان کی جیلوں تک بڑھایا، تاکہ یہاں پر محبوس قیدی اسلام کی اصلاحی تعلیمات سے روشناس ہوں اور اپنی زندگیوں میں انقلاب برپا کرسکیں
ستمبر 2011 ء کو یہ عظیم شخصیت دنیا سے رخصت ہوگئی، لیکن علمی اور قرآنی خدمات ان کو ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔

Posted in: قرآن مجید

Leave a Comment (0) →

Leave a Comment

You must be logged in to post a comment.